1
Monday 2 Sep 2019 10:59

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار
تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب کی شہادت اور اہل بیت علیہم السلام کی اسیری نے لوگوں پر حقایق روشن کر دئیے، یہاں تک کہ سر زمین شام  کا ماحول (جہاں سالہا سال سے معاویہ اور اس کے افراد کی حکومت تھی) بنی امیہ کے خلاف اور اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں بدل گیا، کیونکہ ابھی تک بنی امیہ کی حکومت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو  کافر، باغی اور خوارج بتاتی تھی اور فریب دینے والے نعروں سے علویوں اور شیعوں کو اذیت و آزار پہنچاتے تھے لیکن آپؑ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر، بدعتوں اور برائیوں کا مقابلہ اور امت کی اصلاح جیسے مقاصد کی خاطر قیام فرمایا اور اپنی شہادت اور اہل حرم کی اسیری کے ذریعے اسلامی معاشرے میں ان اصولوں کو رائج کیا، جن کی وجہ سے ہر آزاد منش انسان کے لئے بنی امیہ سے جہاد کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ معتزلہ اور قدریہ نے بھی قیام کیا۔ اسی طرح کچھ شیعوں نے سلیمان بن صرد خزاعی کی رہبری میں قیام کیا، اس کے علاوہ قیام مختار اور زید بن علی کا قیام قابل ذکر ہے، جنہوں نے قیام عاشورا کو اسوہ اور نمونہ قرار دیا تھا۔

خلاصہ یہ کہ کربلا کے خونین قیام نے مسلمانوں، خاص طور سے شیعوں میں جراٴت، شہامت اور شہادت طلبی کا جذبہ پیدا کیا، جس کے بعد انہوں نے بنی امیہ کے حکمرانوں کی نیند حرام کر دی اگرچہ اس راہ میں سخت شکنجوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ راہ خدا میں شہید ہو گئے۔ معاویہ خلفائے ثلاثہ کی طرح ظاہری طور پر امام حسین علیہ السلام کے لئے غیر معمولی احترام کا قائل تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ امام حسین علیہ السلام مکہ اور مدینہ کے عوام کے یہاں بہت زیادہ ہر دلعزیز ہیں اور آپ کے ساتھ عام افراد جیسا رویہ نہيں اپنایا جا سکتا۔ معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ اس نے حتٰی امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور معاشرتی منزلت کے پیش نظر اپنے بیٹے یزید کو بھی سفارش کی تھی کہ امام کے ساتھ رواداری سے پیش آئے اور آپ سے بیعت لینے کی کوشش نہ کرے ۔۱۔

۵۰ ہجری میں امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے اگرچہ آپ ؑ نے اپنے بھائی کی طرح معاویہ کے خلاف قیام نہیں کیا لیکن وقتا فوقتا حقایق کو برملا کرتے تھے، اور معاویہ اور اس کے عمال کے مظالم اور مفاسد کو لوگوں کے سامنے عیاں کرتے تھے۔ چنانچہ جب معاویہ نے آپؑ کو اپنی مخالفت سے روکا تو آپ ؑ نے مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ایک خط معاویہ کو لکھا  جس میں اس کی سختی سے مذمت کی۔
1۔ تم حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو جو سب کے سب عابد و زاہد تھے اور بدعتوں کے مخالف اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا کرتے تھے۔
2۔ تم نے عمرو بن حمق کو قتل کیا، جو جلیل القدر صحابی تھے جن کا بدن کثرت عبادت کی وجہ سے نحیف و کمزور ہو چکا تھا۔
3۔ تم نے زیاد بن ابیہ کو (جو ناجائز طریقے سے متولد ہوا تھا) اپنا بھائی بنا لیا اور اسے مسلمانوں پر مسلط کر دیا۔ (زیاد ابو سفیان کے نطفہ سے ناجائز طریقے سے پیدا ہوا تھا، اس کی ماں بنی عجلان کی ایک کنیز تھی اور ابوسفیان نے ناجائز طریقے سے اس کے ساتھ ہمبستری کی، جس سے زیاد پیدا ہوا حالانکہ اسلام کا حکم یہ تھا کہا، لولد للفراش و للعاهر الحجر)۔ ۲۔
4۔ تم نے عبداللہ بن یحیٰی حضرمی کو اس جرم میں شہید کیا، کہ وہ علی ابن طالب علیہ السلام کے دین و مذہب ہر عمل کرتا تھا۔ کیا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا دین و مذہب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین و مذہب نہیں تھا، وہی دین جس کے نام پر تم لوگوں پر حکومت کر رہے ہو۔
5۔ تم نے مجھے مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی سے روکا ہے، لیکن میری نظر میں مسلمانوں کے لئے تیری حکومت سے زیادہ بدتر اور کوئی فتنہ نہیں ہے اور میں تم سے جہاد کرنے کو بہترین عمل سمجھتا ہوں۔۳۔

ابن ابی الحدید (الاحداث) میں ابو الحسن مدائنی سے نقل کرتے ہیں، معاویہ نے حکومت سنبھالتے ہی اپنے عمال کو جو مختلف علاقوں میں رہتے تھے، حکم دیا کہ شیعوں کے ساتھ نہایت سخت سلوک کیا جائے اور ان کے نام کو دیوان سے حذف کیا جائے اور بیت المال سے انہیں کچھ نہ دیا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔ معاویہ کے اس حکم کی بنا پر شیعوں کے لئے زندگی گزارنا خاص طور پر کوفہ میں سخت ہو گیا تھا، کیونکہ معاویہ اور اس کے افراد کی جاسوسی کے خوف سے ہر طرف نا امنی پھیل چکی تھی، یہاں تک کہ افراد اپنے خدمتگاروں پر بھی بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ اس نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل و مناقب پر پابندی لگانے کے ساتھ عثمان کے فضائل و مناقب کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنے اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ  عزت و احترام سے پیش آنے کا حکم دیا۔ یہاں تک کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلے میں سابقہ خلفاء کے فضائل میں حدیث گھڑنے اور نشر کرنے کا حکم دیا، تاکہ علی ابن ابی طالب کی شخصیت اور شہرت کم ہو جائے، لیکن اس کے برعکس اس قسم کے دستورات سے اسلامی معاشرے میں حدیث گھڑنے کا رواج عام ہو گیا۔ حضرت علی علیہ السلام اس سے پہلے سے ہی باخبر کرچکے تھے۔

آپ نے فرمایا تھا، "اما انه سیظهر علیکم بعدی رجل رحب البلعوم، مندحق البطن.... الا و انه سیامرکم بسبی و البرءة منی ...."میرے بعد جلد ہی تم پر ایک ایسا شخص مسلط ہو گا جس کا حلق گشادہ اور پیٹ بڑا ہوگا۔ جو پائے گا نگل جائے گا اور جو نہ پائے گا اس کی اسے کھوج  لگی رہے گی، (بہتر تو یہ ہے) تم اسے قتل کرڈالنا لیکن یہ معلوم ہے کہ تم اسے ہر گز قتل نہ کرو گے۔ وہ تمہیں حکم دے گا کہ مجھے برا کہو اور مجھ سے بیزاری کا اظہار کرو۔ جہاں تک برا کہنے کا تعلق ہے، مجھے برا کہہ لینا، اسلئے کہ یہ میرے لئے پاکیزگی کا سبب اور تمہارے لئے (دشمنوں سے) نجات پانے کا باعث ہے لیکن (دل سے) بیزاری اختیار نہ کرنا اس لئے کہ میں دین فطرت پر پیدا ہوا ہوں اور ایمان و ہجرت میں سبقت رکھتا ہوں۔ آپؑ نے اس خطبہ میں جس شخص کی طرف اشارہ کیا ہے اس کے بارے میں بعض نے زیاد بن ابیہ اور بعض نے حجاج بن یوسف اور بعض نے معاویہ کو کہا ہے۔ ابن ابی الحدید  نے آخری شخص کو مصداق قرار دیتے ہوئے معاویہ کے حضرت علی علیہ السلام کو لعن کرنے کے بارے میں  تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کے بعد وہ ان محدثوں اور راویوں کا ذکر کرتا ہے جنہیں معاویہ نے امیر المومنین علیہ السلام کے خلاف احادیث گھڑنے کے لئے درہم و دینار دیا تھا۔ جن میں سے ایک سمرۃ بن جندب تھا جسے ایک لاکھ درہم دیا گیا تھا تاکہ وہ یہ کہے کہ یہ آیت "و من الناس من یعجبک قوله فی الحیاة .." حضرت علی علیہ السلام کی شان میں اور یہ آیت "و من الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ..." ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے۔۵۔

مفسرین کے بقول پہلی آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو ظاہری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کرتا تھا اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا لیکن حقیقت میں وہ منافق تھا، جبکہ دوسری آیت حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ثعلبی مفسر اہلسنت نے اس آیت کی شان نزول کو لیلۃ المبیت قرار دیا ہے۔ ۶۔ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ کئے  گئے صلح پر عمل نہ کرتے ہوئے یزید کو اپنا جانشین معین کیا اور لوگوں سے اس کے لئے بیعت لی، اگرچہ دین اسلام کی کچھ ممتاز شخصیتوں نے اس عمل کی مخالفت کی لیکن اس نے مخالفت کئے بغیر خوف و ہراس اور لالچ دے کر  اپنا مقصد حاصل کیا۔
ابن ابی الحدید معاویہ کی پرخوری کے متعلق لکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ اسے بلایا تو معلوم ہوا کہ وہ کھانا کھا رہا ہے۔ دوسری تیسری مرتبہ جب بھیجا تو یہی بتایا گیا، جس پر آپ ؐ نے فرمایا، "اللهم لا تشبع بطنه" خدایا اس کے پیٹ کو کبھی نہ بھرنا۔ اس بددعا کا اثر یہ ہوا کہ جب کھاتے کھاتے تھک جاتا تھا تو کہتا  تھا، "ارفعوا فوالله ما شبعت و لکن مللت و تعبت" دستر خوان اٹھاؤ  خدا کی قسم میں کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں، مگر پیٹ ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا۔ اسی طرح امیر المومنین علیہ السلام پر سب و شتم کرنا اور اپنے عاملوں کو اس کا حکم دینا تاریخی مسلمات میں سے ہے، جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں اور منبر پر ایسے الفاظ کہے جاتے تھے جن کی زد میں اللہ اور رسولؐ بھی آ جاتے تھے۔

چنانچہ ام المومنین ام سلمی نے معاویہ کو لکھا "انکم تلعنون الله و رسوله علی منابرکم و ذلکم انکم تلعنون علی ابن ابی طالب و من احبه و انا اشهد ان الله احبه و رسوله" تم اپنے منبروں پر اللہ اور رسول پر لعنت بھیجتے ہو وہ یوں کہ تم علی ابن ابی طالب اور ان کو دوست رکھنے والوں پر لعنت بھیجتے ہو اور میں گواہی دیتی ہوں کہ علی کو اللہ اور اس کا رسول بھی دوست رکھتے تھے ۔۷۔ معاویہ نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی اہل بیت علیہم السلام کی مدح میں کوئی حدیث بیان کرے گا، اس کی جان و مال محفوظ نہیں ہیں اور جو شخص تمام اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں کوئی حدیث بیان کرے گا، اسے بہت زیادہ انعام و اکرام دیا جائے گا، اس نے حکم دیا تھا کہ سارے اسلامی ممالک میں منبروں سے علی علیہ السلام کو ناسزا کہا جائے، اور اس نے اپنے مددگاروں کی مدد سے بعض اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں کو قتل کروایا اور ان میں سے بعض کے سروں کو نیزوں پر چڑھا کر شہروں میں پھروایا تھا، وہ عام شیعوں کو جہاں کہیں بھی دیکھتا آزار و اذیت دیا کرتا تھا اور ان سے کہا جاتا تھا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کی پیروی سے باز رہیں اور جو اس حکم کو نہیں مانتا تھا اسے قتل کر دیا جاتا تھا ۔۸۔

60 ہجری قمری میں معاویہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے یزید نے اس بیعت کے مطابق جو اس کے باپ نے اس کے لئے لوگوں سے لی تھی، اسلامی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی اور اس نے مدینہ کے لوگوں سے خاص طور پر چند شخصیات سے بیعت لینی چاہی، جن میں امام حسین علیہ اسلام سرفہرست تھے۔ امام ؑاس کی بیعت نہ کرتے ہوئے مکہ کی طرف نکل گئے اور کچھ مہینے مکہ میں مقیم رہے لیکن جب یزید اور اس کے افراد کے ناپاک عزائم سے آگاہ ہوئے جو آپؑ کو مراسم حج کے ایام میں شہید کرنا چاہتے تھے تاکہ اپنے ناجائز مقاصد تک آسانی کے ساتھ پہنچ جائیں، تو آپ ؑکوفہ کی طرف چلے کیونکہ کوفہ کی اکثریت شیعوں کی تھی اور انہوں نے خطوط کے ذریعے آپؑ کے ساتھ وفادار رہنے اور یزید سے بیزاری کا اعلان کیا تھا لیکن عبید اللہ بن زیاد نے جو کوفہ کا گورنر تھا ڈرا دھمکا کر اور بعض لوگوں کو لالچ دے کر ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا، جس کے نتیجہ میں کربلا کا خونین و دردناک واقعہ پیش آیا اور امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا اصحاب کو پردیس میں مظلومانہ شہید اور آپ کے اہل بیت کو اسیر کیا گیا۔ اگرچہ واقعہ کربلا ظاہری طور پر بنی امیہ اور یزید کی فتح اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی شکست تھی مگر تاریخ اسلام میں اس نے عظیم انقلاب پیدا کیا اور اس کی وجہ سے خواب غفلت میں پڑے مسلمان جاگ گئے اور بنی امیہ کی دین دشمنی اور امام حسین علیہ السلام کی حق طلبی آشکار ہوگئی۔ اس عظیم انقلاب نے معاویہ اور اس کے افراد  کی بیس سالہ گھناؤنی سازش کو خاک میں ملا دیا، جو حضرت علی علیہ السلام اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کے ناموں کو اسلامی معاشرے سے سرے سے ختم کرنا چاہتے تھے اور شیعوں کو غلط طریقے سے معاشرے میں پیش کر رہے تھے۔

چنانچہ شیعہ اور سنی مورخین نے لکھا ہےکہ واقعہ کربلا نے جس طرح مسلمانوں کے دلوں میں بنی امیہ اور یزید سے نفرت پیدا کی، اسی طرح مسلمانوں کو اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نزدیک کرنے اور ان کی محبوبیت میں اضافہ کا باعث بنا تھا۔ اسی طرح مورخین لکھتے ہیں، واقعہ کربلا کے بعد عبیداللہ بن زیاد نے جب بنی امیہ کی حکومت کی بدنامی دیکھی تو عمر بن سعد سے اس خط کو واپس کرنے  کا کہا جس میں اس نے اسے امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن عمر بن سعد نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ میں نے اسے مدینہ بھیج دیا ہے تاکہ لوگ اس خط کو پڑھیں اور مجھے اس ظلم  میں شامل نہ سمجھیں۔ اس کے بعد کہا، خدا کی قسم میں نے اس کے نتیجہ کے بارے میں تجھے آگاہ کیا تھا اور تم سے اس طرح سے بات کی تھی  کہ اگر اپنے باپ سے اس طرح سے بات کرتا تو شاید حق پدری ادا ہو جاتا۔ عبیداللہ کے بھائی عثمان نے ابن سعد کی باتوں کی تائید کی اور کہا میں فرزندان زیاد کی قیامت تک کی ذلت کی زندگی کو ترجیح دیتا اگر یہ لوگ حسین ابن علی کے قتل میں شریک نہ ہوئے ہوتے۔ ابن اثیر لکھتا ہے، "جب سر مبارک امام حسین علیہ السلام کو یزید کےسامنے لایا گیا تو یزید خوشی کا اظہار اور ابن زیاد کی تعریف کر رہا تھا لیکن تھوڑی مدت میں ہی حالات بدل گئے اور سرزمین شام کی فضا    یزید کے خلاف ہو گئی اور لوگوں نے اسے لعن و نفرین کرنا شروع کر دی، جس کی وجہ سے وہ ندامت کا اظہار کرتا تھا اور ابن زیاد کی مذمت کرتے ہوئے کہتا تھا، اسی نے حسین ابن علی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا، کیونکہ حسین ابن علی نے بیعت سے انکار کر کے دور دارز علاقے میں رہنے کے لئے کہا تھا لیکن ابن زیاد نے ان کی بات کو رد کر کے انہیں قتل کیا اور لوگوں کو میرا دشمن بنا دیا"۔ ۹۔

امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب کی شہادت اور اہل بیت علیہم السلام کی اسیری نے لوگوں پر حقایق روشن کر دئیے، یہاں تک کہ سر زمین شام  کا ماحول (جہاں سالہا سال سے معاویہ اور اس کے افراد کی حکومت تھی) بنی امیہ کے خلاف اور اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں بدل گیا، کیونکہ ابھی تک بنی امیہ کی حکومت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو  کافر، باغی اور خوارج بتاتی تھی اور فریب دینے والے نعروں سے علویوں اور شیعوں کو اذیت و آزار پہنچاتے تھے لیکن آپؑ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر، بدعتوں اور برائیوں کا مقابلہ اور امت کی اصلاح جیسے مقاصد کی خاطر قیام فرمایا اور اپنی شہادت اور اہل حرم کی اسیری کے ذریعے اسلامی معاشرے میں ان اصولوں کو رائج کیا، جن کی وجہ سے ہر آزاد منش انسان کے لئے بنی امیہ سے جہاد کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ چنانچہ یکے بعد دیگرے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ معتزلہ اور قدریہ نے بھی قیام کیا۔ اسی طرح کچھ شیعوں نے سلیمان بن صرد خزاعی کی رہبری میں قیام کیا، اس کے علاوہ قیام مختار اور زید بن علی کا قیام قابل ذکر ہے، جنہوں نے قیام عاشورا کو اسوہ اور نمونہ قرار دیا تھا۔ خلاصہ یہ کہ کربلا کے خونین قیام نے مسلمانوں، خاص طور سے شیعوں میں جراٴت، شہامت اور شہادت طلبی کا جذبہ پیدا کیا، جس کے بعد انہوں نے بنی امیہ کے حکمرانوں کی نیند حرام کر دی اگرچہ اس راہ میں سخت شکنجوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ راہ خدا میں شہید ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ یعقوبی، ج2، ص228؛ ابن عثم کوفی، ج4، ص343؛ طبری، ج5، ص303۔  الذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص291۔ الدینوری، کشّی، محمد بن عمر؛ رجال الکشی، ص48.
۲۔ تاریخ یقوبی، ج2، ص 127۔
۳۔الامامۃ والسیاسۃ، ج 1، ص 155 – 157۔
۴۔ نہج البلاغہ، خطبہ 57۔
۵۔ شرح نہج البلاغہ، خطبہ 56، ج 1، ص 355۔
۶۔ بحار الانوار، ج 19، ص 38۔ تفسیر نمونہ، ج 2۔
۷۔ عقد الفرید، ج3، ص 131، ترجمہ نہج البلاغہ علامہ مفتی جعفر حسین، ص20۔
۸۔ شیعہ در اسلام، علامہ طباطبائی، ص 40 -46
۹۔ تاریخ ابن اثیر ،ج2، ص 157۔
خبر کا کوڈ : 814031
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے