QR CodeQR Code

سید حسن نصراللہ کا ایک اور سچ

2 Sep 2019 08:24

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ جب کوئی اعلان کرتے ہیں تو وہ صرف دھمکی یا دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ ایسا اعلان ہوتا ہے، جو ہر صورت میں انجام پاتا ہے۔ سید حسن نصراللہ کے حملے کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے سے روکنے کیلئے جہاں امریکہ نے گاجر اور چھڑی کی پالیسی اپنائی، وہاں اسرائیل نے اپنی تمام تر دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات انجام دیئے، لیکن نیتن یاہو کو آہنی گنبد جیسا اینٹی میزائل سسٹم اس حملے سے نہ بچا سکا۔


اداریہ
محرم الحرام کی مناسبت سے ایک خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کا جواب قطعی اور یقینی امر ہے اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا لالچ اسلامی مزاحمت و استقامت کے جواب کو نہیں روک سکتا۔ سید حسن نصراللہ نے جب سے اسرائیل کو جواب دینے کا اعلان کیا تھا، اس وقت سے نہ صرف اسرائیل میں بلکہ وائٹ ہاوس میں بھی تشویش کی لہر دوڑی ہوئی تھی، البتہ وائٹ ہاوس میں تو صرف تشویش تھی، لیکن اسرائیل کی فوجی چھاونیوں اور فوجی تنصیبات پر سید حسن نصراللہ کی تقریر کے بعد ہنگامی حالات نافذ تھے اور اس دوران اسرائیلی حکام اور فوجیوں پر جس طرح کا خوف و وحشت طاری تھی، اس پر ایک عرب تجزیہ نگار نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ حزب اللہ نے حملے سے پہلے ہی اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔

اسرائیل کے مختلف علاقوں بالخصوص تل ابیب کی پناہ گاہیں ہر طرح کے خطرے کے لئے تیار کر لی گئیں تھیں، لوگوں کے کان خطرے کی سائرنوں کی طرف متوجہ تھے۔ فوجیوں پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی اور ہر ایک اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کر رہا تھا۔ امریکہ نے اسرائیلی عوام کو خوف سے نکالنے کے لئے ایک سیاسی چال چلی اور حزب اللہ کو اس بات کی پیشکش کی کہ اگر وہ اسرائیل پر جوابی حملے کا فیصلہ ملتوی کر دے تو امریکہ حزب اللہ پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دے گا۔ حزب اللہ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا، لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوگئی کہ امریکہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے ہر طرح کا اقدام انجام دینے کے لیے تیار ہے۔ گذشتہ روز شام کے وقت جب یہ خبر عالمی میڈیا میں بریکنگ نیوز بن کر سامنے آئی کہ مقامی وقت کے مطابق چار بجے حزب اللہ کی فوجی شاخ کے ذیلی گروپ شہیدان حسن زیب اور یاسر صہابر گروپ نے اسرائیل کی ایک ولف نامی فوجی گاڑی جو افیفیم چھائونی جا رہی تھی، کو ٹینک شکن میزائل کا نشانہ بنایا ہے، جس میں ایک فوجی کمانڈر سمیت دیگر فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔

اس خبر کی تمام عرب اور غیر عرب ذرائع نے تصدیق کی اور اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ جب کوئی اعلان کرتے ہیں تو وہ صرف دھمکی یا دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ ایسا اعلان ہوتا ہے، جو ہر صورت میں انجام پاتا ہے۔ سید حسن نصراللہ کے حملے کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے سے روکنے کے لیے جہاں امریکہ نے گاجر اور چھڑی کی پالیسی اپنائی، وہاں اسرائیل نے اپنی تمام تر دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات انجام دیئے، لیکن نیتن یاہو کو نہ صرف آہنی گنبد جیسا اینٹی میزائل سسٹم اس حملے سے بچا سکا اور نہ امریکہ کا وہ سٹیلائٹ جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ زمین پر چلنے والی چیونٹی کی حرکت کو بھی درک کرسکتا ہے۔ فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ


خبر کا کوڈ: 814046

خبر کا ایڈریس :
https://www.islamtimes.org/ur/article/814046/سید-حسن-نصراللہ-کا-ایک-اور-سچ

اسلام ٹائمز
  https://www.islamtimes.org