0
Tuesday 3 Sep 2019 07:44

انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین قسم

انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین قسم
اداریہ
انسانی حقوق کی پامالی کی متعدد اقسام ہیں، جو سب کی سب اپنی جگہ پر قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں، لیکن عملی طور پر ایسا ہو رہا ہے کہ جو ترقی یافتہ ممالک انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار اور چمپئن بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ حقییقت میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہوتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے آپ کو بڑا پابند گردانتے ہیں اور کسی حد تک ان ممالک کے قوانین میں انسانی حقوق کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن آج ہر باشعور انسان اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ صرف قانون سازی سے انسانی حقوق کی حفاظت نہیں کی جا سکتی بلکہ حکمرانوں اور ان کے سکیورٹی اداروں کی نیت اور ارادہ زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکہ کی ہے، امریکہ میں ملک کے اندر اگر قیدیوں کے حقوق متعین ہیں تو امریکی انتظامیہ حکومت مخالف یا امریکہ مخالف قیدیوں کے لیے گوانتاناموبے، بگرام یا ابوغریب جیسے عقوبت خانوں کا انتخاب کرکے قیدیوں کے خلاف غیر انسانی مظالم کا ارتکاب کرتی ہے۔

کیا عقل سلیم اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جو اقدام امریکی جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، وہ دوسرے ممالک کی جیلوں یا متنازعہ جزیروں کے عقوبت خانوں میں جائز ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں بھی بین السطور اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ بڑی طاقتیں انسانی حقوق کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ اگر انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کو سامنے رکھ کر عالمی ادارے اپنے فیصلے کرتے تو میانمار، فلسطین، کشمیر، بحرین اور یمن وغیرہ میں جاری انسانی حقوق کی کھلی پامالی پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا یہ کردار ہوتا۔ یورپ میں پرندوں حتیٰ حشرات الارض وغیرہ کے حقوق کا رونا تو رویا جاتا ہے، لیکن ان انسانوں کا کوئی نام نہیں لیتا، جن کے حقوق عالمی سامراجی سازشوں کی وجہ سے بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی پامالی کی ایک نئی قسم جس کا باقاعدہ سلسلہ بحرین کے آل خلیفہ ڈکیٹر خاندان نے شروع کیا ہے، وہ دوسرے ممالک میں بھی سرایت کر رہا ہے، جن ممالک سے شہریوں کی شہریت ختم کرنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، ان میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی حکومت ہندوستان بھی شامل ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کی شہریت منسوخ کر دیتی ہے جبکہ ہندوستان میں یہ اقدام مسلمان آبادیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی ریاست آسام سے موصولہ خبروں کے مطابق مرکزی حکومت نے مسلمان دشمنی کا کھلم کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے انیس لاکھ یعنی ایک لاکھ کم دو ملین مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تقریباً دو ملین مسلمان شہری کہاں جائیں گے اور کن کن ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھائیں گے، اس کا تصور ہی انتہائی بھیانک ہے۔ بحرین نے شیعہ مسلمانوں کی شہریت منسوخ کی، جس پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، اب دیکھتے ہیں کہ ہندوستانی ریاست آسام کے مسلمانوں کے لیے کون آواز اٹھاتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو دنیا میں ایک نئے ملک کی تشکیل ضروری ہو جائے گی، جہاں پر بغیر شہریت شہری اپنی زندگی کے دن پورے کرسکیں۔
خبر کا کوڈ : 814216
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب