0
Tuesday 3 Sep 2019 14:00

جنگ میں پہل کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیئے

جنگ میں پہل کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیئے
تحریر: طاہر یاسین طاہر

آج کل وزیر خارجہ پاکستان، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سفارتی زبان کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق سے جڑی جزئیات کو بھی بڑی مہارت سے بیان کر رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان آیا تھا کہ "امہ کے محافظوں" کے بھارت کے ساتھ مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ اس بیان کی حقانیت اور صداقت میں رتی برابر بھی فرق نہیں، چند ہی روز بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودوی متحدہ عرب امارات گئے تو انہیں وہاں امریکی صدر کے برابر پروٹوکول دیا گیا۔ خوب آئو بھگت ہوئی اور مودی کو متحدہ عرب امارات نے سب سے بڑے ایوارڈ "سول ایوارڈ" سے نوازا۔ ظاہر ہے امہ کے محافظوں کے اس اقدام سے پاکستانی عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر تو متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کے خوب لتے لیے گئے۔

ہم زود فراموش قوم ہیں، جذباتی اور امہ کے تصوراتی پیرہن کو زیبِ تن کرنے والے۔ ورنہ مودی کو تو اس کے گذشتہ دور حکومت میں سعودی عرب نے بھی اپنے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے البتہ یہ کام ایسے وقت میں کیا، جب کشمیر میں مکمل لاک ڈائون ہے۔ بھارت نے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ہی بدل دی۔ میرے پاس اعداد و شمار کی درست معلومات اس وقت نہیں ہیں، شاید 75 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان ہوچکی ہے، مزید کئی معاہدے طے کیے جا چکے ہیں۔ قبلہ والوں کی طرف دیکھیے تو وہاں سے 1000 پاکستانی ڈاکٹروں کی چھٹی کرا دی گئی ہے، یہ کہہ کر کہ پاکستانی تعلیمی اداروں کی میڈیکل کی ڈگری عالمی معیار کی نہیں ہوتی، جبکہ بھارت کی میڈیکل سمیت تعلیم کے تمام شعبوں کی ڈگریاں عالمی معیار کے مطابق ہوتی ہیں۔

وہ جنھوں نے مودی کو سب سے بڑا ایوارڈ دیا، انہیں وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ سے پیوستہ روز فون کرکے کشمیر کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی اور اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو کہا۔ میر تقی میر اس خبر کے سنتے ہی بے طرح یاد آئے،
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

پاکستانی سوشل میڈیا کے بعض مقبول پیجز اور گروپس نے ایک الگ سے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو چاہیئے کہ ایرانی صدر کو بلا کر انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے، کیوں؟ اس لیے کہ مسلم دنیا کا پہلا ملک ہے، جس نے دو ٹوک الفاظ میں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر اپنی پارلیمنٹ کے اندر مذمتی قرارداد پیش کی۔ ایران کے بعد اگر کسی نے آواز بلند کی تو وہ ترکی ہے۔ حالانکہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی مراسم ہیں، جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل، بھارت اور امریکہ و افغانستان کس طرح پاکستان کو ایک جال کے اندر پھانسنے کی چالیں چل رہے ہیں۔

مجھے حیرت ہے ان مذہبی جماعتوں پر جو ہمہ وقت امہ کے محافظوں کے قصیدے پڑھتی رہتی تھیں، ان کے منہ سے مودی کو دیئے گئے سول ایوارڈ کی مذمت میں ایک لفظ نہیں نکلا۔ شاہ محمود قریشی درست فرماتے ہیں، ملکوں کی دوستیاں ایسے نہیں ہوتی ہیں جیسے ہمارے ہاں برادریوں کی تعلق داریاں ہوتی ہیں، بلکہ ملکوں کے باہم مفادات ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے ریاستی مفادات کے بجائے امہ کے ٹھیکیدار بننے کی ٹھانی اور بے شک اس میں نقصان اٹھایا۔ عالمی برادری آج بھی موثر انداز میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر نہیں کر رہی، وجہ؟ پاکستان کی ناکام سفارتی پالیسی ہے۔ ان لوگوں سے باز پرس ضرور ہونی چاہیئے، جو عشروں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور دنیا کو کشمیر کی اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے چندہ اکٹھا کرتے رہے۔

خطے کی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ کشمیر آور سے البتہ دنیا کو ایک توانا پیغام گیا ہے، مگر تا بہ کے؟ ہم کتنا عرصہ کشمیر آور مناتے رہیں گے؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھی کشمیر کا حل نظر نہیں آرہا، کیونکہ بھارت نے اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اس کہنہ مسئلے کو حل کرنا ہوتا تو کب کا یہ معاملہ حل ہوچکا ہوتا۔ تو پھر ہم کیا سمجھیں کہ بھارتی اقدام سے خطے کی ہیئیت تبدیل ہونے والی ہے؟ خطے سمیت دنیا کسی خطرناک تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے؟ متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھارتی وزیراعظم کو دیئے گئے سول ایوارڈ کو اگر کوئی "ماہر تجزیہ کار" گوادر پورٹ کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھے تو معاملات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ یہ ایک سفارتی پیغام بھی ہے کہ گوادر کا سب سے زیادہ نقصان تو یو اے ای کو ہوگا۔

پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کی سازشوں کا مرکز ہے۔ خدانخواستہ کہیں روایتی جنگی جھڑپوں کا آغاز غیر روایتی جنگ کا آغاز نہ کر دے۔ مودی اور ٹرمپ کی ذہنی کیفیت ایک سی ہے، جارحانہ اور نسل پرستانہ۔ عالمی برادری کے فیصلہ ساز ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا کے عدل پسندوں کو اپنی اپنی حکومتوں پر دبائو ڈالنا چاہیئے کہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وہ جو تین چار ہفتوں سے گھروں میں بے یارو مددگار بند  پڑے ہیں، ان سے زندہ رہنے کا حق نہ چھینا جائے۔ لاہور میں سکھ برادری کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دو جوہری ممالک ہیں، جن کے درمیان کشیدگی بڑھی تو اس سے پوری دنیا کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا، جبکہ پاکستان کشیدگی بڑھانے میں کبھی پہل نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کی اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ اگر دو جوہری ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ لیکن وزیراعظم کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا کہ پاکستان کشیدگی بڑھانے میں کبھی بھی پہل نہیں کرے گا، پاکستان کی طرف سے بھارت اور دنیا بھر کے لیے امن کا پیغام ہے۔

دنیا کے فیصلہ ممالک پہلا کام یہ کریں کہ بھارت کے غیر انسانی رویئے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر اس کی مذمت کریں اور کرفیو اٹھوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جہاد کے شوقین بھائیوں سے بھی التجا ہے کہ آج تلوار اور گھوڑے کا زمانہ نہیں۔ جوہری تباہی کیا ہوتی ہے؟ اس کے بارے میں تھوڑا بہت انٹر نیٹ پر ہی ریسرچ کر لیں۔ پاکستان کو بھارت، افغانستان اور امہ کے ٹھیکیداروں کے درمیان ایک سینڈوچ بنانے کی خاکہ نگاری کی جا چکی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ہمیں دانش مندانہ سفارت کاری اور ایک دلیرانہ قومی اتفاق رائے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ پہل جس نے بھی کی، انجام بہت دردناک ہوگا۔ اس لیے جنگی ماحول کی فضا کو تحلیل کرتے ہوئے ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کو اپنی صلاحیتیں صرف کرنی چاہئیں۔ بصورت دگر، جنگ ہوئی تو اس میں کسی ملک کی جیت یا ہار نہیں ہوگی، بلکہ جیت صرف موت کی ہوگی اور انسانیت ہار جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 814253
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب