0
Thursday 5 Sep 2019 22:42

ملتان میں جے یو پی کے زیراہتمام ''ختم نبوت و استحکام پاکستان کانفرنس'' ایم وائی سی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی شرکت

ملتان میں جے یو پی کے زیراہتمام
رپورٹ: ایم ایس نقوی

 جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے زیراہتمام ملتان کے مقامی ہوٹل میں ختم نبوت و استحکام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، کانفرنس کی صدارت ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ اور جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کی۔ کانفرنس میں سینیئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی، سابق وفاقی وزیر مذہبی اُمور صاحبزادہ حامد سعید کاظمی، جمیعت علمائے پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری قاری محمد زوار بہادر، تحریک بحالی امن کے چیئرمین مخدوم سید غلام یزدانی گیلانی، سابق ایم پی اے سید احمد مجتبیٰ گیلانی، جمیعت علمائے پاکستان کے سینیئر نائب صدر سید صفدر حسین گیلانی، جماعت اہلسنت کے صوبائی ناظم اعلیٰ علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی، معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری، مدرسہ ہدایت القرآن کے مفتی محمد عثمان پسروری، پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے بابو نفیس احمد انصاری، جماعت اسلامی کے آصف اخوانی، عوامی تحریک کے رائو عارف رضوی، رکن الدین حامدی، متحدہ مسلم موومنٹ کے ڈاکٹر محمد اکمل مدنی، ممتاز قانون دان حافظ اللہ دتہ کاشف بوسن، چوہدری ذوالفقار سدھو، درگاہ حضرت نواب سخی کے سجادہ نشین مخدوم زوہیب گیلانی، قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین سلطان محمود ملک، جمیعت اہلحدیث کے علامہ خالد محمود ندیم، علامہ عبد الحنان حیدری، علامہ سبطین، صہیب خان اظہری، علامہ ڈاکٹر ارشد بلوچ، مجلس احرار اسلام کے مولانا اکمل سمیت تمام مکاتب فکر کے علماء، وکلا اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

جمیعت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ و ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قادیانیوں کو تحفظ دینے کے لئے حکومت نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی کوشش کی تو پاکستان کے عوام سڑکوں پر ہوں گے، جبکہ سابق صوبائی وزیر حافظ اقبال خاکوانی نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی ربوہ کی لیز ختم ہونے کی وجہ سے سرگودھا میں سستی زمینیں مہنگے داموں خرید کر اپنا مرکز بنانے کی سازش کر رہے ہیں، جبکہ جمیعت علمائے پاکستان کے رہنما محمد ایوب مغل نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو فوری طور پر کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ڈاکٹر محمد ابوالخیر زبیر نے کہا کہ اسرائیل میں مسلمانوں کا نہ تو کوئی دفتر ہے اور نہ ہی کوئی مرکز جبکہ قادیانیوں کا اسرائیل میں مرکز موجود ہے، جو ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ٹرمپ سے ملاقات کرکے پاکستان کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی ہے وہ ان کی پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سرگودھا کے علاوہ قادیانی مختلف علاقوں میں زمینیں خرید رہے ہیں، جمیعت علمائے پاکستان اس پر خاموش نہیں ہے اور اس پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے، ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ثابت کر رہا ہے کہ قوم جاگ رہی ہے، اگر حکمرانوں نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی کوئی کوشش کی تو قوم سڑکوں پر ہوگی اور حکمرانوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ سکھوں کے نام پر کرتار پور بارڈر کھولنے کا اصل مقصد قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جو پاکستان آکر دہشت گردی کریں گے، ہم ہر حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، لیکن حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیئے، سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ختم نبوت کی تحریکوں میں قوم نے جانوں کے نذرانے پیش کیے، جس کے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آج بھی یہ قانون موجود ہے، لیکن قادیانیوں کو تحفظ دینے کی جو سازشیں کی جا رہی ہیں، وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوں گی۔ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے کہا کہ قادیانی کیونکہ جہاد کی نفی اور اسلام کے منکر ہیں اور مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنا چاہتے ہیں، جو لوگ ختم نبوت کا قانون ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ جان لیں کہ قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کے بغیر یہ قانون تبدیل نہیں ہوسکتا اور موجودہ حکومت اکیلے ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، کیونکہ اپوزیشن کبھی بھی اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی روزگار دلانے کے بہانے لوگوں کو بیرون ملک لے جاتے ہیں، ایسے لوگوں کو قادیانیوں کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے۔

 جمیعت علمائے پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری قاری محمد زوار بہادر نے کہا کہ جمیعت علمائے پاکستان اپنے قائد علامہ شاہ احمد نورانی کے مشن پر گامزن ہے، اگر قادیانیوں کو تحفظ دیا گیا تو ملک میں تحریک کا راستہ نہیں روکا جاسکے گا، تحریک بحالی امن کے چیئرمین مخدوم سید غلام یزدانی گیلانی اور سابق ایم پی اے سید احمد مجتبیٰ گیلانی نے کہا کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا راستہ روکنے کے لئے ہمیں متحد ہونا ہوگا، حافظ اقبال خاکوانی نے کہا کہ ہماری مذہبی قیادت کو قادیانیوں کا راستہ روکنے کے لئے جاگنا ہوگا اور اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ 12ربیع الاول کو سرگودھا، ربوہ سمیت قادیانیوں کے دیگر علاقوں میں حضور اکرم  کے میلاد کے جلوس نکالے جائیں اور ختم نبوت کے پیغام کو عام کیا جائے، قادیانیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، جمیعت علمائے پاکستان کے سینیئر نائب صدر سید صفدر حسین گیلانی نے کہا کہ جمیعت علمائے پاکستان کی قادیانیوں کے خلاف تحریک جاری ہے، اب ملی یکجہتی کونسل بھی اس تحریک کا حصہ بن چکی ہے۔ جماعت اہلسنت کے صوبائی ناظم اعلیٰ علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی نے کہا کہ قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں، ان کی سرگرمیوں سے ہمیں جو نقصان پہنچ رہا ہے، اس کا نوٹس لیا جائے۔

معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری نے کہا کہ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی، جس کی تائید قومی اسمبلی کے اندر اور باہر تمام مذہبی اور سیاسی قوتوں نے کی، جس کے نتیجے میں ایک سو سالہ دیرینہ مسئلہ حل ہوا اور قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس موقع پر محمد ایوب مغل نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں، جن کا راستہ روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ آئندہ کسی قادیانی کو کلیدی عہدوں پر نہ لگایا جائے۔ مدرسہ ہدایت القرآن کے مفتی محمد عثمان پسروری نے کہا کہ آج بھی قوم ممتاز قادری اور غازی علم دین شہید کے جذبے سے سرشار ہے، ضرورت پڑی تو قربانی کے لئے تیار ہیں۔
خبر کا کوڈ : 814711
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب