0
Thursday 5 Sep 2019 20:56

یاد شہدائے کربلا منانے والے متوجہ ہوں

یاد شہدائے کربلا منانے والے متوجہ ہوں
تحریر: سید اسد عباس

ایام محرم ہیں اور دنیا بھر میں مسلمان خانوادہ اہل بیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف گریہ کناں ہیں، شہدائے کربلا و اسرائے شام کے دکھوں، مصائب اور تکالیف کی یاد منانے میں مصروف ہیں۔ خانوادہ اہل بیت کے اس درد کو محسوس کرنا انسانیت کی علامت ہے۔ یہ قلوب کی طہارت ہے، جس کے سبب اس پاکیزہ گھرانے کا درد لوگوں کو اپنے غم و تکلیف کو فراموش کرکے فقط اس غم کی فکر میں رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ واقعہ کربلا کی یاد منانے کی تلقین اور اہتمام بھی بے پناہ کیا گیا، رسالت ماب کی رحلت، جناب سیدہ کی رحلت، امیر المومنین کی شہادت، امام حسن کی شہادت، واقعہ کربلا کے فوری بعد مدینہ منورہ میں ہونے والا اندوہناک واقعہ حرہ، مکہ پر حملہ، حضرت زید شہید اور ان کے انصار کی شہادت، توابین کی شہادتیں، محمد نفس زکیہ اور دیگر سادات پر ہونے والے مظالم، باقی آئمہ کی شہادتیں اور مظالم خواہ جس قدر بھی اندوہناک اور ظالمانہ کیوں نہ تھے، ان کی یاد منانے کا اہتمام اس قدر نہیں کیا گیا، جس قدر واقعہ کربلا کی یاد کو اہمیت دی گئی۔

اس اہمیت کے ہدف و مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ تاریخ اسلام میں ہونے والے دسیوں واقعات کے ہوتے ہوئے فقط اس واقعے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے کیوں اس قدر اہتمام کیا گیا۔ اس کی فضیلت بیان کی گئی۔ سطور بالا میں بیان کردہ واقعات اگرچہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی یاد زندہ رکھنا بھی اہم ہے، تاہم کربلا وہ خط امتیاز ہے جو حق اور باطل کے مابین تفریق کو نہایت واضح کرتا ہے، کربلا نہ فقط حق و باطل کا معیار ہے بلکہ ایک اسلوب بھی ہے، جو حق کے دفاع کے لیے راہنمائے عمل ہے، بقول شاعر:
عشق میں کیا بجایئے عشق میں کیا لٹایئے
آل نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر

کربلا نہ فقط درد و الم کی ایک داستان ہے بلکہ آزادی و حریت کا ایک استعارہ ہے، جو ہم کو تعلیم دیتا ہے کہ جب انسان کے سامنے حق پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ذلت اور موت کے مابین ایک راہ کا انتخاب رہ جائے تو ہمیں کس راہ کا انتخاب کرنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے ذلت کو قبول نہ کیا اور اپنا سب کچھ عزت و حرمت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دیا، آپ کا یہ جملہ اسی معنی کو بیان کرتا ہے۔
القتل اولی من رکوب العار و العار اولی من دخول النار

امام کا ایک اور جملہ "ھیھات منا الذلۃ" جو اسی مفہوم پر مشتمل ہے، بہت معروف ہے، دنیا بھر میں حریت پسندوں کا شعار ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے شہادت تک کے اقدامات پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہیں، دنیا کا ہر آزاد اور خوددار انسان امام کے اسوہ کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتا ہے۔ آج انسانیت کے سامنے امام حسین علیہ السلام کی صورت میں وہ اسوہ موجود ہے، جو انسانوں کو کسی بھی ہدف و مقصد کی سربلندی کے لیے راہ عمل دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اور اس کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ خوف ہے۔ ناکامی کا خوف، کر نہ سکنے کا خوف انسان کو روکتا ہے، جس کے سبب بہت سے انسان ان منزلوں کو نہیں پا سکتے، جس تک وہ پہنچ سکتے ہیں۔ انسانی خوف کے اسی عنصر کو ظالم اور جابر حکمران بھی استعمال کرتے ہیں، تاکہ لوگوں پر مسلط رہا جاسکے۔

انسان کو سب سے بڑا خوف اپنی جان، مال، اولاد اور ناموس کا ہوتا ہے۔ ظالم حکمران اسی خوف پر اپنے ظلم کی بنیادیں رکھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ امیر المومنین کی شہادت کے بعد کئی ایک اصحاب رسول اور اصحاب امیر المومنین انتہائی کسمپرسی اور ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے، کئی ایک کو پابند سلاسل کیا گیا۔ یوں معاشرے میں خوف کی ایک ایسی فضا قائم کی گئی کہ کوئی بھی شخص حکومت کے کسی بھی غلط اقدام پر زبان نہ کھول سکے۔ حکومت دین کے نام پر جس عمل کو بھی رائج کرے اسے قبول کیا جائے اور حکومت کو ہی معیار حق تصور کیا جائے۔ امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار اور پھر اس پر تادم شہادت قائم رہ کر خوف کی اس فضا کو تار تار کیا۔ آپ نے معاشرے کو پیغام دیا کہ دین کی بقاء اور سربلندی کے لیے جان، مال، اولاد اور ناموس کے چھن جانے کا خوف کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جناب سیدہ زینب نے آپ کے اس پیغام کو کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں عام کیا۔ خانوادہ عصمت کا اتنے غم اور مصائب جھیلنے کے باوجود حق کو جرات سے بیان کرنا اس وقت کے معاشرے کے لیے حیران کن اور تحریک آور تو تھا ہی اس جرات و بہادری نے قیامت تک کی انسانیت کو جرات و بہادری کا وہ درس دیا، جس سے ظلم آج بھی لرزتا ہے۔

خانوادہ اہل بیت کی یہ جرات و بہادری ہی تھی، جس کے سبب بنی امیہ کی حکومت زیادہ دیر نہ قائم رہ پائی اور آج بھی جہاں ظلم ہوتا ہے، حسین کی صدا ھیھات منا الذلۃ وہاں گونجنے لگتی ہے۔ فلسطین، کشمیر، یمن، بحرین، نائجیریا میں ہم اس صدا کو اپنے کانوں سے سن رہے ہیں۔ یہ مقامات آج میدان کربلا کے کسی مرحلے کی عکاسی کر رہے ہیں اور اس وقت کا عالم اسلام 61 ہجری کے عالم اسلام کے کسی مرحلے کی منظر کشی کر رہا ہے۔ اس مقام پر کربلا کا غم منانے والوں کو متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ سطور بالا میں بیان کردہ عالم اسلام  کے بعض ظلم زدہ خطوں کی صورتحال اور ان کے معاشروں میں رواج پاتا ظلم 61 ہجری کے عالم اسلام کی ہی ایک اور صورتحال کی جانب بھی متوجہ کرتا ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہے کہ غم کربلا کیا فقط غم برائے غم ہے یا اس میں عمل اور تحریک کا بھی کوئی پہلو موجود ہے۔ اگر یہ دکھ عمل اور تحریک سے عاری ہے تو کوفہ اور شام میں سادات کی حالت پر غمگین ہونے والوں اور ہم میں بھلا کیا فرق رہ جاتا ہے۔؟؟؟؟
خبر کا کوڈ : 814724
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب