0
Saturday 7 Sep 2019 08:29

تیسرے مرحلے کا اعلان

تیسرے مرحلے کا اعلان
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعہ کے دن ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے تیسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران نے اس سے پہلے دو مرحلوں کا اعلان کرکے یورنیم کی افزدوگی کی شرح میں اضافے اور اس کو ذخیرہ کرنے کی مقدار بڑھانے کا اقدام شروع کر دیا ہے۔ ایران کو ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے سے روکنے کے لیے دیگر یورپی ممالک کی طرح فرانس نے بھی بھرپور کوشش کی، لیکن ایران اپنے اصولی موقف پر ڈٹا رہا اور اپنے جائز مطالبات پر عمل درآمد کے حوالے سے پورپی ٹرائیکا کی کوئی بات نہیں مانی۔ فرانس نے پوری کوشش کی کہ ایران تیسرے مرحلے کا اعلان نہ کرے اور اس مقصد کے لیے فرانسیسی حکام نے ایرانی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو سات صنعتی ممالک کے اجلاس میں ہنگامی طور پر بلانے کا بنیادی ہدف بھی یہی تھا۔

فرانسیسی صدر نے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، لیکن وہ صدر ایران کو قائل نہ کرسکے۔ آٹھ مئی 2018ء میں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا اعلان کیا تو پورپی ٹرائیکا  (فرانس،برطانیہ،جرمنی) نے ایران کو یقین دلایا کہ امریکہ کے نکل جانے کے باوجود ایٹمی معاہدے کو برقرار رکھا جائے گا اور پورپی یونین معاہدے میں دیئے گئے ایرانی مفادات کا مکمل تحفظ کرے گی۔ مئی 2018ء سے مئی 2019ء تک ایران نے انتظار کیا اور یورپی ممالک نے گیارہ سے زیادہ مختلف وعدے کیے، لیکن اس میں سے ایک پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا، جس کے ردعمل میں 8 مئی 2019ء کو ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے مرحلہ وار سلسلہ کا آغاز کیا۔

ایران اب تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور اس نے معاہدے کی 26 ویں اور 36 ویں شق کے تحت معاہدے کی بعض شقوں کو معطل کرکے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اپنے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ تو اس معاہدے سے 2018ء میں ہی نکل گیا تھا، لیکن یورپی یونین کا ادارہ بھی اس معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے حوالے سے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا ہے۔ یورپی یونین نے بینکنگ اور ایرانی تیل کی فروخت کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے، ان پر بھی کوئی عمل نہیں کیا گیا، اس وقت تک نہ تو انسٹکسٹ Instext پر عمل درآمد ہوسکا اور نہ ہی پندرہ ارب ڈالر کی کریڈٹ لائن بحال ہوسکی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران نے تیسرے مرحلے کا آغاز کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر امریکہ اور یورپی ممالک اپنے دعدوں پر عمل نہیں کریں گے تو ایران بھی کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 814992
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے