1
Saturday 7 Sep 2019 19:23

امریکہ اور عرب اتحاد

امریکہ اور عرب اتحاد
تحریر: سید رحیم نعمتی

انصاراللہ یمن کے سیاسی دفتر کے سیکرٹری محمد البخیتی نے جمعرات کے دن الجزیرہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انصاراللہ نے اب تک امریکی حکام سے کوئی مذاکرات انجام نہیں دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بات مشرق وسطی سے متعلق امور میں امریکی وزیر خارجہ کے مشیر ڈیوڈ شینکر کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہی جس میں اس نے دعوی کیا تھا کہ امریکی حکام حوثی رہنماوں سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہو رہے ہیں۔ ان دو خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب اتحاد میں دراڑ پڑنے اور سعودی اور اماراتی حکام کی جانب سے اس دراڑ کو ختم کرنے کی کوششیں مسلسل ناکام ہو جانے کے بعد اب یمن جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انہیں سعودی اور دیگر عرب حکام سے چشم پوشی کرتے ہوئے یمن جنگ کے خاتمے کیلئے حوثی رہنماوں سے براہ راست بات چیت کرنی پڑے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کی حکومت میں بھی امریکہ نے ایک بار حوثی رہنماوں سے براہ راست مذاکرات انجام دیے تھے۔
 
اس وقت ابھی یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جارحیت کو کچھ مہینے ہی گزرے تھے کہ امریکی حکام نے عمان میں حوثی رہنماوں سے خفیہ مذاکرات انجام دیے لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ اس وقت امریکی حکام سعودی عرب کی جانب سے خلاف فیصلہ کن طوفان اور احیائے امید نامی آپریشنز کے نتیجہ خیز ثابت ہونے سے مکمل طور پر ناامید نہیں ہوئے تھے۔ وہ فوجی طاقت کے ذریعے حوثی قبائل اور انصاراللہ یمن کے خاتمے کے بارے میں پرامید تھے۔ لیکن اس وقت یمن جنگ کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ گذشتہ چار برس کے دوران انصاراللہ یمن اور یمن آرمی نے بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حامی فورسز یمن میں آپس میں دست و گریبان ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوب عبوری کونسل کی فورسز نے سعودی عرب کے حمایت یافتہ منصور ہادی کی فورسز کو عدن اور دیگر چند صوبوں سے نکال باہر کیا ہے جبکہ منصور ہادی کی فورسز کی جانب سے عدن پر دوبارہ قبضے کیلئے انجام پانے والی متعدد کوششیں بھی ناکامی کا شکار ہو گئی ہیں۔
 
یمن کے سابق مستعفی صدر منصور ہادی نے متحدہ عرب امارات پر غداری کا الزام عائد کیا ہے اور جنوب عبوری کونسل کی جانب سے اپنی فورسز کو عدن سے نکال باہر کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ عرب اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ اور ایکدوسرے کے خلاف ٹکراو اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ منصور ہادی اور جنوب عبوری کونسل کے درمیان صلح کی تمام کوششیں بے ثمر ثابت ہوئی ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام نے عرب اتحاد سے مایوس ہو کر حوثی رہنماوں سے خود ہی مذاکرات کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ جس طرح ممکن ہو خود کو یمن جنگ کی دلدل سے باہر نکال سکیں۔ اس امریکی فیصلے کی ایک اور وجہ یمن میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم بھی ہیں۔ حالیہ ایک دو برس میں سعودی اتحاد کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت اس قدر زیادہ ہوئی ہے کہ دنیا بھر میں اس کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہو گئی ہے حتی امریکی کانگریس میں بھی اس صورتحال پر اعتراض کیا گیا ہے۔ امریکہ کے اراکین کانگریس کی جانب سے امریکی دفاعی بجٹ کے بارے میں بل بھی اسی وجہ سے منظور کیا گیا۔ اس بل کا مقصد امریکی حکومت کو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی لاجسٹک سپورٹ سے روکنا تھا۔
 
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بل کو ویٹو کر سکتے ہیں لیکن یمن جنگ میں انجام پانے والے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رسوائی اس قدر زیادہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ صدارتی الیکشن سے پہلے پہلے یمن جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصاراللہ یمن کے نمائندوں نے تہران میں چند یورپی مملک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے انٹیلی جنس کے سربراہ خالد بن محمد آل نہیان اور عمان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد بن سلطان نے بھی مسقط میں انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام سے ملاقات کی ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکی حکام انصاراللہ یمن سے گفتگو میں عرب حکام سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو شمالی کوریا کے سربراہ سے ملاقاتوں اور نہ ہی ایران کے خلاف دباو بڑھا کر مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکے۔ دوسری طرف انہیں آئندہ صدارتی الیکشن مہم کیلئے خارجہ پالیسی میں ایک بڑی کامیابی کی شدید ضرورت ہے۔ لہذا انہوں نے انصاراللہ یمن کا رخ کیا ہے کہ شاید یمن جنگ سے باہر نکل کر کوئی کامیابی حاصل کر سکیں لیکن اس کامیابی کیلئے انہیں بھاری تاوان دینا ہو گا جو خطے میں اپنے اتحادی سعودی عرب سے اپنی راہ جدا کرنے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
 
خبر کا کوڈ : 815059
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے