0
Sunday 8 Sep 2019 07:52

افغان حکومت اور امن معاہدہ

افغان حکومت اور امن معاہدہ
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنی انتخابی مہم میں جو وعدے کیے تھے، ان میں ایک وعدہ افغانستان سے امریکہ افواج کی واپسی کا وعدہ بھی شامل تھا۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات جوں جوں نزدیک آرہے ہیں، تب تب امریکی صدر افغانستان کے بارے میں بے تابی کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ دن پہلے ٹرامپ نے اپنے احمقانہ بیان کو دہرایا تھا کہ افغانستان کے مسئلہ کو فوری حل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں کروڑوں افغان لقمہ اجل بن جائیں گے۔ ٹرامپ نے افغانستان کے بارے میں اپنی بیان بازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ طالبان سے امن مذاکرات معطل کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا طالبان کے ساتھ مذاکرات کابل میں حملے کے بعد معطل کیے ہیں۔ ادھر افغان صدر اشرف غنی نے امریکہ طالبان مذاکرات پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کا دورہ کینسل کر دیا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے خبریں آرہی ہیں کہ چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تیسرے سہ فریقی مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔ تینوں وزائے خارجہ نے سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، اقتصادیات، رابطہ سازی اور افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل جیسے امور پر مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ افغانستان میں امریکی پالیسیوں کی وجہ سے گذشتہ دو عشروں سے داخلی جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے پہلے سویت یونین سے انتقام لینے، بعد میں طالبان سے چھٹکارا پانے اور دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے افغانستان کو جنگ و جدل کا میدان بنایا۔ آج کل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے لیے طالبان اور امریکہ کے درمیان متعدد مذاکراتی دور ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک ان مذاکرات کا کوئی ایسا نتیجہ برآمد نہیں ہوا، جسے افغان حکومت، طالبان گروہ اور افغانستان کے اندر تمام سیاسی و عسکری گروہ تسلیم کر لیں۔

افغان امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد امریکی خواہشات اور مفادات کی تکمیل کے لیے بظاہر امن مذاکرات کا ڈارامہ رچائے ہوئے ہیں، لیکن وہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام میں سنجیدہ نہیں، وہ افغانستان کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر روس، چین، ایران، پاکستان اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں پر نظر رکھنا چاہتا ہے، وہ بظاہر فوجی انخلاء کی بات کرتا ہے، لیکن باقاعدہ امریکہ فوجیوں کی جگہ امریکہ کی پرائیویٹ سکیورٹی فورسز کو افغانستان میں تعینات کرنے کا خواہشمند ہے۔ دوسری طرف طالبان ان مذاکرات سے فائدہ اٹھا کر عالمی برادری سے "امارات اسلامی افغانستان" کا دیرینہ مطالبہ منوانے پر بضد ہیں۔ افغانستان میں مذاکرات کا نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ افغان عوام کے لیے اس میں کوئی خیر کا پہلو نظر نہیں آرہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 815134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب