7
Sunday 8 Sep 2019 22:30

پاکستانی کون، کوفی یا حسینی!؟

پاکستانی کون، کوفی یا حسینی!؟
تحریر:  محمد سلمان مہدی
 
یوں تو اس کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ جو قرآن شریف کی آیت ولایت کے احاطے سے ماوراء ہو، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان پر اس کائنات کے سبھی گوش و کنار تاحال منکشف نہیں ہیں۔ البتہ جو کچھ عام انسان کے سامنے ہے، اسی کو درست طور دنیا کے دیگر انسانوں تک پہنچا دیا جائے تو بھی یہ ایک بڑی نیکی ہوگی۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اور جو کچھ دیکھا، جس تاریخ کا میں خود ایک زندہ کردار ہوں یا اس تاریخ کے جو دیگر کردار ہیں، جن سے میرا تعلق ہے، اسی کی بنیاد پر اس تحریر کا عنوان چنا ہے۔ میں مادر وطن پاکستان کی بات کر رہا ہوں۔ شاید لوگ چونکیں، حیران ہوں کہ کیا واقعی ایسا ہے۔ لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بعض نادانوں کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود، پاکستان مجموعی طور پر حسینی ہے، کوفی ہرگز نہیں ہے۔ مثالیں ان گنت ہیں، مگر چند پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
 
شیعہ مسلمانوں کا تو پورا اسلام ہی قرآن اور اہلبیت ؑ سے منسوب ہے۔ ان کی کیا بات کی جائے، پاکستان کا تو عام سنی بھی، حتیٰ کہ غیر مسلم بھی امام حسین (ع) سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے۔ کسی اور کی نہیں، اپنی زندگی کے واقعات اور دیگر دوستوں کے تجربات پیش خدمت ہیں۔ پاکستان کا حسینی رنگ یہی ہے۔ آپ اسے اپنے اطراف میں بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اپنی داستان سناتا ہوں کہ ہمارا محلہ اور علاقہ سنی گھرانوں پر مشتمل تھا، مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف ثقافتوں کے حامل یہ گھرانے، ان میں اردو زبان بھی تھے تو کوئی پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی، بلوچی، براہوی، گجراتی، راجستھانی زبانیں بولنے والے تھے۔ لیکن جس آدمی کے نام پر ہمارے محلے کا امام بارگاہ تھا، اس کا نام عثمان تھا۔ عزاداری کے جلوسوں کے پرمٹ، امام بارگاہیں ایسے افراد کے نام پر رجسٹرڈ تھے کہ جو محرم صفر کی حد تک عزادار ہوا کرتے تھے۔ مسلکی لحاظ سے وہ سنی ہوا کرتے تھے، مگر اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت پر نازاں تھے، اہل بیت علیہم السلام کو دیگر سبھی ہستیوں سے زیادہ بافضیلت اور سبھی پر مقدم مانتے تھے۔
 
ہماری گلی سے بالکل نزدیک جو امام بارگاہ تھی، وہاں سے ماتمی جلوس اور شبیہ ذوالجناح برآمد ہوا کرتے تھے، البتہ عشرہ محرم کی مجالس نہیں ہوا کرتی تھیں، کیونکہ وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر ایک اور امام بارگاہ پر عشرہ محرم کی مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں۔ اسی امام بارگاہ میں تعزیہ رکھا ہوتا تھا اور بعض دیگر تبرکات بھی۔ ساتویں محرم کو بعد از نماز عشاء ہماری دادی کی عمر کی ایک بوڑھی خاتون جنہیں سب مریم ماں کہتے تھے، وہ پورے محلے کے خواتین کی قیادت کرتے ہوئے امام بارگاہ جاتیں اور انیس سو اسی کے عشرے کے اواخر اور نوے کے عشرے کے اوائل کے وہ ایام مجھے یاد ہیں کہ یہ خواتین وہاں نذر نیاز کیا کرتیں، حتیٰ کہ چاندی کے زیورات تک امام حسین علیہ السلام کی محبت میں وہاں نچھاور کر آتیں۔ یہ یو پی ہندوستان سے نقل مکانی کرکے آنے والا سنی خاندان تھا۔ ان کے پڑپوتے آج بھی محرم میں عزاداری کرتے ہیں۔
 
راجستھان سے ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں میں ایک اور رسم تھی۔ یہ اپنے بچوں کو سبز رنگ کا کرتا پہنایا کرتے تھے یا پھر سبز رنگ کی چادر گلے میں ڈال دیا کرتے تھے اور وہ رشتے داروں کے گھر گھر جا کر محرم کی نیاز کے لئے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔ گو کہ یہ سنی گھرانے تھے اور شیعہ گھرانوں میں اس رسم کو سقہ بنانا کہا جاتا ہے، جبکہ راجستھان کے مہاجروں میں انہیں امام حسین (ع) کا فقیر کہا جاتا تھا۔ ان میں سے بھی کئی گھرانوں کے افراد آج بھی عزاداری میں شریک رہتے ہیں اور یہی حال دیگر زبان بولنے والے گھرانوں کا تھا اور اب بھی ہے۔

ہمارا محلہ بلکہ پورا شہر، محرم میں شیعہ نظر آیا کرتا تھا، صرف مقامی لوگ ہی جانتے تھے کہ یہ سب شیعہ نہیں۔ جگہ جگہ سبیلیں لگا کرتی تھیں۔ پانی اور شربت چوبیس گھنٹے سب کے لئے مہیا تھا۔ آڈیو کیسٹ کا دور تھا، سبیلوں پر اور امام بارگاہوں پر نوحوں کی کیسٹ لگا دی جاتی تھی۔ صرف اذان اور نماز کے احترام میں ٹیپ ریکارڈر یا ایمپلی فائر خاموش کر دیئے جاتے تھے۔ امام بارگاہوں پر نقارے بجائے جاتے تھے۔ دور سے پتہ چل جاتا تھا کہ محرم شروع ہوچکا ہے اور لوگوں میں کربلا کی منفرد جنگ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ کہیں کہیں بحث چھڑ جایا کرتی تھی۔ لیکن ایک نکتے پر سبھی متفق تھے، حسینیت زندہ باد، یزیدیت مردہ باد۔ شب عاشور کو محلوں میں، گلیوں اور بازاروں میں حلیم کی دیگوں پر نوجوان پوری رات جاگ کر گھوٹا لگایا کرتے تھے، تاکہ یوم عاشور کو امام حسین (ع) کے عزاداروں کی خدمت میں پیش کرسکیں اور یہ سنی لڑکے پوری رات نوحے سنا کرتے تھے۔
 
میں پچھلے تیس پینتیس برسوں پر نگاہ کرتا ہوں تو مجھے میرا وطن آل ؑ محمد ﷺ کے عاشقوں کی سرزمین دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یہ پاک وطن اہل بیت ؑ کے زندہ معجزات کی سرزمین دکھائی دیتا ہے۔ کسی کو کوئی مشکل ہوا کرتی تھی تو جناب سیدہ بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا توسل کر لیا کرتے تھے۔ ان کے فضائل اور معجزات کی داستان سن کر شیرینی تقسیم کرکے نذر مان لیا کرتے تھے۔ آج بھی امام بارگاہوں میں لوگ نذر مانتے ہیں، کوئی حضرت عباس علمدار کے علم کی شبیہ پر کوئی دعا مانگتا ہے اور پھر پتہ چلتا ہے کہ لوگوں نے باب الحوائج سے من کی مراد پالی ہے۔ وہ معاشرہ جس میں سنی ماؤں نے اپنی اولادوں کو تعزیوں کے نیچے سے اس لئے گزروایا کہ وہ شہدائے کربلا اور سید الشہداء امام حسین (ع) کی نظر کرم پا جائیں، وہ کیسا معاشرہ ہوگا؟! جن ماؤں نے نذر نیاز کو بارہ اماموں کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔ جو رجب میں امام جعفر صادق (ع) کی یاد میں کونڈوں کی نیاز کیا کرتی تھیں، یہ بھی پاکستانی ہیں۔ معاشرے میں اہل بیت (ع) سے محبت، عقیدت، احترام، ان سنی، شیعہ حسینی ماؤں نے دودھ میں بچوں کو پلایا ہے۔
 
یہی وجہ ہے کہ ہم سنی شیعہ اتحاد کو محسوس کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان میں ہندو، مسیحی اور سکھ بھی امام حسین (ع) کی یاد مناتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اسی لئے میرے جیسے لوگوں کے لئے جنہوں نے عام انسانوں میں اہلبیت علیہم السلام کے لئے محبت اور عقیدت دیکھی ہے، یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ کوئی پاکستانیوں کو کوفی کہے۔ مجھ سے پوچھیں تو پاکستان کہیں محمدی ہے، کہیں فاطمی، کہیں حیدری تو کہیں حسنی تو کہیں حسینی۔ جو پاکستانیوں کو کوفی کہتا ہے، وہ آئینہ دیکھے کہ اس نے کونسی کربلا میں شرکت کرکے حسینی ہونے کا ثبوت دیا ہے، جو وہ خود کو معتبر سمجھتا ہے، جس کا فعل اس کے اپنے قول کی نفی پر مبنی ہو، اسے ایسی بے ہودہ الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیئے۔
 
یہ کسی اور نے نہیں بلکہ غیبت حضرت ولی عصر عج کے دور کے سب سے بڑے عزادار امام خمینی ؒ نے کہا کہ عزاداری سنتی رہے گی، یعنی جیسے چلی آرہی ہے ویسی ہی، چاہے آپ اس کا ترجمہ قدیمی کر لیں چاہیں تو اسے روایتی کہہ لیں۔ امام زمان (عج) کے نائب برحق جس نے پوری مملکت ایران میں معصوم امام (عج) کی غیبت کے پرفتن دور میں نظام ولایت نافذ کیا، جو آج تک کوئی اور نہیں کرسکا، وہ خمینی بت شکن اور اس کا استکبار شکن جانشین امام خامنہ ای، یہ سب عام لوگوں پر مہربان تھے اور ہیں۔ ولی فقیہ سمیت دیگر مراجعین ہر شیعہ سے یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے کام کریں کہ جس سے اہل بیت علیہم السلام کی محبت میں اضافہ ہو اور مکتب بدنام نہ ہو۔ ان سے بڑا دنیا میں کون حسینی ہوگا، اور کون ان سے زیادہ  بڑا عزادار ہوسکتا ہے، ولی فقیہ امام خامنہ ای کہ جن کے مقلدین نے حرم آل رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں کربلائے عصر کی نئی تاریخ رقم کی ہے، یہ امام زادگان عشق، یہ ماتمی عام لوگوں سے محبت کرتے ہیں، انہیں کم تر نہیں سمجھتے، ان کی تضحیک نہیں کرتے!!
 
پاکستان کی سرزمین میں ایک طرف تو وہ محبان اہل بیت (ع) ہیں، جن کی مثالیں یہاں دی گئیں تو ساتھ ہی یہ امام زادگان عشق بھی ہیں کہ جنہوں نے امام زمان (عج) کے نائب برحق خامنہ ای صاحب کے مقلدین کی حیثیت سے بی بی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے مقدس مزار اور دیگر مقامات مقدسہ کا دفاع کیا۔ ولی فقیہ، مراجعین، حسن نصراللہ جیسے قائدین مقاومت عام لوگوں کو کوفی نہیں کہتے بلکہ اکرم الناس، اشرف الناس کہتے ہیں۔ پاکستان کے کربلائی بھی اپنے حصے کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اگر کوئی پس زنداں ہے، غیر اعلانیہ قیدی بنا دیا گیا ہے، اگر کہیں کسی کو دہشت گرد گولی مار کر یا دھماکہ کرکے مار رہا ہے تو یہ قیدی یا شہید کربلائی عشق علی ؑمیں میثم تمار کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
 
جی ہاں، یہ پاکستان علامہ عارف حسینی، ڈاکٹر محمد علی نقوی، مظفر کرمانی، ناصر صفوی، سبط جعفر، آغا آفتاب حیدر جعفری جیسے عظیم بیٹوں کا مادر وطن ہے۔ سلام پاکستان کی سرزمین کے ان غیرت مند کرداروں پر، ان شہداء پر، ان غازیوں پر، ان قیدیوں پر، ان امام زادگان عشق پر، ان شمع حسینی کے پروانوں پر، ان عزاداروں پر، اہل بیت ؑ کے حبداروں پر کہ آج بھی پاکستان میں یاحسین (ع) کا نعرہ، یزیدیت کی شکست بن کر گونج رہا ہے اور اباالفضل غازی عباس کا علم فضاء کا سینہ چیرتے ہوئے لہرا رہا ہے، کیونکہ مجموعی طور پر پاکستانی حسینی ہیں، کوفی نہیں!!  اور جو مٹھی بھر کوفی ہیں، تو ان کو کوفی کہنے کی ہمت بھی صرف انہی حسینیوں میں ہے، جو میدان میں موجود ہیں، پولیس کی لاٹھیاں، جھوٹے مقدمات، دھونس، دھمکی، زندان کو جھیل کر بھی سرور و سالار شہیدان کی یاد منانے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے ہیں، کیونکہ یہ حجرہ نشین منہ کے مجاہد نہیں ہیں۔ انہی میں وہ ایک سنی عزادار بھی ہے، جو ماتمی جلوس پر تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا، مگر آج  بھی مولا حسین (ع) کا عزادار ہے، کیونکہ حسینی ہے، کوفی نہیں ہے جناب!!
خبر کا کوڈ : 815245
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے