0
Monday 9 Sep 2019 07:59

ایٹمی بھتہ خوری اور متمدن کا حقیقی مفہوم

ایٹمی بھتہ خوری اور متمدن کا حقیقی مفہوم
اداریہ
دنیا میں غلبے کی جنگ جاری ہے اور دنیا پر قابض بڑی طاقتیں اپنے اپنے انداز سے مختلف ممالک پر غلبہ پانے کی اسٹریٹجی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ امریکہ اس وقت عالمی سامراج کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کے پیچھے صہیونی لابی نیز یورپی ممالک کی بھرپور حمایت شامل ہے۔ بدقسمتی سے عرب ممالک پر قابض ڈکٹیٹر حکمران بھی اپنی بادشاہتوں کو بچانے کے لئے سامراجی طاقتوں کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ آج عالمی برادری میں جو ملک امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اور امریکی حکام کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا، اسے کبھی اقتصادی پابندیوں کے شکنجے میں کسا جاتا ہے، کبھی اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور بعض اوقات تو انتہاء کر دی جاتی ہے، اس تک بنیادی ضروریات حتیٰ زندگی بجانے والی ادویات بھی نہیں پہنچنے دی جاتیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کا ظالمانہ سامراجی رویہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ آئے دن نئی سے نئی پابندی امریکہ کا وطیرہ بن چکا ہے۔

آج کی دنیا کے مختلف ممالک کی ترقی و پیشرفت کے لئے ایٹمی ٹیکنالوجی بنیادی و اساسی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ لیکن اس ٹیکنالوجی پر بھی امریکہ اور اس کے چند یورپی حواریوں نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ این پی ٹی جیسا عالمی معاہدہ اور آئی اے ای اے جیسا عالمی ادارہ قائم کرنے کے باوجود عالمی طاقتیں آزاد و خود مختار ممالک پر اپنی مرضی کی ایٹمی پالیسیاں مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایران این پی ٹی کا ممبر ہے اور عالمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، اس عالمی ادارے کی درجنوں رپورٹس اور بیسیوں معائنے اس بات کی تائید کرچکے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی طرح کا انحراف نہیں۔ اس تائید کے باوجود امریکہ اور یورپی ممالک کا رویہ سب کے سامنے ہے۔ ایران نے پانچ جمع ایک ممالک کے ساتھ کئی سالوں کی کوشش کے بعد ایٹمی معاہدہ بھی انجام دیا، لیکن یہ معاہدہ بھی امریکہ کے معاہدے سے نکلنے اور یورپی ٹرائیکا کے لیت و لعل سے کھٹائی میں پڑگیا ہے۔

ایران نے اس معاہدے کی روشنی میں جب بعض شقوں پر عملدرآمد میں سطح کم کرنے کا اعلان کیا تو امریکی حکام اس پر سیخ پا نظر آرہے ہیں اور ایران کو ایٹمی بھتہ خوری کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے ان تمام بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کیا بھتہ خوری وہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر2231 کی خلاف ورزی اور جو اس پر قائم ہے، کو سزا دینا ہے۔؟ جواد ظریف کا مزید کہنا ہے، کیا بھتہ خوری وہی تیل چوری کرنے کے لئے رشوت کی تجویز دینا ہے اور وہ جو اس تجویز کو نہیں مانتے ہیں، ان کے خلاف پابندیان لگانا ہے۔؟ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شاید بھتہ خوری سے مراد ایران کی جانب سے امریکہ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں ایرانی عوام کو بھوک سے مارنے کا پلان ہے۔؟ جواد ظریف نے امریکی وزیر خارجہ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے "مائیک پمپیو تمہیں معلوم ہے کہ متمدن کے معنی کیا ہیں اور کیا شادی کی تقریب پر ڈرون طیاروں کی بمباری اور بے گناہ افراد کو لہولہان کرنا آپ کی نگاہ میں متمدن ہونا ہے۔؟؟؟
خبر کا کوڈ : 815328
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب