0
Monday 9 Sep 2019 12:30

کربلائے کشمیر موت و حیات کی کشمکش میں ہے

کربلائے کشمیر موت و حیات کی کشمکش میں ہے
تجریر: سید اسد عباس

کشمیر میں پانچ اگست سے کرفیو ہے، ایک ماہ چار دن گزر چکے ہیں، نہ کوئی سکول کھلا ہے نہ ہسپتال، نہ کوئی دکان کھلی ہے نہ ہی عبادت خانہ۔ ایک گھر میں اگر ایک ماہ تک اشیائے ضرورت نہ آئیں، دوائی نہ آئے، گیس، پیٹرول نہ آئے تو کیا اس گھر کے باسی زندہ تصور کیے جاسکتے ہیں۔ مودی سرکار نے کشمیریوں کا رابطہ بیرونی دنیا سے کاٹ دیا ہے۔ کتنے بزرگ دوائی کی عدم دستیابی کے سبب دم توڑ چکے ہیں، کتنے بچے دوائی اور خوراک کے لیے بلک رہے ہیں، کتنی خواتین گھروں میں ہی درد زہ کی تکالیف برداشت کر رہی ہیں، کسی کو کچھ اندازہ نہیں ہے۔ کسی انسانی معاشرے کو یوں انسانی ضروریات سے کاٹ دینا، ان کی مذہبی آزادیوں کو دبا دینا، ان سے اظہار رائے کی آزادیوں کو سلب کر لینا، انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزی ہے، جو ہندوستان حکومت کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف برتی جا رہی ہے۔ ان ضروریات زندگی کا مقاطع اپنی جگہ، کتنے نوجوان گھروں سے غائب ہو رہے ہیں، کتنی بچیوں کی عصمت دری ہو رہی ہے، ہر جانب خاموشی ہے۔

یہ سب حربے اور سختیاں کشمیری عوام کے دل و دماغ سے آزادی کا ارمان نکالنے اور ہندوستانی تسلط کو قبول کروانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ہندوستانی برہمنی استبداد کی یہ بھول ہے کہ وہ ظلم و بربریت سے حق کی آواز کو دبا لے گا۔ اسے نہیں معلوم کہ ظلم و بربریت کی رات خواہ کس قدر ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا خاتمہ مظلوم کی سربلندی پر ہی ہوتا ہے۔ یہی کچھ حسین (ع) نے ہمیں سکھایا ہے۔ آج کا انسانی معاشرہ بھی 61 ہجری کے مسلمان معاشرے سے مختلف نہیں ہے۔ کچھ کو علم ہی نہیں کہ دنیا میں انسانوں پر کیا کیا ظلم روا رکھا جا رہا ہے، کچھ جانتے بوجھتے ہوئے خاموش ہیں اور اپنے مفادات پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔ مجھے بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ انسانیت اور امہ بھی عجیب و غریب قسم کی دو چڑیاں ہیں، جو فقط تصورات میں موجود ہیں، حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہمارے معاشروں میں ایک مقولہ عام ہے کہ ’’یہ سب کتابی باتیں ہیں، جو کتابوں میں ہی بھلی لگتی ہیں‘‘، ان کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت، انسانی حقوق، امت مسلمہ، جسد واحد یہ سب بھی واقعی کتابی باتیں ہیں یا کم از کم ان کے لیے یہ کتابی باتیں ہی ہیں، جو دنیا میں برسر اقتدار ہیں اور عالمی امن کے ضامن بنے ہوئے ہیں۔

انسانیت کرب و تکلیف میں ہے، فلسطین، کشمیر، یمن سے خون رس رہا ہے، بہت سے ممالک میں وہ انسانی آزادیاں دستیاب نہیں ہیں، جن کا پرچار کرنے کے لیے دنیا میں لاکھوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے، مذہبی آزادیاں، اظہار رائے کی آزادی، شہری حقوق سب فقط کتابوں میں موجود ہیں، تاہم کوئی بھی اس کے حوالے سے وہ اقدامات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو درکار ہیں۔ عراق کویت پر حملہ کرے تو پوری دنیا کو انسانیت یاد آجاتی ہے، امریکا یا یورپ کے کسی ملک میں دہشتگردی ہو تو انسانیت پیدار ہو جاتی ہے۔ یہاں نہیں معلوم یہ انسانیت کیا پی کر سو رہی ہے۔ مجھے علی گیلانی کا آخری ٹویٹ یاد آرہا ہے، جس میں انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین قتل عام اور نسل کشی کرنے جا رہا ہے، کرہ ارض کے تمام مسلمانوں کو خبردار کر رہا ہوں کہ اگر ہم شہید ہوگئے اور آپ چپ رہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں تمام کشمیریوں کیلئے دعا کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔

چین کا سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر اجلاس بلوانا، ایران کی جانب سے ہر سطح پر مذمتی بیانات اور قراردادوں کا سامنے آنا، طیب اردگان کا کشمیری مظالم پر بولنا، یورپی پارلیمان میں مسئلہ کشمیر پر دھواں دھار بحث ہونا، برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرے ہونا، کیا یہ سب کافی ہے؟ ان سب کی اپنی جگہ اہمیت و افادیت ہے، تاہم اس وقت حقیقت یہ ہے کہ کشمیری زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ مسئلہ کشمیر چونکہ پاکستان کا مسئلہ ہے، ہماری شہ رگ حیات برہمنی سامراج کے پنجے میں ہے، انسانی تکلیف اور کرب کے لحاظ سے بھی ہماری ذمہ داری بڑھ چکی ہے، پس آج حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو اس سلسلے میں ایسے اقدامات لینے کی ضرورت ہے، جس سے وادی کشمیر کے محصور مسلمانوں کی کمک کی جاسکے، یہ مدد ایمرجنسی کی بنیاد پر کیے جانے کی ضرورت ہے۔ یہی امہ ہونے کا تقاضا ہے، یہی درس کربلا ہے۔ اگر آج ہم حقیقی معنوں میں اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی کوئی مدد نہ کر پائے اور باقی دنیا کی مانند خاموشی سے اس ظلم کا تماشا دیکھتے رہے تو یقیناً ہمیں اس خاموشی پر اپنے رب کے حضور جوابدہ ہونا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 815332
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب