0
Tuesday 10 Sep 2019 18:48

پاراچنار، جلوس عزا ہزارہ قبرستان سے مرکزی امام بارگاہ کیجانب گامزن

پاراچنار، جلوس عزا ہزارہ قبرستان سے مرکزی امام بارگاہ کیجانب گامزن
رپورٹ: ایس این حسینی

آج روز عاشور کی مناسبت سے ملک کے طول و عرض میں جلوس ہائے عزاداری برآمد ہوکر اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہیں۔ ان جلوسوں میں سے اکثر رات آٹھ یا نو بجے کو اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر مجلس شام غریبان کا انعقاد کرکے ختم ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ دنیا بھر کی طرح کرم پاراچنار میں بھی آج یوم عاشور کو بیسیوں امام بارگاہوں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا، عام امام بارگاہوں میں نو تا گیارہ بجے صرف مجلس عزا کا انعقاد کیا جاتا ہے، جبکہ ہر علاقے با الفاظ دیگر ہر موضع یا یونین کونسل میں واقع مرکزی امام بارگاہ سے شبیہہ ذوالجناح کے ساتھ باقاعدہ جلوس برآمد ہوتا ہے۔ ان میں بھی بعض ظہر سے پہلے جبکہ بعض ظہر کے بعد برآمد ہوتے ہیں۔ ظہر کے بعد برآمد ہونے والے جلوس عام طور پر 3 یا 4 بجے کو اختتام پذیر ہو جاتے ہیں۔

مرکزی امام بارگاہ پاراچنار سے جلوس عزا نماز ظہرین کے فوراً بعد مختصر مجلس عزا کے ساتھ ذوالجناح، علم اور تعزیوں کے ساتھ جنوبی گیٹ سے برآمد ہوتا ہے۔ یہاں سینہ زنی کے ساتھ ساتھ زنجیر زنی بھی ہوتی ہے۔ زنجیر زنوں کے زخموں پر مرہم لگانے کیلئے دسیوں مخیر اداروں کے رضا کار اپنی اپنی ایمبولینسز کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں۔ جن میں تحریک حسینی، حیدری بلڈ بینک، چنار بلڈ بینک، الزہراء ٹرسٹ اور ایدھی سروسز وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ مرکزی امام بارگاہ سے برآمد ہوکر جلوس شنگک روڈ، کشمیر چوک، طوری مارکیٹ، نظربندی چوک اور زیڑان روڈ سے ہوتا ہوا ہزارہ قبرستان پہنچ جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر کچھ دیر تک سینہ زنی کی جاتی ہے اور اسکے بعد مرکزی امام بارگاہ کا کوئی خطیب مجلس پڑھتا ہے اور مرثیہ خوانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انجمن حسینیہ کے وقت کے سیکرٹری صاحب اس موقع پر قوم سے خطاب کرکے طوری اور بنگش قبائل کے نام اپنا پیغام پیش کرتے ہیں۔

مرکزی جامع مسجد کے پیش امام کی اقتداء میں نماز ظہرین باجماعت ادا کرنے کے فوراً بعد مولانا اخلاق حسین شریعتی نے مختصر مصائب امام حسین بیان کیے اور اس کے ساتھ ہی علم اور تعزیوں کے ساتھ شبیہہ ذوالجناح برآمد ہوا اور شرکائے جلوس نے سینہ زنی اور زنجیر زنی شروع کی۔ زنجیر زنی اور سینہ زنی کرتے ہوئے عزادار اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے ہزارہ قبرستان کی جانب بڑھنے لگے۔ اس دوران پورے راستے میں مقامی رضاکاروں کے ہمراہ پاک فوج کے دستوں نے سکیورٹی کا سخت بندوبست کیا تھا۔ جلوس کی طرف آنے والے تمام راستوں پر سخت چیکنگ کی جاتی تھی۔ راستے میں جگہ جگہ پانی اور شربت کی سبلیوں کے علاوہ نیاز کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔ جلوس ٹھیک چار بجے ہزارہ قبرستان پہنچ گیا۔ جہاں پر کچھ وقت کے لئے سینہ زنی کی گئی۔ اس کے بعد مولانا خیال حسین نے اجتماع سے خطاب کیا اور امام مظلوم مولا حسین علیہ السلام کے فضائل اور فلسفہ واقعہ کربلا پر روشنی ڈالی، نیز مصائب امام مظلوم بیان کئے۔

اس کے بعد سیکرٹری انجمن حسینیہ حاجی سردار حسین نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عزاداروں کو چاہیئے مولا حسین علیہ السلام کی سیرت کو اپنائیں، انہوں نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں ہم عزادار اور پیروکار امام حسین علیہ السلام ہیں تو ہمیں یزیدی کاموں سے اجتناب کرنا ہوگا۔ نشے اور بے حیائی سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں بڑھتے ہوئے نشہ کا راستہ روکے، اگر وہ خود نہیں کرسکتی تو ہمارے ہاتھ مضبوط کرے، تاکہ ہم ان سے نمٹ سکیں۔ مقررین کی تقریروں کے بعد عزاداروں نے دوبارہ منظم ہوکر سینہ زنی شروع کی اور مقررہ راستوں سے ہوکر مرکزی امام بارگاہ کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ عموماً یہ جلوس نماز مغربین راستے میں پی اے چوک یا آر پی چوک کے ساتھ پڑھتے ہیں اور آٹھ بجے کے قریب مرکزی امام بارگاہ میں لوٹ آتے ہیں۔ جہاں مختصر عزاداری کے بعد مجلس شام غریباں شروع ہو جاتی ہے اور مجلس شام غریباں کے ساتھ ہی عاشورا کا یہ پورا پروگرام اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ 

دوسری جانب سرحدی گاؤں خرلاچی سے تازہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں تین خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کو عوامی رضاکار فورس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق شدید چیکنگ کے باوجود پاک افغان بارڈر پر واقع گاؤں خرلاچی میں عوامی رضاکاروں نے مبینہ طور پر تین خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کو اپنی ہراست میں لیا ہے جبکہ دو افراد بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ خودکش کو حوالے کرنے کیلئے حکومت عوام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اسے انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے حوالے کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 815466
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب