0
Thursday 12 Sep 2019 10:45

کشمیریوں کے مان کو نہ ٹوٹنے دیں۔۔۔!

کشمیریوں کے مان کو نہ ٹوٹنے دیں۔۔۔!
تحریر: تصور حسین شہزاد

کشمیر کے حوالے سے بہت سے ایسی باتیں سامنے آنے لگی ہیں، جن سے تشویش پیدا ہونے لگی ہے۔ گذشتہ روز آزاد کشمیر میں ’’امن مارچ‘‘ کیا گیا۔ امن مارچ لائن آف کنٹرول پہنچا، جہاں تتری نوٹ کے مقام پر دھرنا دیا گیا۔ اس مارچ کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج کرنا ہے۔ اس مارچ میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں کو شامل کیا گیا۔ پولیس نے سرساوہ، کوٹلی اور داوراندی ہجیرہ کے مقام پر مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، تاہم ایک ہلکی پھلکی چھڑپ میں 15 افراد زخمی بھی ہوگئے۔ دو ایمبولینسیں بھی زد میں آگئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ایل او سی جانے سے روکا تھا، مظاہرہ کرنے سے نہیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا ہم بھی بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں اور مظاہرین کے اس حوالے سے ہم نواء ہیں، مگر ایل او سی پر اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کا جانا خظرناک تھا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ بھی ہوسکتی تھی، تو اس صورت میں ذمہ دار کون ہوتا؟؟ اس مارچ کا بانی ایک وکیل تھا، سردار صغیر ایڈووکیٹ۔ سردار صغیر نے اس موقع پر انوکھا مطالبہ کر ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انڈیا کیساتھ ہیں، نہ ہی پاکستان کیساتھ بلکہ ہمیں ایک الگ ملک بنا دیا جائے۔

سردار صغیر کا یہ بیانیہ ہی امریکہ اور برطانیہ کا بیانیہ ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نہیں چاہتے کہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے، بلکہ ان دونوں قوتوں کا ہدف یہ ہے کہ کشمیر کو آزاد ریاست بنا دیا جائے، یعنی ایک تیسرا ملک۔ اس حوالے سے امریکی پیشکش اور ڈونلڈ ٹرمپ کی دلچسپی پرانے امریکی ایجنڈے کا ہی تسلسل ہے، جبکہ برطانیہ بھی کھل کر سامنے آچکا ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے جب برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں انڈیا نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ نوجوانوں کو آدھی رات کو گھر سے اُٹھا لیا جاتا ہے۔ خواتین کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ دنیا کی تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ ہے، برطانیہ بھارتی مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ تو برطانوی حکومت نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ پاکستان اور انڈیا کا معاملہ ہے، ہم مداخلت نہیں کرسکتے۔‘‘ ناز شاہ، جسے برطانوی قانون اور خود مختار پارلیمنٹ پر بڑا ناز تھا، اپنا سا منہ لیکر رہ گئیں۔ ناز شاہ کا ناز تو ٹوٹ گیا، مگر کیا برطانیہ سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ مسئلہ کشمیر پیدا کردہ ہی برطانیہ کا ہے۔ ہماری قوم اور حکمرانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے اور اس وجہ سے ہی آج ہم مار کھا رہے ہیں، آج پوری دنیا میں ہمیں کوئی لفٹ نہیں کروا رہا۔

بدقسمتی سے ہمارا بیانیہ ہمیشہ ہماری قوم تک کیلئے ہی رہا ہے، جبکہ بھارت نے ہمیشہ اپنے بیانیے کو عالمی برادری تک پہنچایا ہے۔ نواز شریف نے وزیر خارجہ ہی نہیں بنایا کہ کہیں دنیا سے رابطے کی ضرورت نہ پیش آجائے اور اس خلا سے بھارت نے فائدہ اٹھایا اور عالمی سطح پر اپنا بیانیہ منوانے میں کامیاب رہا۔ تاریخ نواز شریف کا یہ جرم کبھی معاف نہیں کرے گی، جس کے تحت اس نے سفارتی میدان میں انڈیا کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔ اب دنیا بھارت کا موقف مانتی ہے۔ ہم مظلوم ہو کر بھی ظالم سمجھے جا رہے ہیں اور بھارت ظالم ہو کر بھی مظلوم ہے۔ آزاد کشمیر سے بہت سے کشمیری برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ان پاکستانی کشمیریوں کو برطانوی پارلیمنٹ اور برطانوی حکومت تک بھی رسائی حاصل ہے۔ بعض اطلاعات یہ ہیں کہ ان کے ذریعے ہی برطانیہ آزاد کشمیر میں کشمیریوں کی فکر تبدیل کر رہا ہے، انہیں یہ باور کروایا گیا ہے کہ اگر کشمیر نئی ریاست بنتا ہے تو اقتدار برطانیہ میں مقیم ان کشمیریوں کو دیا جائے گا۔ اسی لالچ میں بہت سے برطانوی کشمیری آزاد کشمیر میں ایک مخصوص مہم چلائے ہوئے ہیں۔ اب آزاد کشمیر میں یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ شامل نہیں ہوں گے، بلکہ انہیں آزاد ریاست بنا دیا جائے۔ 9 ستمبر کو ہونیوالا ’’آزادی مارچ‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے، جس کے منتظم سردار صغیر ایڈووکیٹ نے کھلے بندوں کہا کہ وہ پاکستان کیساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے۔

مقبوضہ وادی کے کشمیری بھارت کے ہزار مظالم کے باوجود پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، پاکستانی پرچموں میں دفن ہوتے ہیں اور پاکستانی پرچم اٹھائے پیلٹ گنوں کا نشانہ بنتے ہیں، مگر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے، ’’ہم کیا چاہتے، آزادی‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور یہاں آزاد کشمیر میں سُکھ کی نیند سونے والے، پاکستان کی نگرانی میں مثالی اور پُرامن و پُرسکون زندگی گزارنے والے چند شرپسند عناصر بیرونی آقاؤں کے ہاتھوں میں کھیل کر مقبوضہ وادی کے اپنے کشمیری بھائیوں کے کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ برطانوی سازشیں ہی ہیں، جو آزاد کشمیر میں اب تیزی سے شروع ہوگئی ہیں۔ اس منصوبے کے پیچھے امریکی و برطانوی گٹھ جوڑ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کو اس حساس ایشو پر توجہ دینا ہوگی اور آزاد کشمیر میں برطانوی سازش سے پھیلائی جانیوالی اس سوچ کے آگے بند باندھنا ہوگا۔ یہ نہ ہو کہ مقبوضہ وادی میں ظلم کے طوفان کے سامنے ڈٹے ہوئے کشمریوں کی جدوجہد آزادی ان میر جعفروں اور میر صادقوں کی سازشوں کی نذر نہ ہو جائے۔ ہم اپنے مقبوضہ وادی کے کشمیری بھائیوں کا مان ہیں اور یہ مان ٹوٹنا نہیں چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 815717
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب