0
Friday 13 Sep 2019 08:11

اقتصادی دہشتگردی اور مذاکرات کا واویلا

اقتصادی دہشتگردی اور مذاکرات کا واویلا
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے بار بار تردید کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کی ٹیم دعوے کر رہی ہے کہ ایران امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ ہے۔ امریکہ ایران سے مذاکرات کا کیوں خواہشمند ہے، اس سوال کے پیچھے کئی سوال من جملہ امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرامپ کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ نے امریکی عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان میں سے ایک ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ ٹرامپ اور اس کی ٹیم اس ہدف تک پہنچنے کے لیے "زیادہ سے زیادہ دبائو" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ٹرامپ نے ایران کو ڈرانے کے لیے جنگ پسند ٹولے کو امریکی فیصلہ کن اداروں میں جگہ دی اور جان بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر بنا کر ایران کو یہ پیغام دیا کہ اگر ایران نے امریکہ کی بات نہ مانی اور سر تسلیم خم نہ کیا تو جنگ کے لیے تیار ہو جائَے۔

ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکی ڈرون طیارہ گرا کر دے دیا۔ امریکی صدر نے پینترا بدلا اور جان بولٹن کو وائٹ ہائوس سے نکال کر ایک بار پھر ایران کو یہ پیغام دیا کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ کھلا ہے، لیکن ایران جانتا ہے کہ امریکہ کے اس حربے کے پیچھے بھی جنگ سے بھی زیاہد خطرناک عزائم پوشیدہ ہیں، اس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر خزانہ کے حالیہ بیانات ہیں۔ امریکی وزراء کے ان تازہ بیانات اور ایران کے مزید چند اداروں پر پابندیاں عائد کرنے پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت جب دو یا تین جنگ پسندوں کو چھوڑ کر پوری دنیا "بی ٹیم" کے سرغنے جان بولٹن کو وائٹ ہائوس سے نکال دیئے جانے کے بعد سکھ کا سانس لینا چاہ رہی تھی، امریکی وزیر خارجہ پمپیو اور وزیر خزانہ منوچین نے ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی میں شدت لانے کا اعلان کر دیا ہے۔

جواد ظریف کا کہنا تھا جنگ کی پیاس جنگ پسندوں کے سرغنے کے جانے کے بعد ختم ہو جانی چاہیئے۔ امریکی وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ ایسے عالم میں ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دبائو بڑھانے" کی پالیسی پر گامزن ہیں کہ وہ فرانس کے صدر کے ذریعے صدر ایران کو نئے مذاکرات کے لیے رام کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی اور فرانسیسی صدور کی حالیہ ٹیلفونگ ملاقات کو مغربی حلقوں میں بڑی اہمیت دی جا رہی ہے، لیکن صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے اصولی موقت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کی نقطہ نگاہ سے پابندیوں کے باقی رہنے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتصادی دہشت گردی کے سائے میں مذاکرات ہوسکتے ہیں۔؟
خبر کا کوڈ : 815896
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے