0
Saturday 14 Sep 2019 15:21

مقتدیٰ صدر کے دورہ ایران کے سات پیغامات

نئے مشرق وسطیٰ میں آمد پر مقتدیٰ صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں!
مقتدیٰ صدر کے دورہ ایران کے سات پیغامات
تحریر: خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ
 
مقتدیٰ صدر کا نام ہمیشہ کچھ حواشی ساتھ لئے پھرتا رہا ہے، جن میں سے بعض حواشی اہل مقاومت کو زیادہ اچھے بھی نہیں لگے؛ مقاومت کے دشمن اور قدس شریف کے سودے میں پیش پیش سعودیوں اور اماراتیوں سے ان کے رابطے اور ان رابطوں اور ملاقاتوں کے بعد ان کا موقف اس نام کا سنجیدہ ترین حاشیہ سمجھا جاتا تھا، جس نے مقتدیٰ کو دنیا جہاں کی خبروں میں سرفہرست قرار دیا تھا اور عراقی عوام کے درمیان بھی اس شخصیت کی ساکھ کو شاید مجروح کر دیا؛ اس کے باوجود تہران میں عصر عاشورا 1441ھ کو پیش آنے والے واقعے اور رہبر معظم امام خامنہ ای کے ساتھ ان کی ملاقات نے ثابت کر دیا کہ گو کہ ممکن ہے کہ صدر کبھی کبھی مخالفت پر بھی اترتے ہیں، لیکن ڈوری کا سرا کبھی نہیں کاٹتے۔ جو بھی ہو، وہ عراق کے نہایت بااثر راہنماؤں میں سے ہیں اور ضرورت کے وقت وہی کرتے ہیں، جو عراقی ملت کے لئے فائدہ مند ہو اور اس لحاظ سے بہت بہتر ہیں، بعض انگریزی شیعوں سے جن کی ڈوریوں کے سرے صہیونی مراکز اور ایم آئی سکس سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے انصار اللہ یمن کے وفد اور پھر حماس کے وفد نے امام المقاومہ سے ملاقاتیں کی تھیں؛ ان دو ملاقاتوں میں بھی جنرل سلیمانی اور جنرل سلامی شریک تھے۔ موجودہ حالات میں حرکت انصار اللہ اور حرکت مقاومت اسلامیہ (حماس) کے راہنماؤں کی رہبر انقلاب سے ملاقاتوں کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ اس حقیقت کے بہتر ادراک کے لئے عاشورا کے دن مقاومت اسلامی کے ایک اور عظیم راہنما سید حسن نصر اللہ کے خطاب اور رہبر انقلاب کے بارے میں ان کے موقف پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یمنی انقلابیوں نے بھی، فلسطینی مقاومت نے بھی اور سید حسن نصر اللہ نے بھی زور دے کر کہا کہ اگر ایران کے خلاف جنگ چھڑ جائے تو وہ سب ایران کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور سید حسن نصراللہ کے بقول “ہم زمانے کے حسین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔” سید مقتدیٰ کا یہ دورہ ایسے حالات میں انجام پایا ہے اور اس دورے کا پیغام کوئی بھی وصول کرسکتا ہے، لیکن سب سے زیادہ اس پیغام کا رخ اوورسیز طاقتوں کی طرف ہے۔ بی بی سی کے ایک کالم نویس کے مطابق “رہبر انقلاب کے ساتھ مقتدیٰ صدر کی ملاقات علاقے میں ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ کا اظہار تھی۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ “کچھ خبریں ابھی راستے میں ہیں۔۔۔!

ایک ہی سمت میں، ایک ہی مقصد کے لئے ہونے والی ان تین ملاقاتوں کو اگر عصر عاشورا کو سید حسن نصر اللہ اور سید عبدالمالک بدرالدین الحوثی کے حماسی اور رزمی خطابات نیز حماس کے قائدین کے حالیہ موقف نیز عراق میں مقاومت کے راہنماؤں (منجملہ سید ہاشم الحیدری) کے انقلابی موقف کے ساتھ رکھا جائے تو اس سوال کا جواب کسی حد تک واضح ہو جاتا ہے کہ “کونسی خبریں راستے میں ہیں؟ یہودی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کچھ عرصے سے محاذ مزاحمت کے ممالک پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور نیتن یاہو اعلانیہ طور پر کہتا ہے کہ “ایران کے حلیفوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔” سینکڑوں سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹیں یمن کی جنگ میں بنی سعود کے دوش بدوش یہودی ریاست کی موجودگی کے بارے میں شائع ہوچکی ہیں۔ بالفاظ دیگر حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ان جماعتوں کے راہنما “حضرت آقا” کے دیدار کے لئے آئے ہیں، جو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر یہودی-صہیونی ریاست کے مد مقابل کھڑی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا ایک بہت بڑا اور واضح پیغام یہودی ریاست اور امریکہ کے لئے ہے اور وہ یہ ہے کہ “ایران مقاومت کا پرچم سنبھالے ہوئے ہے اور ہم ہر حال میں ایران کے ساتھ رہیں گے۔”

ایران مرکز ہے، مرکز کو محفوظ ہونا چاہیئے اور مقاومت کی انہی تنظیموں کی وجہ سے ایران جنگ سے محفوظ ہے۔ دشمن حساب و کتاب کرتا ہے اور اگر فوجی جارحیت کی وجہ سے اس کو اضافی اخراجات برداشت کرنے کا خطرہ محسوس نہ ہو تو وہ لمحہ بھر تامل کئے بغیر حملہ کر دے گا، لیکن جب دشمن اپنے حساب و کتاب کے دوران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ جنگ ایران تک محدود نہیں رہے گی اور پورے علاقے میں پھیل جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اضافی اخراجات ناقابل برداشت ہونگے، چنانچہ وہ پسپا ہو جاتا ہے۔ البتہ صرف یہی نہیں ہے بلکہ ایران کی زبردست فوجی اور میزائل طاقت کو بھی ان محاسبات میں مدنظر رکھا جاتا ہے اور علاقے میں امریکی اڈوں کو بھی جو ان میزائلوں کی زد میں ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں طاقت کا موازنہ جسے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے فارغ التحصیل دانشور جنگ کے سدباب کے اہم ترین اسباب میں شمار کرتے ہیں۔

یہیں سے اس شبہے کا جواب بھی بآسانی ملتا ہے کہ ایران مقاومت کی مدد کیوں کرتا ہے اور امریکی صدر "پوری دنیا میں فوجی اڈے قائم کرنے اور تمام جنگوں میں فریق کی حیثیت سے حصہ لینے کے باوجود" براہ راست کہتا ہے کہ ایران کی حکومت اپنے اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے مقاومت پر خرچ کرتی ہے، حالانکہ یہ جنگ اس علاقے پر مسلط کی گئی ہے اور امن قائم کرنے کے لئے جارحوں کا مقابلہ کرنا عقل و منطق اور زمینی تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اگر یہ جنگ ایران تک آپہنچے تو کہیں بھی کوئی مزاحمتی تحریک سر نہیں اٹھا سکے گی اور ممالک ایک بار پھر کئی صدیوں تک یہود اور استکبار کی نوآبادیوں میں بدل جائیں گے، جبکہ مقاومت نے اس جنگ کو روک رکھا ہے اور پھر اگر امن و سلامتی نہ ہو تو معاشی ترقی کا سوال ہی نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ یہ خطہ عرصہ دراز سے میدان جنگ بنا ہوا ہے اور ہر روز آدم خور تکفیریوں کا کوئی نیا نسخہ متعارف کروایا جا رہا ہے، ایسے میں مقاومت کا راستہ بہترین ہے، جس کی برکت سے دشمن کا گلا سرحدوں سے بہت دور دبایا جاسکتا ہے۔

ایران مقاومت/مزاحمت کا علمدار ہے اور محاذ مزاحمت طاقت کے عروج پر ہے، نہ یمن کی انصار اللہ دست بستہ اور نہتی ہے، نہ حماس اور حشد الشعبی اور نہ ہی ابتدائی اور بنیادی طور پر ایران۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمت نے اپنی میزائل طاقت سے 50 روزہ اور 22 روزہ جنگوں کو دو اور تین روزہ جنگوں میں تبدیل کر دیا ہے، یمن کے انقلابی کلاشنکوف سے بین البراعظمی میزائلوں تک پہنچ چکے ہیں اور بنی سعود کی حکومت انصار اللہ کے سامنے زد پذیر ہوچکی ہے؛ حزب اللہ نے 33 روزہ جنگ کے بعد یہودی ریاست کو جنگ دوبارہ شروع کرنے سے گویا تا ابد باز رکھا ہے اور سید حسن نصر اللہ کا ایک جملہ مقبوضہ فلسطین میں یہودی ریاست کے تمام نظامات کو درہم برہم کر دیتا ہے اور حزب اللہ ایک کورنٹ (Kornet) میزائل کے ذریعے نیتن یاہو کے منہ پر طمانچہ رسید کرتی ہے۔ یہ سارے واقعات مغربی ایشیاء میں عظیم تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہیں۔ بالفاظ دیگر جس دن بش نے یہاں عظیم تر مشرق وسطیٰ کی تشکیل کا نعرہ لگایا، اس نعرے نے حقیقت کا روپ دھار لیا، لیکن امریکہ کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ایران اور اسلامی مقاومت کے مفاد میں۔
خبر کا کوڈ : 816202
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے