0
Sunday 15 Sep 2019 08:19

حج و عمرے پر تا حکم ثانی پابندی

حج و عمرے پر تا حکم ثانی پابندی
اداریہ
حماس اور آل سعود میں بہت سے مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ حماس کے اراکین بھی عرب ہیں، آل سعود بھی اپنے آپ کو عربوں کا سب سے زیادہ ہمدرد قرار دیتے ہیں۔ حماس بھی فرقہ کے لحاظ سے اہلسنت ہے اور آل سعود خاندان بھی اپنے آپ کو اہلسنت کا محافظ و ترجمان سمجھتا ہے۔ محمد بن سلمان تو ایران سے دشمنی کی ایک وجہ ایران کا شیعہ ہونا بھی قرار دیتا ہے۔ فلسطینی کاز کے لیے غاصب اسرائیل سے برسرپیکار ایک سنی عرب تنظیم کے کارکن کو بغیر کسی جرم کے گذشتہ ساڑھے پانچ ماہ سے سعودی عقوبت خانوں میں رکھنا خادم حرمین شریفین کی کونسی اسلامی اور عربی ادا ہے، اس پر ساری دنیا بالخصوص امت مسلمہ حیران ہے۔ حماس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم گذشتہ ساڑھے پانچ ماہ سے اندر خانے کوشش کر رہے تھے کہ سعودی عرب کی حکومت حماس کے اکیاسی سالہ محمد الخضری کو رہا کر دے، لیکن ہماری تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں، جس کے بعد ہم نے اس خبر کو میڈیا میں دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ محمد الخضری کی جیل میں صورتحال انتہائی خراب ہے، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے تمام اکائونٹس بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں، جس سے ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت حماس کے ساٹھ کارکنان سعودی جیلوں میں زندگی کے دشوار دن گزار رہے ہیں، جن پر کسی طرح کی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ سعودی عرب میں قطیف اور دیگر علاقوں کے علماء اور شیعہ مسلمانوں کو جیلوں میں ڈال کر سر قلم کرنا ایک روزہ مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ان مظالم پر ایران کے علاوہ کبھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ عالم اسلام کی مرگبار خاموشی اس بات کا باعث بنی ہے کہ اب حماس کے کارکنوں کو بھی عقوبت خانوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

حماس تنظیم کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بن سلمان کے اتحادی اور ٹرامپ کے داماد کوشنر کی بات نہیں مان رہی، نہ ہی سنچری ڈیل کو تسلیم کر رہی ہے اور نہ ہی غاصب صہیونی حکومت کے خلاف جہادی سرگرمیوں سے دستبردار ہو رہی ہے۔ حماس کے مجاہد عرب حکمرانوں کی طرح فلسطین اور قبلہ اول کا سودا کرنے کے لیے تیار نہیں، لہذا انہیں حجاز مقدس جیسی سرزمین پر بھی پناہ لینے کی اجازت نہیں۔ حماس کے خلاف آل سعود کی اس کارروائی نے سلمان اور بن سلمان کا حقیقی چہرہ مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ عالم اسلام کو اب اس بات کی فکر کرنا چاہیئے کہ آیا اس خاندان کے ہاتھوں مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات محفوظ رہ سکیں گے یا نہیں؟ خاکم بدہن کسی دن ایسا نہ ہو کہ صہیونی میڈیا پر یہ خبر نشر ہو رہی ہو کہ آل سعود نے حرمین شریفین کے تمام تر انتظامات سی آئی اے اور موساد کے سپرد کر دیئے ہیں اور امریکہ و اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ حج و عمرے کی عبادات پر تا حکم ثانی پابندی عائد کی جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 816272
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے