1
Monday 16 Sep 2019 18:59

یمنی ڈرونز، آل سعود کا ڈراونا خواب

یمنی ڈرونز، آل سعود کا ڈراونا خواب
تحریر: سید رحیم نعمتی

سعودی عرب کے اندر یمن کے ڈرون حملے کوئی نئی بات نہیں ہے اور اب تک یمنی ڈرونز کئی بار سعودی عرب کی فوجی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ لیکن 14 ستمبر کی صبح سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنریز پر انجام پانے والے یمنی ڈرون حملوں کی بات ہی الگ ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع آرامکو کمپنی کی دو ریفائنریز میں دھماکوں کے کچھ ہی گھنٹے بعد سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ دھماکے ڈرون حملوں کا نتیجہ تھے لیکن انہوں نے یہ واضح نہ کیا کہ یہ حملے کس کی طرف سے انجام پائے تھے۔ اس کے بعد انصاراللہ یمن اور یمن آرمی کے ترجمان یحیی سریع نے اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یمن نے 10 ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی عرب کی ان ریفائنریز کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن "روک تھام کی صلاحیت نمبر 2" کے نام سے انجام پایا ہے۔
 
اس سے ایک ماہ پہلے یمن آرمی نے "روک تھام کی صلاحیت نمبر 1" کے نام سے 10 ڈرون طیاروں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سعودی عرب کی الشیبہ نامی ریفائنری کو نشانہ بنایا تھا۔ اس آپریشن سے دنیا والوں پر ثابت ہو گیا تھا کہ یمن آرمی 1200 کلومیٹر دور الشیبہ جیسے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے تک ڈرون حملے انجام دے سکتا ہے۔ یاد رہے اس ریفائنری سے سعودی عرب کی تیل کی پیداوار روزانہ 600 بیرل تھی۔ اس حملے سے یمن آرمی نے بتا دیا کہ وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مزید برآں، الشیبہ ریفائنری متحدہ عرب امارات کی سرحد سے صرف 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لہذا یہ حملہ یمن آرمی کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو بھی ایک قسم کی وارننگ تھی کہ اس کی تیل کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ اسی وقت یمن آرمی نے بیلسٹک میزائل کے ذریعے سعودی عرب کے اندر 1500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر الدمام میں بھی ایک فوجی مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں نے یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورس انصاراللہ کی ڈرون اور میزائل طاقت کا لوہا منوا لیا تھا۔
 
حال ہی میں یمن آرمی کی جانب سے روک تھام کی صلاحیت نمبر 2 آپریشن بھی گذشتہ آپریشن کی طرح سعودی عرب کے اصلی فوجی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانے پر مبنی حکمت عملی کے تحت انجام پایا ہے۔ اس حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ یمن آرمی اپنی اس حکمت عملی کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے لہذا مستقبل میں بھی ایسے حملے خارج از امکان نہیں۔ ایک ماہ میں دو ایسے حملے ظاہر کرتے ہیں کہ یمن آرمی کی حکمت عملی صرف ایک حملے تک محدود نہیں تھی اور سعودی عرب کو آئندہ بھی اپنے تیل کی اہم تنصیبات میں دھماکوں کا منتظر رہنا چاہئے۔ سعودی عرب پر یمن آرمی کے حالیہ ڈرون حملوں کے بارے میں ایک اہم نکتہ سعودی حکام کی جانب سے ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے بارے میں پراسرار خاموشی ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی نے بقیق اور خریص میں آرامکو آئل ریفائنریز میں دھماکوں اور آتش سوزی کی تصدیق کرنے کے باوجود یمنی ڈرونز کو مار گرانے کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔
 
اس سے پہلے سعودی حکام یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ اپنے پاس موجود ائر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے یمن آرمی کے ڈرون طیاروں اور میزائلوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں فضا میں ہی تباہ کر دینے پر قادر ہیں۔ لیکن اب سعودی عرب کی انتہائی اسٹریٹجک کی حامل تیل کی تنصیبات پر یمنی ڈرونز کے مسلسل دو کامیاب حملوں کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ ان کا دعوی حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ بقیق اور خریص کی آئل ریفائنریز سے اٹھنے والے آگ کے عظیم شعلے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سعودی عرب کا ایئر ڈیفنس سسٹم یمنی ڈرونز کی تشخیص دینے اور ان کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوا ہے۔ سعودی عرب کے کمزور ایئر ڈیفنس سسٹم کے تناظر میں یمن آرمی کی جانب سے اس کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کو جاری رکھنا بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یقیق کی آئل ریفائنری روزانہ 70 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کے باعث سعودی عرب کی اہم ترین تنصیبات میں شمار ہوتی تھی۔ فوجی ماہرین کی نظر میں یمن آرمی کیلئے سعودی عرب میں اس سے بڑا ٹارگٹ قابل تصور نہیں ہے۔ لہذا اس حملے نے سعودی حکام کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور یمنی ڈرون ان کیلئے ڈراونے خواب بن چکے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 816529
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے