0
Monday 16 Sep 2019 23:57
مشائخ و علماء کونسل پاکستان کے زیراہتمام

اسلام آباد میں آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس

پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، مقررین
اسلام آباد میں آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس
رپورٹ: آئی اے خان

مشائخ و علماء کونسل پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس پیر سلطان فیاض الحسن کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ جس میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان، عبدالرشید ترابی، پیر امین الحسنات، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، اعجازالحق، مولانا فضل الرحمن خلیل، پیر خالد سلطان قادری، عظمیٰ گل، پیر سلطان العارفین ڈاکٹر سلطان احمد علی، یوسف نسیم، صاحبزادہ سعیدالرشید عباسی، عبداللہ گل، علامہ طارق محمود یزدانی، مولانا سجاد شاہد، کنور قطب الدین، علامہ قاسم قاسمی سمیت دیگر علماء اور معروف شخصیات نے شرکت کی۔ آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقرریں نے اس بات پہ زور دیا کہ خطے میں پائیدار قیام امن مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے بناء ممکن نہیں۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے اور کشمیر میں بھارتی فوج کے درندہ صفت اقدامات اور جرائم سے پورے خطے کے عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اقوام عالم کو چاہیئے کہ مسئلہ کشمیر کے فوری اور ایسے پرامن حل کیلئے راہ ہموار کریں کہ جسے کشمیر کے عوام قبول کریں۔

کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی 7 ارب آبادی میں 2 ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ مودی صرف کشمیری یا ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ نہیں، پوری اسلامی دنیا کے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔ مودی دلتوں، کھشتریوں، عیسائیوں کے خلاف بھی جنگ کر رہا ہے، ہماری جنگ کسی مذہبی قوم یعنی ہندوں کے ساتھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آر ایس ایس کے نظریئے کے خلاف ہیں۔ سردار مسعود خان نے بتایا کہ جے یو آئی ہند نے باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ جس میں مودی کے انسانیت کش اقدامات کو درست قرار دیا گیا ہے۔ اہل اسلام کسی کی زمین پر قبضے کی خاطر جنگ کو جہاد نہیں کہتا، کشمیری عوام کا آرٹیکل 370 کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں، یہ ایک شیطانی سمجھوتہ تھا اور مودی نے جو کیا ہے، وہ درست کیا ہے۔ اس فتوے کے بعد سے مولانا مدنی ہندوستان سرکار کے ہر دل عزیز ہوچکے ہیں۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستانی علماء کو چاہیئے کہ وہ ہندوستان میں موجود علماء سے رابطے کرکے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس وقت بھارت میں ایک بڑی سول سوسائٹی مودی کے خلاف اٹھ کھڑی ہے۔ پاکستانی علماء کو مولانا مدنی کو احتجاجی مراسلہ جاری کرنا چاہیئے۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا پہلی بار بھارت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، مغرب کے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ میں کشمیریوں کا وکیل ہوں، حکومت پاکستان نے کشمیر کیلئے جو کام کیا ہے، ماضی کی کسی حکومت نے نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ کشمیری اپنی منزل کو حاصل کریں گے، مودی نے ایک شر مسلط کیا ہے، اس شر سے بھی خیر برآمد ہوگا۔ آخری گولی کی باری تب آئے گی، جب پہلی گولی چلے گی، شملہ معاہدے کی تسبیح، اعلان لاہور کا ذکر کرنا یا خود مختار کشمیر کی بات کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک ہی بات ہے کہ کشمیریوں کا حق ہے کہ انہیں حق خود ارادیت ملنا چاہیئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز الحق نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی نظر نہیں آرہی، کشمیر نہ اقوام متحدہ اور نہ کسی اور ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کشمیری صرف اور صرف پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، حکومت ایک وفد تمام سیاسی جماعتوں کے پاس بھیجے، دنیا کی سب سے بڑی ریاستی دہشت گری کشمیر میں ہو رہی ہے، گجرات کا قصائی کشمیر کا قصائی بننا چاہتا ہے، بھارت پر پریشر بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبد الرشید ترابی نے کہا کہ قائداعظم کا نظریہ ٹھیک تھا، وزیراعظم عمران خان نے بھی کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کیا، او آئی سی نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے  اسلامی ممالک کا سربراہی اجلاس بلانے کیلئے اقدام کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اہل کشمیر کو ہر قسم کی مزاحمت کا حق ہے۔

یکجہتی کمشیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما یوسف نسیم نے کہا کہ بھارت سفارتی سطح پر ناکام ہوچکا ہے، کشمیری تمام تر مظالم کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں۔ بھارت یہ جنگ ہار چکا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے، جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتے، لیکن اگر بھارت نے حماقت کی تو منہ کی کھانا پڑے گی۔ بیس کیمپ آزاد کشمیر کو مضبوط بنانا ہوگا، کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگا دیا ہے، ہم مودی کے ہر ظلم کا جواب دیں گے۔ تحریک نوجوانان کے سربراہ عبداللہ گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دورے کے بعد تقسیم کشمیر ہوگیا۔ جہاد کشمیر کا اعلان کریں، میں شام تک بارڈر پر پہنچ جاؤں گا۔ پیر امین الحسنات خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاد پاک فوج کا کام ہے، ہم فوج کا سامان اور ان کے زخمی اٹھائیں گے، ہمیں جذباتی باتوں سے گریز کرنا چاہیئے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مشائخ و علماء کونسل کے زیراہتمام منعقدہ آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دین اسلام کے حقیقی داعی آج مسئلہ کشمیر کیلئے اکٹھے ہیں، علماء و مشائخ قیام پاکستان سے استحکام پاکستان تک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، کشمیر کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ بقاء کا ہے، جہاں کشمیر کاز کی بات ہوتی ہے، ہر شہری اپنی قیادت کی طرف دیکھتا ہے، ایل او سی کے اس پار لاکھوں کشمیری حق خود ارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کا بیانیہ عالمی برادری کے سامنے  رکھا گیا ہے، ہر پاکستانی کے چہرے پر کشمیر سے نہ ختم ہونیوالے رشتے کی جھلک نظر آتی ہے، قوم دیکھ رہی ہے کشمیر کے مسئلہ پر سیاسی قائدین کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق اور باطل کی جنگ میں باطل ہمیشہ مٹنے کیلئے ہوتا ہے، ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، کشمیر میں ظلم و جبر آخری سانسیں لے رہا ہے، ظلم کو مٹانے کیلئے تمام مکتب فکر کو اکٹھا ہونا ہوگا۔ بھارت مقبوضہ وادی میں ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر رہا ہے۔ سیالکوٹ میں کشمیریوں کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے، میرا حلقہ انتخاب بھارتی جارحیت کا سب سے زیادہ نشانہ بنتا ہے، فخر ہے کہ قوم کو وزیراعظم عمران خان جیسا جرات مند لیڈر ملا ہے، عمران خان نے مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ دین کے رشتے کو مستحکم کرنا وقت کا تقاضا ہے، ہیومن رائٹس کونسل اجلاس کا اعلامیہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، یورپی یونین کی پارلیمان میں کشمیر کا مسئلہ پہلا دفعہ زیربحث آرہا ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، عالمی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، آل پارٹیز کشمیر کانفرنس کا اعلامیہ عالمی برادری کو موثر پیغام دیگا۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ دین اسلام حقوق اللہ کیساتھ حقوق العباد کی تلقین کرتا ہے، بھارت کے یکطرفہ سیاہ عمل کی مذمت اور یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یقین دلاتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ کشمیر کاز پر حکومت پاکستان کشمیریوں کی آواز بنے گی، مظلوم کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ ان کیساتھ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا دکھ، درد محسوس کرتے ہیں، کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار ہے، وہ دن دور نہیں جب ظلم کی یہ تاریکی ختم ہوگی، کشمیر ایک دن ضرور پاکستان بنے گا، قومی بیانیے کیساتھ کھڑے ہونے پر علماء و مشائخ کو سلام پیش کرتی ہوں، کشمیر کاز کیلئے لڑنے والی حریت قیادت اور دیگر بہن بھائی اکیلے نہیں ہیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام مسئلہ کشمیر پر سیاسی قائدین کا کردار دیکھ رہے ہیں، کشمیر کاز کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

اعلامیہ
پیر سلطان فیاض الحسن نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتیں بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجودہ انسانی بحران ختم کرنے، کرفیو کو فی الفور اٹھانے، مواصلات اور انٹرنیٹ کے نظام کو بحال کرنے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے فوری طور پر اقدامات کرے۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت گذشتہ 43 دن سے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان یا صرف امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کروڑ انسانوں کی زندگی کا مسئلہ ہے، بھارت کی جارح فوج اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے گذشتہ ماہ کی پانچ تاریخ کو ایک نیا حملہ کرکے کشمیریوں کو نہ صرف ان کے حقوق اور شناخت سے محروم کر دیا بلکہ پورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کی کالونی میں بھی تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے ریلیف فنڈ قائم کیا جائے اور حکومتی سطح پر ایسا اکاونٹ قائم کیا جائے، جس میں ادویات، خوراک اور دیگر بنیادی ضرورت کی چیزیں جمع کی جائیں اور یہ تمام فنڈز مقبوضہ کشمیر کے عوام تک بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان جنرل اسمبلی کے خطاب میں عالمی دنیا کو دو ٹوک پیغام دیں۔

مشائخ و علماء کونسل پاکستان کے زیراہتمام ’’آل پارٹیز یکجہتی کشمیر کانفرنس‘‘ کے مشترکہ اعلامیئے میں کہا گیا ہے کہ
حکومت پاکستان فوری طور پر بھارت کے فضائی اور زمینی راستے منقطع کرے۔
کلبھوشن سمیت دیگر بھارتی جاسوسوں کو فی الفور پھانسی دی جائے۔
مودی جب تک کشمیر میں ظلم و تشدد کا سلسلہ بند نہیں کرتا، اس وقت تک بھارتی حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہ کیے جائیں۔
ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہو جائیں۔
حکومت پہل کرتے ہوئے فضا سازگار بنائے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی مظالم پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیکر مقبوضہ جموں و کشمیر بھیجنے کا اہتمام کریں۔
اسلامی ممالک بھارت سے تجارتی و سفارتی تعلقات ختم کریں۔
او آئی سی کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا جائے۔
مسئلہ کشمیر ہماری موت و حیات کا مسئلہ ہے۔
ہم کشمیر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوسکتے۔
پاکستان میں کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن کا بیانیہ ایک نہیں ہے۔
کشمیر کے مسئلہ پر متفقہ طور پر ایک پالیسی بنائی جائے۔
خبر کا کوڈ : 816560
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب