0
Tuesday 17 Sep 2019 08:03

چور، چوری اور ہیرا پھیری

چور، چوری اور ہیرا پھیری
اداریہ
یمنی مجاہدین کے ڈرون حملوں نے مشرق وسطیٰ سمیت سعودی لابی کے تمام حلقوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی نیشنل آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر حملے سے امریکہ سمیت یورپی ممالک بھی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی سے دوچار ہیں۔ امریکی صدر ڈنونالڈ ٹرامپ نے ڈرامائی انداز میں یہ فرمان جاری کیا ہے کہ امریکہ کے اسٹرٹیجک ذخائر سے تیل کی سپلائی شروع  کر دی جائے، کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ڈونالڈ ٹرامپ کی انتخابی مہم کے لیے زہرقاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ لہذا اس نے اسٹرٹیجک ذخائر سے تیل کی سپلائی کا فوری حکم دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اندر سے ڈونالڈ ٹرامپ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ اس حملے کے بعد اپنے ایک ٹوئیٹ میں آل سعود کے گرتے مورال اور ان کے خوف و ہراس کو کم کرنے کے لیے یہ لکھا ہے کہ وہ فوجی حملے کے لیے تیار ہے لیکن ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ سعودی عرب اس حملے کا کس کو ذمہ دار ٹھراتا ہے۔

امریکہ سمیت سعودی عرب کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ یہ حملے یمنی مجاہدین کی طرف سے ہوئے ہیں، لیکن اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے وہ ایران کی طرف انگلیان اٹھا رہے ہیں۔ یمنی مجاہدین کی فوجی صلاحیتوں اور سعودی عرب کے جدید ترین فوجی ساز و سامان اور اس کے پیچھے امریکہ، اسرائیل اور فرانس کا موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے باوجود یمنی مجاہدین کے ڈرون طیارے ایک ہزار سے زائد کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کس طرح سعودی عرب کی انتہائی حساس تنصیبات تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے خوبصورت دلیل کے ساتھ دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی آئل تنصیبات عبقیق اور الخریص پر یمنی ڈرونز کے حملوں سے ظاہر ہوگیا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب کو جو دفاعی میزائل سسٹم فروخت کیا ہے، وہ ناکارہ ہے اور اب امریکہ اپنے مکر و فریب اور ناکامی کو چھپانے کے لیے ایران پر بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات عائد کر رہا ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ گذشتہ پانچ سال سے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کی کھلم کھلا حمایت کر رہا ہے اور یمن کے نہتے عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار امریکہ کے دیئے ہوئے ہیں۔ بہرحال آج سعودی عرب کی تنصیبات پر حملے سے امریکہ سمیت پوری دنیا میں شوروغل مچا ہوا ہے، لیکن سعودی عرب نے نہ صرف یمن کا مکمل انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے بلکہ ہزاروں یمنیوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے، اس پر دنیا خاموش ہے۔
خبر کا کوڈ : 816591
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب