0
Wednesday 18 Sep 2019 13:39

آرامکو، یہ کلائی کس نے مروڑی ہے؟

آرامکو، یہ کلائی کس نے مروڑی ہے؟
تحریر: ثاقب اکبر

گذشتہ ہفتہ (14 ستمبر 2019ء) کو آرامکو کی تنصیبات پر انصار اللہ کی طرف سے دس ڈرونز کے حملوں کے اعلان کے بعد امریکا اور اس کے حواریوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں؟ شروع ہی سے امریکی عہدیداروں نے سوال کے ساتھ ساتھ یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ حملے ایران نے کیے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ پمپیو نے بغیر کسی انتظار اور بغیر کسی ظاہری تحقیق کے ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی طرف سے اس اعلان کے منتظر ہیں کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں؟ گویا ان کی یہ خواہش تھی کہ سعودی عرب یہ اعلان کرے، جو ان کے وزیر خارجہ نے کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب سرکاری طور پر بتائے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران ہے، تاکہ اس کی مدد کی جاسکے۔ اس کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے میڈیا نے مختلف انداز سے ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دینا شروع کیا اور آخرکار سعودی عرب نے بھی یہ اعلان کر دیا کہ یہ حملے جنوب سے کیے گئے ہیں اور یہ حملے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے ہیں، نہ کہ ڈرونز کے ذریعے۔ بعض عرب ایجنسیوں نے یہ بھی کہنا شروع کیا کہ یہ حملے جنوبی عراق سے کیے گئے ہیں، ان کا ارادہ یہ تھا کہ الحشد الشعبی کو اس میں ملوث کیا جائے۔ تاہم اس نظریئے کو بعد میں ترک کر دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دے دیا جائے۔

بار بار ان حملوں میں ایران کا نام لینے کے کئی مقاصد ہوسکتے ہیں۔ اول یہ کہ 9 ممالک پر مشتمل جارح فوجی اتحاد کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ جدید ترین مغربی اسلحے اور حمایت کے باوجود وہ ایک کمزور ترین مزاحمت سے شکست کھا گیا ہے۔ وہ یہ کیسے تسلیم کرلے کہ سعودی کمان میں لڑنے والی اتنے ممالک کی افواج سعودی سرزمین اور فضا کی بھی حفاظت کرنے پر قادر نہیں۔ علاوہ ازیں امریکا، برطانیہ اور دیگر اسلحہ فروش اتحادی یہ تاثر کیوں دیں کہ ان کا گراں قیمت اسلحہ کسی ملک کی حفاظت کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کسی بڑے ملک کے ذمے ان حملوں کو ڈال دینا ہی مناسب سمجھا گیا اور وہ بڑا ملک ایران کے علاوہ اس خطے میں کون ہوسکتا ہے۔ یہ نہایت آسان سی بات ہے کہ ایران کا نام لے لیا جائے اور یہ کہا جائے کہ سعودی اتحاد اس وقت یمن کی طرف متوجہ تھا، اس لیے ایران کی طرف سے آنے والے میزائلوں کو نہیں روکا جاسکا۔ بقولے:
خوئے بد را بہانہ بسیار

ویسے بھی ایک اور ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کی حفاظت تو کرسکتا ہے، لیکن اس کے لیے سعودی عرب کو پیسے دینا ہوں گے۔ سعودی عرب سے مزید پیسے بٹورنے کے لیے تباہ حال یمنیوں کا نام لینا مناسب نہیں۔ اس کے لیے خوف دلانے والا نام ضروری ہے، تاکہ زخمی گائے کا بچا کھچا دودھ دوہا جا سکے۔ روس نے متنبہ کیا ہے کہ آرامکو کی تنصیبات پر حملے کے ذمہ دار کا تعین کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر598 کی طرف رجوع کیا جائے، جو خلیج فارس میں امن کے قیام پر زور دیتی ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے استنبول میں ترکی اور ایرانی صدور کی موجودگی میں ایک سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی تباہی اور بربادی کو ہولناک قرار دیا، انہوں نے سعودی قیادت کو خطاب کرتے ہوئے قرآن حکیم کی ایک آیت یاد دلائی، جس میں مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے: وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا (عمران:103) "اور اللہ کی اپنے اوپر اس نعمت کو یاد کرو کہ تم آپس میں دشمن تھے، پس اللہ نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔"

اس آیت کا دو مرتبہ ذکر کرنے کے بعد روسی صدر نے سعودی عرب سے تقاضا کیا کہ وہ یمن کے خلاف اپنی جنگ کو بند کر دے۔ انصار اللہ کے ایک ترجمان نے روسی صدر کے بیان کے اس حصے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جاپان نے بھی اپنے ایک سرکاری بیان میں آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا ہے۔ یمن کے ترجمانوں کی طرف سے سعودی عرب اور امارات سے تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ اس جنگ کو بند کر دیں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے تباہ حال یمن کے خلاف ہولناک حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف یمن کے نائب وزیر اطلاعات فہمی الیوسفی نے کہا ہے کہ سعودی تنصیبات ہماری رینج میں ہیں اور امریکی جنگی جہاز بھی انہیں ہم سے نہیں بچا سکتے۔ یاد رہے کہ یہ وہی یمنی فوج ہے، جس کے پاس کبھی کلاشنکوف تک نہ تھی۔ اب ساڑھے چار سال سے زیادہ جاری فضائی، بحری اور زمینی محاصرے کے باوجود وہ اس قابل ہوگئی ہے کہ سعودی عرب کے نزدیک و دور اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنا سکے۔

دریں اثنا انصار اللہ نے سعودیہ اور امارات کو ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ جنگ بند نہ کرنے کی صورت میں وہ ان پر مزید حملے کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری جو بقیق میں واقع ہے اور اس کے بعد دوسری بڑی ریفائنری خریص میں ہے، پر یمنی ڈرونز کے حملوں سے پہلے بھی گذشتہ کئی ماہ سے ریاض سمیت سعودی عرب کے طول و عرض میں یمنی افواج کی طرف سے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے جا چکے ہیں۔ یہ حملے اس بربریت کے جواب میں ہیں، جو یمنی عوام اور سرزمین کے خلاف ساڑھے چار سال سے جاری ہے۔ سعودی عرب نے یمن کو اس عرصے میں دنیا کے بدترین المیے میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ پہلے ہی یمن اس خطے کا غریب ترین ملک تھا۔ یمن کے ہسپتال، کارخانے، فیکٹریاں، سکول، پل، ہوائی اڈے، تجارتی مراکز یہاں تک کہ سڑکیں، کھیت، کھلیان سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ اس تباہ حال ملک میں 91 ہزار سے زیادہ افراد اس مسلط کی گئی جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

افسوس بے انصاف دنیا نے اس پر تو آواز نہیں اٹھائی کہ انہیں کس نے مارا اور ان کی سرزمین کو کس نے ویران و برباد کر دیا۔ آج جبکہ سر نہ جھکانے کا عزم کرنے والی یمنی قوم نے ظالموں اور جارحین سے بدلہ لینا شروع کیا ہے تو یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں۔ حد ہوگئی ہے کہ یمنی جو اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں، انہیں ہر کوئی باغی کہتا ہے اور ان پر حملہ آور جارحین کی حمایت کا منافقانہ سلسلہ جاری ہے۔ جارحین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے، ان سے ہمدردیاں جتائی جا رہی ہیں اور یمنیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ یہ مذمت وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جنھیں غیر جانبدار ہونے کا ادعا ہے اور جو ثالثی کروانے کا اعلان کرتے چلے آئے ہیں۔ جارح کی حمایت کے بعد جارح اور مجروح کے مابین ثالثی کا نام لینے کے لیے خاصی ڈھٹائی چاہیئے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ جارحین کے حامی ہیں، اعلان کے بغیر ان کو ہر طرح کی سپورٹ ان کی طرف سے مہیا کی جا رہی ہے، لیکن شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ستم رسیدہ انسانوں سے وعدہ ہے: وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَOوَ نُمَکِّنَ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ (قصص:5و6) "اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں، جنھیں زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے، ہم انھیں پیشوا قرار دیں، انھیں وارث بنائیں اور زمین پر انھیں اقتدار سونپیں۔" ہمیں یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ ظہور میں آنے کو ہے، جنھیں کمزور کر دیا گیا ہے، وہ بہت جلد پیشوا قرار پائیں گے اور ظالموں کے مقابلے میں انہیں اللہ کی طرف سے اقتدار سونپ دیا جائے گا۔ ہم اپنے حکمرانوں اور ابھی تک ظالموں کی دولت اور ثروت سے امیدیں باندھے ہوئے لوگوں سے یہ کہنا چاہیں گے کہ کم از کم اس حالت میں جبکہ ظالموں کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے، ان کے ٹائی ٹینک سے اتر آئیں اور سفینہ نوح میں سوار ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 816934
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب