1
Wednesday 18 Sep 2019 20:26

پاکستان کیساتھ منافقت پر سعودی رجیم کو قدرت کی سزا

پاکستان کیساتھ منافقت پر سعودی رجیم کو قدرت کی سزا
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

یمنی مجاہدین کے حملوں کے بعد سعودی تنصیبات سے اٹھنے والا دھواں ظالم اور جارح عرب شہزادوں کی جانب سے کشمیری مظلوموں کی حمایت کی بجائے مودی کا ساتھ دینے جیسے جرائم کی پاداش میں قدرت کے انتقام اور عذاب کی نشانی ہے۔ صہیونی مزاج شاہ سلمان اور اسکا جانشین بن سلمان شیطانی ہتھکنڈوں کی تکمیل میں عالمی استعماری طاقتوں کے کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ یمن کیخلاف جاری جارحیت میں تحریک انصاف کی جانب سے ساتھ نہ دینے کی قرارداد کی منظوری سے لیکر کشمیر کی حمایت میں پاکستان کے موقف تک، سعودی عرب نے پاکستان کیخلاف اسرائیل اور بھارت کا ساتھ دیا ہے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، ظالم کبھی قہر خدا سے بچ نہیں سکتا۔ تمام تر جدید ساز و سامان سے لیس امریکی ڈیفنس سسٹم حملوں کو روکنے میں ناکام رہا، یا دوسری صورت میں سعودی شہنشاہیت امریکی منافقت کا مزہ چکھ رہی ہے۔

پہلی صورت میں مزاحمتی محاذ ہر صورت میں چیلنجز کا جواب دینے کیلئے تیار ہے، دوسری صورت کا امکان نہیں کہ عراق کی طرز پر امریکی افواج کوئی بہانہ تراش کر ایران کیخلاف یلغار کرینگی اور پھر بچ کر نکل بھی جائیں گی۔ پاکستان اپنے پرانے موقف پہ قائم ہے، لیکن پہلی دفعہ عمران خان سفارتی چال کے طور پر سعودی عرب کیساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، اس دفعہ وہ امریکہ جانے سے پہلے سعودیہ جائیں گے، انہیں کشمیر سے متعلق بات کرنے میں آسانی ہوگی، اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو سعودیہ کیخلاف یمنی مجاہدین کی جوابی کارروائی بھی کسی طور مسلمانوں کا مسئلہ نہیں۔ اس دفعہ عمران خان پہلے کی نسبت پیسے بھی زیادہ لیں گے، عربوں کی حمایت بھی، اپنی حکومت کی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے مزید تعاون بھی۔ کوشش کرینگے کہ ٹرمپ کارڈ استعمال کریں، یمنی ڈرونز حملوں نے پاکستان کیلئے راستہ آسان کر دیا ہے۔

اب اسرائیل کی دلالی کرنیوالوں کو پاکستان کو بلیک میل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ڈرون حملوں سے چند دن پہلے سعودی دفاعی عہدیدار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے تھے، لیکن اب جی ایچ کیو سے سعودی رجیم کے لیے کوئی نحیف آواز بھی سامنے نہیں آئی، اس سے قبل سیاسی قیادت سے قبل عسکری قیادت یہ کام کر دیا کرتی تھی۔ حالانکہ اب سعودیہ کو زیادہ سنجیدہ اور مشکل تر صورتحال کا سامنا ہے، اس خطرے کو خود ان بدمعاشوں نے بڑھایا ہے۔ ان حملوں میں سید حسن نصر اللہ کی طرف سے عاشور کے موقع پر رہبر مسلمین سید علی خامنہ ای کے حضور کہہ گئے ان جملوں کی گھن گرج آسانی سے سنی جا سکتی ہے۔ سپاہ پاسداران، حزب اللہ، انصار اللہ یکجان ہیں، استعماری تصور سیاست کے برعکس اللہ کی جماعت ایک اور مضبوط قیادت کے زیرسایہ قدم بہ قدم وقت کے ہر فرعون کا غرور خاک میں ملا رہے ہیں، پاکستان اندر ہی اندر انہیں داد تحسین دے رہا ہے۔

اس دفعہ تو یہ واضح محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جتنا جلدی یہ سمجھ لیا جائیگا کہ اسرائیل اور بھارت کا مقابلہ مل کر کیا جاسکتا ہے، مسلمانوں کے مسائل اتنی جلدی حل ہو جائیں گے۔ روس کا طنزیہ انداز اور ترکی میں ایرانی صدر کی طیب اردگان سے ملاقات بھی پاکستان کے مدنظر ہے۔ زرداری دور میں پاکستان، چین، ایران اور روس پہ مشتمل ابھرنے والا بلاک زیادہ مستحکم ہو رہا ہے، امریکی اثر و رسوخ کم ہونے سے خطے میں امن بھی آئیگا اور ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ نیچی پرواز کے حامل میزائلیوں اور ڈرونز کا سعودی تیل کی صنعت کے دل میں وار سے ہو کا عالم ہے، ڈرون حملوں کی ذمے داری یمنی مجاہدین نے قبول کی، لیکن امریکی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے۔
 
اسی طرح امریکی صدر نے سعودی ولی عہد کو ٹیلی فونک گفتگو میں تیل تنصیبات کے تحفظ کے لیے مدد کی پیشکش کی، لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس قسم کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ سعودی رجیم کو یمن میں مداخلت کی غلطی کا احساس صرف ایسی ہی جوابی کارروائیوں سے ہوسکتا ہے، جس وجہ سے پہلے کی طرح وہ امریکہ سے ایران کیخلاف حملے کا مطالبہ کرنیکی بجائے، صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگی کارروائی کی پیشکش کے جواب میں شکریہ کساتھ خود ردعمل کا عندیہ دے رہے ہیں۔ سعودی آئل تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں، جس کے اثرات پاکستان پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، خدشہ ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے، کیونکہ قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کے برآمدی بل میں 80 کروڑ ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔ اب پاکستان کو زیادہ محتاط ردعمل کرنا ہوگا، خطے اور امت مسلمہ کے مفاد میں یہ ہے کہ یہ جنگ جلد از جلد ختم کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 816956
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب