0
Wednesday 18 Sep 2019 13:05

جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ، جذبہ سفر میں ہے

جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ، جذبہ سفر میں ہے
تحریر: طاہر یاسین طاہر

معزز شرکائے محفل، میں نہ تو ادیب ہوں، نہ خطیب، نہ شاعر، نہ مفسر، سماجیات و صحافت اور ادب کا ادنیٰ طالب علم ہوں۔ اپنے مشاہدات و مطالعات سے اپنی فکری استعداد کے مطابق نتیجہ اخذ کرتا ہوں اور اسے کاسہء قرطاس میں ڈال دیتا ہوں۔ موضوع میں قید لگائی گئی ہے کہ پانچ سے سات منٹ گفت گو کرنی ہے، میں شاید پانچ منٹ سے اوپر نہ جائوں کہ جب پانچ سے ہی کام ہو جائے تو زیادہ کی تمنا کیوں کر؟ ستمبر 1965ء سے تا دم، تحریر تک کی قید نہ ہوتی تو ہم تقسیم ہند سے ہونی والی کاوشوں میں ادبی محاذ کے کردار پر بھی بات کرتے۔ لیکن "بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر" موضوع سے منسلک ہونے کے لیے ہمیں ایک بار تو اپنی تاریخ کی طرف مڑ کر دیکھنا ہوگا۔ مثلاً پاکستان کا مطلب کیا؟ " لا الٰہ الا اللہ" "14 اور 15 اگست 1947ء کی یہ درمیانی شب تھی، جب دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم نظریاتی ریاست معرضِ وجود میں آئی۔ ٹھیک بارہ بجتے ہی ریڈیو پاکستان لاہور سے اردو میں غلام مصطفیٰ ہمدانی کی آواز گونجتی ہے ’’ہم ریڈیو پاکستان سے بول رہے ہیں۔‘‘

جس پاکستانی سامع نے یہ آواز سنی، اس کی آنکھیں چھلک گئیں، کیونکہ کچھ لمحات قبل شناخت مختلف تھی، مگر اب وہ ایک باوقار اور آزاد مملکت کا باشندہ بن چکا تھا۔ ہر طرف پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ کے نعرے گونج رہے تھے۔ اسی اثناء میں ریڈیو پاکستان پشاور سے ایک قومی نغمہ اسٹیشن ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی اور ساتھیوں کی آواز میں گونجتا ہے،
پاکستان بنانے والو! پاکستان مبارک ہو!
قومی شان بڑھانے والو! پاکستان مبارک ہو۔۔

یہ ریڈیو پاکستان پشاور کی جانب سے پاک فضاؤں میں بکھرنے والا حب الوطنی کا پہلا نغمہ تھا، جسے احمد ندیم قاسمی صاحب نے تحریر کیا تھا۔ اسی طرح منور سلطانہ نے 1946ء میں دو قومی نغمے گا کر بابائے پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ نغمے آج بھی اسی قدر مقبول ہیں، جیسے پہلے دن تھے۔ یہ دو نغمات ترکی میں پاکستان کے پہلے سفیر جناب میاں بشیر احمد کے لکھے ہوئے ہیں، جنہیں قادر فریدی نے کمپوز کیا۔ نغمات کے بول یہ تھے:
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح

اور دوسرے قومی نغمے کے بول تھے،
ملت ہے فوج، فوج کا سردار ہے جناح
اسلامیانِ ہند کی تلوار ہے جناح


اس امر میں کلام نہیں کہ رزمیہ کلام، سپاہ اور قوموں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں، انہیں غیرتِ ایمانی دلاتے ہیں اور دشمن پر ٹوٹ پڑنے کے حوصلے کو مہمیز کرتے ہیں۔ تاریخ کا سفر بہت طویل ہے، میں اس کے جال میں پھنسے بغیر آگے بڑھتے ہوئے گزراش کرنا چاہوں گا کہ ادبی محاذ تحریکِ پاکستان کے ساتھ ہی سرگرم ہوگیا تھا۔ جب منزل سامنے نظر آنے لگی تو شاعروں، ادیبوں، موسیقاروں، مصوروں اور فنونِ لطیفہ کے دیگر معماروں نے ادبی محاذ کا مینارہ تعمیر کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا تھا، جو تادمِ تحریر جاری ہے۔ میاں بشیر احمد، مولانا ظفر علی خان، اصغر سودائی، کیف بنارسی اور رئیس امروہوی وہ قابل ذکر نام ہیں، جنھوں نے قومی و ملی نغمات لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ اس سے قبل اردو شاعری میں قومی شاعری کا آغاز تو علامہ شبلی نعمانی نے ہی کر دیا تھا، جس کی بنیاد پر مولانا محمد علی جوہر، علامہ سید سلیمان ندوی اور علامہ محمد اقبال جیسے عظیم شعراء ملت نے مستحکم عمارت تعمیر کی، مگر ساز و آواز کے ساتھ قومی نغمات 1945ء کے بعد ہی شروع ہوئے، جس کی وجہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران بننے والے جنگی ترانے تھے، جنہیں ریڈیو سے بار بار نشر کیا جاتا۔ ملکہ پکھراج، خورشید بیگم مرزا، نور جہاں، غلام دستگیر، ایمی بائی اور فریدی نے نغمات کو پرجوش انداز میں گایا۔ ہمیں تاریخ کی بنیادوں کی طرف ایک نظر ضرور دیکھنا چاہیئے۔ آج ہم جس جگہ اور تاریخ کے جس موڑ پر کھڑے ہیں، یہ فیصلہ کن لمحات ہیں۔

قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں میں جو چیز میرے مطالعے میں آئی، وہ یہی ہے کہ جس قوم کی منزل متعین نہ ہو، جس کی لیڈر شپ بکھری ہوئی ہو، اور جو معاشرہ مختلف گروہی اہداف رکھتا ہو، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے کو کوئی بہت ہی زیرک سیاستدان، اپنے دانش ورانِ ملت کے ہمراہ مل کر ہی سنبھال سکتا ہے۔ جب ہم ستمبر 1965ء کی طرف دیکھتے ہیں تو بلاشبہ ایک مکار دشمن رات کی تاریکی میں اپنے تئیں یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس کی فوج دوپہر کا کھانا لاہور میں کھائے گی۔ تاریخ کے اوراق اپنے دامن میں آپریشن جبرالٹر اور اس کے ردعمل کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہا اور روز اول سے ہی اس نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ 1965ء کی جنگی وجوہات کیا تھیں؟ اس پر بحث کی ضرورت نہیں، اتنا کافی ہے کہ 25 فروری 2019ء کی رات کی طرح ستمبر 1965ء میں بھی دشمن نے رات کے اندھیرے میں حملہ آور ہونے کو ترجیح دی۔

1965ء کی جنگ کا نتیجہ بھی وہی نکلا، جو 27 فروری 2019ء کو پاک فضائیہ نے دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ یعنی دشمن کے دو جہاز آن کی آن میں مار گرائے۔ مگر ستمبر 1965ء کی جنگ 17 دن تک لڑی گئی۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ قومی نغمات کے فروغ میں پاکستان فلم انڈسٹری نے بھی اہم کردار ادا کیا بلکہ 1970ء کے عشرے تک اکثر مشہور قومی نغمات دراصل فلموں ہی کا حصہ تھے۔ پاکستانی فلموں میں اب تک 150 سے زائد قومی نغمات موجود ہیں، جو دنیا بھر کی فلم انڈسٹریز میں نغماتِ وطن کے حوالے سے بھی ایک ریکارڈ ہے۔ 1949ء میں پاکستان کی دوسری فلم شاہدہ جو ہدایتکار لقمان نے بنائی تھی، اس میں منور سلطانہ نے ہجرت کے تناظر میں ’’الوداع پیارے وطن الوداع‘‘ گایا۔ گویا یہ پاکستانی فلم انڈسٹری کا پہلا قومی نغمہ تھا۔ یہ گیت قتیل شفائی نے لکھا تھا جبکہ نغمے کی دھن ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی۔

فلمساز چوہدری حسن الدین اور ہدایتکار رفیق سرحدی کی فلم ’’چنگیز خان‘‘ میں طفیل ہوشیار پوری کا تحریر کردہ جنگی ترانہ
اے مردِ مجاہد جاگ ذرا۔۔۔ اب وقتِ شہادت ہے آیا
اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر

بے حد مشہور و مقبول ہوا، جو آج بھی سامعین کے جذبات کو گرما دیتا ہے۔ رشید عطرے کی موسیقی سے سجا یہ جنگی ترانہ پاک فوج ملٹری بینڈ کا سرکاری ترانہ ہے۔ اس کے علاوہ فلم ’’سلطنت‘‘میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا لکھا ہوا ترانہ،
’’قدم بڑھاؤ ساتھیو! قدم بڑھاؤ
تم وطن کے شیر ہو، شیر ہو دلیر ہو‘‘

بھی ہمارے یادگار جنگی ترانوں کا حصہ ہے، جسے عنایت حسین بھٹی کے ساتھ آئرین پروین نے گایا۔ مذکورہ بالا دونوں نغمات جنگ ستمبر 65ء کے دوران ریڈیو  پاکستان سے نشر ہوتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ ترانے خاص اسی موقع کے لئے تیار کئے گئے ہوں۔

یاد رہے کہ یہ دونوں نغمات ستمبر 1965ء سے کچھ دیر پہلے کے لکھے ہوئے تھے۔ لیکن بہ طور خاص ریڈیو پاکستان کے لاہور اور کراچی سٹوڈیو سے جنگ ستمبر میں شعرا، گلوکاروں اور موسیقاروں نے جو خدمات سر انجام دیں، ان کی توصیف نہ کرنا ادبی بد دیانتی اور احسان فراموشی ہوگی۔ آپ سب جانتے ہیں کہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے لکھے نغموں و ترانوں اور میڈم نور جہاں کی جادوئی آواز نے نہ صرف پاک فوج کے جوانوں بلکہ پوری قوم کے جذبات کو رخِ آسمان تک پہنچا دیا تھا۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کو سب سے زیادہ ملی ترانے ریکارڈ کرانے کا اعزاز حاصل ہوا، عوام پر بھی وجد طاری ہو جاتا اور ہر کوئی میدان جنگ کی طرف چل دیتا۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں مشیر کاظمی کا قومی نغمہ اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو، بے حد مقبول ہوا۔ اس نغمے کی موسیقی میاں شہر یار نے ترتیب دی تھی۔
اے راہِ حق کے شہیدو! وفا کی تصویرو!
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بھجا دیئے تم نے
بچالیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو
سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے
تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں
اے راہِ حق کے شہیدو! وفا کی تصویرو!

لیکن میں نے جس ملی نغمے کو سن کر آج بھی بوڑھی عورتوں بلکہ ہر حساس دل پاکستانی کی آنکھوں میں نمی دیکھی، وہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یہ لازوال پنجابی ترانہ ہے، جیسے ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی آواز کے جادو سے امر کر دیا۔

جنگ ستمبر میں لکھے گئے دیگر قومی نغموں کے مقابلے میں بعض ناقدین ِ ادب کی اس نغمے کے حق میں یہ رائے بھی ہے کہ یہ نغمہ فنی و ادبی اعتبار سے بھی اپنے ہم عصر ملی نغموں میں بہت بلند ہے، اس نغمے کے بول یقیناً آپ سب کو یاد ہیں:
ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
کیہہ لبھنی ایں وچ بازار کڑے
ایہہ دین ہے میرے داتا دی
نہ ایویں ٹکراں مار کڑے
کیہہ لبھنی ایں وچ بازار کڑے

یہ نغمہ اس قدر دل سوز اور انسانی نفسیاتی و احساسات کے قریب ہے کہ آج بھی اسے سنتے ہی عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ آپ یقین مانئے بخدا آج صبح تین بار میں نے یہ نغمہ سن کر، یہ مختصر کالم لکھا۔

استاد امانت علی خان کا گایا ہوا ملی نغمہ ساز و آواز اور شاعری کا عجیب و حسین امتزاج ہے۔
اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن
اے میرے پیارے وطن
تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پرنور
عزم میرا قوی، میرے ارادے ہیں غیور
میری ہستی میں انا ہے، میری مستی میں شعور
جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
اے میرے پیارے وطن۔

معروف کالم نگار افضل رحمان یکم ستمبر 2015ء کو روزنامہ دنیا میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ "ساتھیو مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن" خاص پر جنگ ستمبر کے لیے ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا، بلکہ حمایت علی شاعر نے یہ جنگی ترانہ فلم "مجاہد" کے لیے لکھا تھا، جو غالباً ستمبر 1965ء کے پہلے ہفتے میں ریلیز ہوئی تھی "،۔ لیکن یہ نغمہ اس قدر معروف ہوا کہ آج بھی اس کی صدائیں فضائوں کا سینہ چیز کر آسمان کی بلندیوں کی رفعتوں تک پرواز کرتی ہیں۔

آج بھی حالات 1965ء سے کم نہیں بلکہ اس سے زیادہ سنگین ہیں۔ بھارت گاہے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ اس کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو کبھی نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے خود ہی کوئی ڈرامہ رچا لیتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنی متعصب طبیعت سے مجبور ہو کر مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر دیا تھا، جس کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔ البتہ آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے، کے خاتمے کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا، جسے 45 روز سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے یہ اقدام انتہائی سنگین اور خطرناک ہے۔ اگر بھارت صرف ایک دن کے لیے کرفیو اٹھا لے تو خود دیکھ لے گا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔

اصل میں متوقع شدید ترین احتجاج سے بچنے کے لیے کرفیو لگا کر حریت پسند کشمیریوں کو ذہنی و بدنی اذیتوں سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ جتنی دیر کرفیو لگا رہے گا، یہ بھارت کے مفاد میں ہے اور مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی قوت مزاحمت کمزور ہوگی۔ یہ ایک ڈرامائی خیال ہے، جو خود اب بھارت کے گلے پڑ چکا ہے۔ دنیا کے عدل پسند اب اپنی اپنی حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے دنیا کے فیصلہ ساز ممالک کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی کہا کہ روس، امریکہ اور چین کے صدور مل کر مسئلہ کشمیر حل کروا سکتے ہیں۔ کشمیر کی تازہ صورتحال پروفیسر ناصر علی مینگل نے یوں بیاں کی کہ:
کشمیر کے فرات پہ اصغر ہے تشنہ لب
حرمل کا دست ِظلم ابھی تک رکا نہیں


قلت ِوقت کے باعث بہت سے مثالیں دینے سے محتاج ہوں، مگر ہماری، بحری، بری اور فضائیہ یہ یقین رکھے کہ شعراء، ادباء، گلوکار و موسیقار اور پوری پاکستانی قوم آج بھی اسی طرح جذبہء سرفروشی میں سرمست ہے، جس طرح ستمبر 1965ء کو تھی۔ آج بھی خلیق انجم، خرم خلیق، محمد نصیر زندہ، جنید آزر، پروفیسر ناصر علی مینگل، وفا چشتی، شیدا چتشی، پیر عتیق احمد چشتی، سائل نظامی اور یہ نا چیز  اپنے دیگر ہم عصروں کے ساتھ مل کر اپنی نثر و نظم میں ملی و قومی جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ملی نغموں و جنگی ترانوں کی موجودہ ہیئت اور گلوکاروں کی پاپ میوزک کی طرف رغبت نے کلاسیکی رحجان کو تکلیف دی ہے، مگر چونکہ نوجوان نسل کا رحجان جنون یعنی تیر رفتار موسیقی کی طرف ہے تو اب شعراء بھی تیز تر مصرعے تراش رہے ہیں۔ ہمیں اپنی قوم کے اس مزاج کا درست اندازہ ہے کہ دو مواقع پر یہ قوم یکجا و یکجان ہو جاتی ہے۔ جب کوئی دشمن پاک وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے، یا پھر جب کوئی گستاخ و بد نصیب جناب رسالت مآبﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔

یہ انسان کی جبلی ترجیحات ہیں کہ وہ اپنی مٹی اور اپنے دین کے معاملے میں حساس تر ہوتا ہے۔ اے کاش یہ قوم ترقی و سربلندی کے دیگر منصوبوں میں بھی، نسلی و مسلکی اور علاقائی و لسانی بنیادوں سے بالاتر ہو کر یکجا و یکجان ہو جائے تو ہم بھی کم از کم خطے کی فیصلہ ساز قوت بن سکتے ہیں۔ آخر میں، میں "نظریہ پاکستان کونسل اسلام آباد" کی انتظامیہ اور بالخصوص برادرِ اکبر، ملک کے ممتاز شاعر جناب انجم خلیق صاحب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ ایسے کم کمال اور بے ہنر کو اتنے بڑے فورم اور ملک کے سرخیل دانش وروں کے درمیان اپنے خیالات اور قومی ترجمانی کے اظہار کا موقع عطا کیا۔
نوٹ: یہ مقالہ گذشتہ روز نظریہ پاکستان کونسل کے مجید نظامی ہال میں منعقدہ سیمینار "جنگِ ستمبر کا ادبی محاذ، جذبہ سفر میں ہے" کے زیر ِ عنوان پڑھا گیا۔ پاکستان میں، پاک بھارت کشیدگی اور کشمیر  و خطے کے حالات کے تناظر میں، ستمبر کو دفاعِ وطن کے حوالے سے زیادہ پرجوش اور پر عزم طریقے سے منایا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 816969
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے