0
Thursday 19 Sep 2019 07:47

جدید تمدن اسلامی کا احیاء

جدید تمدن اسلامی کا احیاء
اداریہ
خداوند عالم نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے اور حضرت انسان کے کمال و ارتقاء کے لیے انبیاء، رسل، آئمہ و اولیاء اور آسمانی کتابیں نازل کیں۔ انسان کو اعلیٰ و ارفع مقام تک پہنچانے کے لیے خداوند عالم کی ہدایت کا سلسلہ تخلیق انسان سے شروع ہوا اور تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔ اس ہدف کو مکمل کرنے کے لیے فرد کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے کی تشکیل و تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ تمام انبیاء و رسل اور آئمہ و اولیاء ایک ایسی تہذیب و تمدن کے قیام و احیاء کے لیے کوشاں رہے، جو انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ آسمانی تمدن جسے آج کے دور میں اسلامی تمدن کا نام دیا جا سکتا ہے، ماضی میں غیر الہیٰ اور غیر آسمانی ادیان و مذاہب اور ان کے پیشوائوں کے ذریعے جارحیت کا نشانہ بنا رہا اور آج بھی آسمانی و الہیٰ تمدن کے راستے میں کانٹے بوئے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔

رحمانی قوتیں انسان کو کمال تک پہنچانے کا عمل جاری رکھیں گی اور شیطانی قوتیں انسان کو ذلت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دھکیلنے کے لیے کوشاں رہیں گی۔ موسیٰ و فرعون، ابراہیم و نمرود، محمد و ابو جہل، علی و معاویہ اور حسین و یزید کا یہ معرکہ آج بھی مختلف انداز میں جاری ہے۔ رحمانی و آسمانی ہستیوں نے جس الہیٰ تمدن کی بنیادوں کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کیا، اس عظیم تمدن کو معاشرے کے لیے زندہ و تابندہ رکھنا ہر الہیٰ انسان کی ذمہ داری ہے۔ عظیم اسلامی تمدن یا الہیٰ جہاں بینی کو مشکوک یا اس نظریئے کے خاتمے کے لیے آج "تاریخ کا خاتمہ"، "تہذیبوں کے درمیان جنگ" اور اس طرح کے مختلف نظریات اور فلسفوں کو مشرق و مغرب میں پھیلایا جا رہا ہے۔ امریکہ میں تو قدامت پسند، اسرائیل کے صہیونی اور دنیا بھر میں صہیونی لابی نیز "صہیونی عیسائیت" ان نظریات کو راسخ کرنے میں رات دن ایک کیے ہوئے ہے۔

اس پرفتن دور میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای "جدید اسلامی تمدن" کے احیاء کا پرچم لیکر میدان میں اترے ہیں۔ وہ ایران کے اسلامی انقلاب بلکہ ہر اسلامی تحریک کے آخری ہدف و مقصد کو جدید اسلامی تمدن کے احیاء و ارتقا سے جوڑتے ہیں۔ مغرب و مشرق کا نظریہ پرداز جدید اسلامی تمدن کے نظریئے سے اچھی طرح آگاہ ہوچکا اور وہ اس کے مقابلے کے لیے میدان میں اتر چکا ہے۔ دنیا میں آخری جنگ جدید اسلامی تمدن کے احیاء کے علمبرداروں اور اس نظریئے کے ٘مخالفین کے درمیان ہوگی۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے گذشتہ روز کے خطاب میں جدید اسلامی تمدن میں امام حسین علیہ السلام کی تحریک اور اربعین کے اجتماع کو ایک ایسا موڑ قرار دیا ہے، جو انسانیت کو جدید تہذیب سے آشنا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 817100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب