0
Friday 20 Sep 2019 08:35

امریکی دہشتگردی میں شدت

امریکی دہشتگردی میں شدت
اداریہ
عالمی سیاست میں دہشت گردی کی اصطلاح اور اس کے مصداق کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سامراجی طاقتیں حریت پسندی، آزادی خواہی، خود مختاری اور اپنے حقوق کے لیے جنگ کرنے والوں کو اگر وہ سامراج مخالف ہوں تو ان کو دہشت گرد قرار دیتی اور اس عمل کو دہشت گردی کا نام دیتی ہے۔ دوسری طرف ایسی انسان دشمن ریاستوں، وحشی تنظیموں، خونخوار اداروں اور بہیمانہ طریقے سے قتل کرانے والے اشخاص کو بھی دہشت گردی کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک صفحے پر ہوں۔ سامراجی پروپیگنڈے کی وجہ سے دہشت گردی کی متفقہ تعریف ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی، یہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسا دہشت گرد ملک، افغانستان، عراق اور شام وغیرہ میں دہشت گردی مخالف اتحاد بنا کر دہشت گردوں کو اپنی چھتری تلے پناہ دیتا ہے۔ شام اور عراق میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ دہشت گردوں کی مخالفت کا دعویٰ کرنے والا امریکی اتحاد داعش اور جھبۃ النصرہ جیسے دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔

امریکی قیادت میں جدید ترین مواصلاتی اور سٹیلائٹ سسٹم کی موجودگی میں امریکی ہوائی جہاز غلطی سے دشمن اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں پر ہتھیار پھینکتے رہے ہیں۔ زمین پر چلنے والی چیونٹی کی نقل و حرکت کو دیکھنے کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کے جدید ترین سیٹلائٹ نظام کو داعش کے وہ ہزاروں آئل ٹینکر نظر نہیں آئے، جو عراق و شام سے ترکی کے راستے بڑے مزے سے تیل اسمگل کرتے رہے۔ امریکہ کے دہشت گرد اور امریکی نقطہ نگاہ سے دہشت گردی امریکی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ امریکہ کا مفاد ہو تو افغانستان کے جنگجو مجاہد قرار پاتے ہیں، جب امریکی مفاد ختم ہو جائے تو وہی مجاہد دہشت گرد بن جاتے ہیں اور ان کے خلاف افغانستان کو بدترین صورتحال سے دوچار کیا جاتا ہے۔ پس امریکہ خود ہی دہشت گرد بنانا ہے، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح انہیں کوڑے دان کے حوالے کر دیتا ہے۔

امریکہ نے ماضی میں دہشت گرد اور دہشت گردی کو تخلیق کیا اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ آج امریکہ نے دہشت گردی کا ایک نیا انداز اپنایا ہوا ہے، پہلے اس انداز کو اقتصادی پابندیاں کہا جاتا تھا، لیکن اب ان پابندیوں کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ دہشت گردی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی سے بھی عام انسانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور اقتصادی پابندیوں میں اگر اتنی شدت لائی جائے، جس سے حکومتوں کی بجائے عوام الناس کا جینا دوبھر ہو جائے تو اسے بغیر ہتھیاروں سے دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ کی حالیہ اقتصادی پابندیوں کو امریکہ کی اقتصادی دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔ امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے گذشتہ روز کے بیان میں امریکہ وزیر خزانہ کو ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ گویا ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی میں شدت کا حکم جاری کیا ہے۔ البتہ اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ ایران کے خلاف اب تک کی امریکی اقتصادی دہشت گردی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی، اس لیے اس دہشت گردی میں شدت لانے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 817239
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب