0
Friday 20 Sep 2019 04:39

آرامکو تیل کی تنصیبات پر حملہ اور سعودی عرب کی بےچینی

آرامکو تیل کی تنصیبات پر حملہ اور سعودی عرب کی بےچینی
تحریر: محمد حسن جمالی
 
متون دینی میں جابجا اس حقیقت کا تذکرہ ملتا ہے کہ ظلم کا نتیجہ بےچینی، تاریکی اور نابودی ہے۔ ظالم کوئی بھی ہو اس کا انجام دردناک ہوتا ہے، کوئی بھی قوم یا فرد اختیار کی نعمت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرے، ظالم بن کر جینا پسند کرے، انسان بننے کی بجائے درندہ بن کر زندگی بسر کرنا چاہے تو نتیجہ سرنگونی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ کامیابی اور فتح مظلوم کا مقدر بن کر رہ جاتی ہے، جس کی بنیادی وجہ مظلوم کو خدا کی جانب سے امداد غیبی کا شامل حال ہونا ہے، رب کائنات کا یہ پکا وعدہ ہے، "ان تنصرکم اللہ ینصرکم" اگر تم اللہ کی نصرت کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا۔ مگر افسوس! سعودی حکمرانوں نے اس آیت کو ٹھکرایا، اس پر ایمان نہیں لایا، اس کی کھل کر مخالفت کی، وہ نصرت پروردگار کی بجائے شیطان بزرگ کی مدد کرنے پر راضی ہوئے، انہوں نے اسلام کی زرین تعلیمات پر عمل کرکے حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت کرنے کی بجائے اسلام اور مسلمانوں کا سرسخت دشمن  اسرائیل کا بغل بچہ بن کر مسلمانوں کی رسوائی کا باعث بننے کو پسند کیا۔

دنیا کی چند روزہ زندگی کو ظالم بن کر گزارنے کا ارادہ کیا، عزت کی زندگی پر ذلت آمیز زندگی آزادانہ زندگی پر غلامانہ زندگی کو ترجیح دی۔ گرچہ انہوں نے سلفی اور تکفیری بےبنیاد اعتقادات کی بنیاد پر مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والوں کو مشرک قرار دینے والے ٹولے کو بھرپور سپورٹ کیا، مگر عملا نصوص قرآنی کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے خدا سے زیادہ امریکہ اور اسرائیل کے طاقتور ہونے پر باور کرکے وہ شرک جلی کے مرتکب ہوئے۔ کیا یہ صریح تضاد نہیں کہ ایک طرف سے وہ کہتے ہیں خدا کے علاوہ کسی سے مدد مانگنا کفر ہے تو دوسری جانب سے امریکہ و اسرائیل کی نصرت پر مکمل یقین کرکے اقدار اسلامی کو پائمال کرنے میں کوئی کسر چھوڑنے کا نام نہیں لے رہے ہیں؟ کیا یہ کھلی منافقت نہیں کہ ایک طرف سے آل سعود حرمین شریفین کے خادم ہونے کے دعویدار ہیں اور دوسری طرف سے یمن کے مسلمانوں پر شب خون مار رہے ہیں؟

کیا یہ اسلام کے ساتھ آشکارا مذاق نہیں کہ ایک طرف سے وہ سعودی عرب اسلامی و مذہبی مرکز ہونے کا اعلان کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف سے اسی نام نہاد اسلامی مرکز سے مسلمانوں کے کفر کے فتوے مسلسل پرچار ہو رہے ہیں؟ کیا یہ حکم اسلام سے کھیلنا نہیں کہ جب بھی سعودی عرب کو اپنے غلط کرتوت کی سزا اسی دنیا میں ملنے لگتی ہے تو پاکستان کے سعودی نواز مولوی دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے سادہ لوح مسلمانوں کو تحفظ حرمین شریفیں کا شعار بلند کرتے ہوئے مدد کے لئے پکاریں مگر کشمیر کے حالیہ ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں سعودی حکمران یہ کہہ کر زبانی مذمت تک کرنے کو مناسب نہ سمجھیں کہ کشمیر کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں؟ کشمیر میں ہونے والی جارحیت وحشیت اور بربریت سے مکمل طور پر لاتعلقی کا مظاہرہ کرکے سعودی عرب کے حکمران سمیت مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے پیٹ بھری کا انتظام کرنے والوں نے دنیا کے سامنے ایک بار پھر یہ آشکار کردیا کہ سعودی عرب کی داخلی اور خارجی پالیسیز کا محور مادی مفادات ہوتے ہیں جس تک رسائی کے لئے وہ اسلام کو بطور آلہ استعمال کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب جارح مودی نے اپنی ناپاک فوج کے ذریعے کشمیر پر جنگ مسلط کروائی، کشمیری مسلمان جل کر خاکستر بن گئے، کشمیریوں کے لئے زندگی عذاب بن گئی، ان کے گھر اجڑ گئے، ان کی معمولات اور معاملات زندگی درھم برھم ہوگئے، وادی کشمیر وہاں کے باشندوں کے لئے زندان میں تبدیل ہوگئی، اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے بجائے نسل یہود کے حکمران خاموش تماشائی بن بیٹھے، جس کا واحد ہدف مودی غدار کی دوستی کو تحفظ فراہم کرنا تھا، شیطان مثلث یعنی امریکہ اسرائیل اور ہندوستان کے حکمرانوں کی خشنودی حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں! گویا اس نے یوں کہا ہے کہ کشمیر جلے، وہاں کے مسلمان بچے مرد عورتیں مریں، ان کی عزتیں لٹیں تو ہمیں کیا وہ خود جانیں یا ہندوستانی سرکار، ہم کشمیری مسلمانوں کی حمایت کرکے اپنے آقاؤں کو ناراض نہیں کرسکتے، بلکہ اگر وہ ہمیں برعلیہ مسلمان لڑنے کا اشارہ دیں، تو ہم پوری رغبت سے اس کام کے لئے تیار رہتے ہیں، جس کی واضح مثال جنگ یمن ہے، جس میں لاتعداد بے گناہ مسلمانوں کو سعودی عرب نے خون ناحق کے سمندر میں ڈبو دیا۔

مگر ہمارا سلام ہو یمنی غیور فوج اور مسلمانوں پر جنہوں نے ایمانی طاقت سے لیس ہوکر ظالم سعودی فوج کی گولیوں کا مقابلہ پتھر اور کنکریوں سے کیا، سعودی جارحیت سے ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے، جنازے اٹھا اور دفنا کر تھکن کا احساس نہیں کیا، بلکہ وہ میدان میں ڈٹ کر فداکاری کا مظاہرہ کرتے رہے، مقاومت کرتے رہے، اپنے دفاعی وسائل بڑھاتے رہے، یوں پانچ سال کے عرصے میں سعودی بربریت نے یمنی مسلمانوں کو جنگی میدان میں بہت طاقتور بنادیا، وہ اس مختصر عرصے میں اس قدر قوی ہوئے کہ اب وہ سعودی عرب سمیت سرکش گھوڑوں کو لگام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، وہ سعودی عرب کے مظالم کا بھرپور جواب دینے کی منزل پر پہنچ چکے ہیں، جس کا نمونہ سعودی عرب کے اہم مقامات پر وقتا فوقتا یمنی فوج کی طرف سے کئے جانے والے ڈرون کامیاب حملے ہیں، خاص طور پر چند روز قبل آرامکو کی دو اہم ریفائنریز پر یمنی مجاہدوں کی طرف سے کئے گئے کامیاب حملے نے سعودی عرب کو سخت  اضطراب اور بےچینی میں مبتلا کردیا ہے، کیونکہ یہ حملہ سعودی مفادات کے مرکز پر ہوا، جس سے سعودیہ کی تیل سپلائی کا سلسلہ شدید متاثر ہوا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس حملے کے بعد سعودی تیل کی سپلائی نصف رہ گئی ہے، تیل کی تنصیبات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، حملے سے پہلے والی آئل پروڈکشن تک پہنچنے کے لئے کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں %15 سے %20 تک اضافہ ہوا ہے۔

 لیکن دروغگو پہ لعنت امریکہ سمیت سعودی عرب کے حکمرانوں کو غلام بنانے والی طاقتوں نے سعودی عرب کی شکست اور زوال کے تسلسل پر پردہ ڈالنے نیز یمنی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو چھپانے کے لئے کہا کہ اس حملے کا ذمہ دار ایران ہے! یہ ایران کا ہی کیا دھرا ہے، یمنی فوج میں اتنی طاقت کہاں ہے؟ ان کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آگئے؟ جبکہ یمنی مسلمانوں نے پوری شجاعت سے افتخار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس حملے کا ذمہ دار ہم ہیں، سعودیہ تیل تنصیبات کو نشانہ ہم نے بنایا ہے، یہ ہماری طاقت کی ایک جھلک ہے، ہم اب آئندہ وسیع پیمانے پر سعودی عرب کے اہم مقامات پر حملے کرتے رہیں گے، مگر یہاں بھی سعودی عرب اپنے آقاؤں کی رضایت کی خاطر بغیر شرم و حیا کے اس حملے کا الزام ایران کے سر تھونپ کر شور اور واویلا کررہا ہے اور جب دیکھا کہ اس بات میں اتنا وزن نہیں تو کہا ایران کا اسلحہ اس میں استعمال ہوا وغیرہ .. بلا شبہ یہ ساری باتیں الغیبة جھد العاجز کا مصداق ہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیطانی طاقتیں سعودی عرب سے یہ کہلوانے پر مصر کیوں ہیں کہ حملہ ایران نے کیا ہے؟

جواب روز روشن کی طرح واضح ہے، اس وقت پوری دنیا میں کوئی ملک سپر طاقتوں کے دعویداروں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چُبھ رہا ہے تو وہ ایران ہے، یہ وہ واحد ملک ہے جس کا مطمع نظر اسلام اور مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرنا ہے، ایران قرآنی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ ہرجگہ مظلوم کا دفاع کرتا ہے اور ظالم کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے، فلسطین ہو یا کشمیر ایران نے کھل کر مظلومین کا ساتھ دیا، ان کی بھرپور حمایت کی اور ظالموں کی مذمت کرنے کے ساتھ ان کو ظلم و ستم کے برے انجام کا آئینہ بھی دکھایا، ایرانی سپریم لیڈر نے مختلف مواقع پر کئے گئے اپنے خطاب میں سعودی عرب کو بیدار ہونے، بصیرت سے کام لینے، اسلام کے دشمنوں پر اعتماد نہ کرنے اور ہوش کے ناخن لینے کی نصیحت کی گئی، سعودی حکمرانوں کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ شیطان بزرگ امریکہ تمہیں صدام اور رضا شاک پہلوی کی طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے اور ان کا جو انجام ہوا ساری دنیا جانتی ہے، تمہارا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔

اس سے اتمام حجت تو ضرور ہوا، مگر آل سعود پر ان نصیحتوں کا چندان اثر نہ ہوا کیوں؟ کیونکہ ان کے شکم لقمہ حرام سے بھرے ہوئے ہیں۔ تاریخ کربلا کے سینے میں آج بھی یہ بات محفوظ ہے کہ کچھ پتھر دل رکھنے والے لوگوں پر سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کی نصیحتوں کا  اثر نہیں ہوا کیونکہ ان کے شکم لقمہ حرام سے بھرے ہوئے تھے۔ دنیا کے مسلمانوں کو آنکھ کھول کر تعصب کی عینک اتار کر سعودی عرب کے حکمرانوں اور مذہبی مولویوں کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینا چاہیئے، سعودی عرب میں روزبروز گرتی ہوئی اسلامی اقدار کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیئے، مسئلہ کشمیر سے سعودی عرب کی لاتعلقی کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیئے اور اس ملک کے نام نہاد مفتیوں کے فتووں کو نصوص قرآن و احادیث پر تطبیق کرکے دیکھنا اور پرکھنا چاہیئے کیونکہ وہاں ہر مذہبی و غیر مذہبی امور آل سعود کی ہی زیر نگرانی انجام پذیر ہوتے ہیں، جن کا قرآنی نصوص سے کھلا مذاق اب پوشیدہ نہیں رہا۔ اگر آج سعودی عرب کی ساکھ گرتی جارہی ہے تو علت قرآن سے دوری ہی ہے، بقول علامہ اقبال 
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر 
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
خبر کا کوڈ : 817241
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب