0
Friday 20 Sep 2019 17:05

پاراچنار، ایس ایچ او کیخلاف عمائدین کی پریس کانفرنس

پاراچنار، ایس ایچ او کیخلاف عمائدین کی پریس کانفرنس
رپورٹ: روح اللہ طوری

پاراچنار کے قبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کو ٹھکراتے ہوئے ایس ایچ او پاراچنار نے پکڑے گئے 28 بیل اور گائیں مالکان کو واپس کرنے کی بجائے فروخت کر دیئے۔ عمائدین نے ایس ایچ او کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطرف نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ پاراچنار پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے عمائدین بلال حسین طوری سکنہ بستو، ملک قاضی سید افتخار حسین بنگش، نوابزادہ سید کاظم حسین طوری، نصرت حسین مالی خیل، سید نبی حسین کاظمی اور دیگر عمائدین نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں نئے نظام کے قیام کیلئے یہ قبائل خوش تھے، مگر بعض اہلکاروں کی من مانیوں اور رشوت خوری کے باعث قبائلی علاقوں میں نئے نظام سے وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور سہولیات کی بجائے نئے نظام چلانے والوں نے عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

قبائلی عمائدین کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے مالی خیل میں پکڑے گئے 28 بیل اور گائیں اصل مالکان کو واپس دینے کے احکامات دیئے، تاہم عمائدین جب پاراچنار کے ایس ایچ او عبد القاسم کے پاس عدالتی احکامات لے کر گئے، تو پہلے ان سے پچاس ہزار روپے رشوت لے لی اور بعد میں مال مویشی مالکان کو واپس کرنے کی بجائے فروخت کر دیئے۔ عمائدین نے عدالتی احکامات ٹھکرانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او عبد القاسم رشوت لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے آنے سے دفاتر میں رشوت خوری کا بازار گرم ہے۔ بغیر رشوت کے عوام کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ کسی تعلیم یافتہ شخص کو بحیثت ایس ایچ او تعینات کیا جائے اور عوام کو انصاف دلایا جائے، ورنہ وہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔ قبائلی عمائدین نے پریس کلب کے باہر اس کرپٹ پولیس افسر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ ضلع بننے کے بعد سلجھ جانے کے بجائے اکثر امور الجھ گئے ہیں۔ طوری بنگش اقوام کا کہنا ہے کہ عدالت میں ملازمتوں کی بھرتی میں میرٹ اور ملکی قوانین کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ پاراچنار طوریوں کا علاقہ ہونے کے باوجود اور طوریوں میں نہایت اہل افراد کی موجودگی کے باوجود دیگر اقوام کے نااہل افراد سے بھرتیاں کرائی گئیں۔ اسکے علاوہ طوری بنگش اقوام کو شکایت ہے کہ صدہ تحصیل میں طوری بنگش اقوام کو نہ کسی جرگے میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہاں ہونے والی بھرتی میں انہیں کوئی حصہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ لوئر کرم میں طوری بنگش اقوام کی آبادی 51 فیصد ہے، جبکہ بھرتی کرتے وقت انہیں 51 تو کیا ایک فیصد سیٹیں بھی نہیں دی جاتیں، جبکہ پاراچنار میں 98 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عمائدین کے جرگے میں ان سے زیادہ دیگر غیر رجسٹرڈ پاکستان مخالف افغان قبائل کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاراچنار میں ہونے والی کسی بھی بھرتی کے موقع پر بھی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اسی ایس ایچ او والے معاملے پر غور کریں، پاراچنار میں اتنی ظرفیت اور صلاحیت کے باوجود صدہ سے ایک نااہل، غیر مہذب اور کرپٹ اہلکار کو اتنا بڑا منصب دلایا جاتا ہے، جبکہ یہاں اس سے بہتر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس اہلکار پہلے ہی سے دستیاب ہیں۔ تاہم مقامی حکومت خصوصاً ڈی پی او کھلے تعصب بلکہ کھلی جارحیت پر اتر آئے ہیں۔ لے دے کر ایک سولجر کلرک بھی طوری قوم سے ایک ایسے شخص کو لیا گیا ہے، جس پر پوری طوری قوم معترض ہے۔ جو کہ ہر طرح سے کرپشن، سمگلنگ، منشیات کے اڈے چلانے اور دیگر دو نمبر کے دھندوں میں ملوث ہے۔ اس حوالے سے قومی مشران، عمائدین اور ذمہ دار افسران نے اس کے خلاف اعلیٰ محکمہ جات کو درجنوں شکایات کی ہیں، مگر بات یہ ہے کہ دو نمبر کاموں میں یہ محرر جو بھتہ وصول کرتا ہے، اسکا تین چوتھائی حصہ ڈی پی او کی جیب میں جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے لئے ایسے مفید شخص کو برطرف یا ٹرانسفر کرکے وہ اپنے مفادات پر چھری کیسے چلائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 817314
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب