1
Saturday 21 Sep 2019 10:46

وزیر خارجہ اکیلے ہیں یا پورا ٹولہ امریکی گماشتوں پہ مشتمل ہے؟

وزیر خارجہ اکیلے ہیں یا پورا ٹولہ امریکی گماشتوں پہ مشتمل ہے؟
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

دنیا میں شیطنیت کی علامت کے طور پر پہچان رکھنے والی امریکی انتظامیہ ایک طرف پاکستان کو انڈیا کیساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تصفیہ طلب امور کو حل کرنیکی تلقین کرتی ہے اور دوسری طرف افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستانی کوششوں کو مذاکرات کی معطلی کا اعلان کرکے سبوتاژ کر دیتے ہیں، امریکہ کا یہ بھی مطالبہ جاری رہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا اور ہے، لیکن خطے کے دوسرے ممالک بالخصوص ایران کو دبانے اور محدود رکھنے کی امریکی خواہش پوری نہیں ہوسکی۔ دوحا میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں امریکہ نے کسی اور فریق کو شامل نہیں ہونے دیا، کامیابی کے دعوے کیے گئے، نہ ہی امریکہ افغانستان پر تسلط جما سکا، نہ ہی انخلاء کے معاہدے پر عملدرآمد کیا جاسکا۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے متضاد بیانات دیئے، جو اب بھی جاری ہیں۔

اس کے جواب میں ایران نے موقف دہرایا کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی تمام تر فساد کی جڑ ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے ہونیوالے مذاکرات کی طرح یمن میں قیام امن کیلئے جنگ بندی پر بات چیت کی جا رہی ہے، جس طرح شام اور عراق میں متحارب فریقوں نے جنگ بھی کی اور گفتگو بھی جاری رکھی، حالیہ دنوں میں حزب اللہ اور صہیونی ناجائز ریاست کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پاکستانی رائے عامہ کشمیر سے افغانستان تک ہی محدود رہتی ہے، لیکن پورا مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء جہاں جہاں امریکہ نے ٹانگ اڑائی ہوئی ہے، تباہی، بربادی اور بے یقنی کی زد میں ہے، جس کا موجب صرف امریکی استعمار ہے۔ جب تک امریکی تسلط کو چیلنج نہ کیا جائے، اس وقت تک کسی بھی علاقے میں امن مذاکرات بے معنی ہیں، جہاں جہاں مقابلہ جاری ہے، مزاحمت کے نتائج مثبت آرہے ہیں، چاہے اس میں دیر لگے۔

عمران خان کے کشمیر سے متعلق حالیہ بیان جس میں انہوں نے کشمیر جا کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے حق میں لڑنے کی خواہش رکھنے والوں کو روکا ہے، ایک الگ سیاق و سباق کا حامل ہے، جبکہ وزیراعظم پہلے دن سے ہی مذاکرات کیساتھ ساتھ کشمیر کیلئے جنگ کا عندیہ بھی دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے افغانستان میں بھی امن کے قیام کیلئے جنگ سے گریز اور مذاکرات کی تائید کی ہے، امریکہ میں دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان جا کر افغان طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے آمادہ کرنیکی کوشش کرینگے۔ کشمیر کے متعلق بھی وہ یہی کہتے رہے کہ جب تک غیر ملکی افواج علاقے میں رہیں گی، امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، نہ مزاحمت کا سلسلہ رکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر اور افغانستان میں وہاں کے مقامی باشندے غیر ملکی تسلط کیخلاف ہتھیار اٹھائیں اور مزاحمت کو جاری رکھیں۔

دنیا اگر ان علاقوں میں امن کی بات کرتی ہے تو وہاں سے غیر ملکی افواج کا تسلط اور قبضہ ختم کروانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ عملی طور پر جب ذمہ داری نبھانے کی بات آتی ہے تو عمران خان بے بس نظر آتے ہیں، اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں، لیکن بے بسی کی وجہ طاقت اور اختیار کا مرکز ہے، جو وزیراعظم ہاوس نہیں، بلکہ اس میں حکومت اور ریاست کے دوسرے بازو اور ادارے بھی شامل ہیں۔ ایسی تمام پوزیشنز، مراکز اور دفاتر کی طرف سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی کو سمجھیں اور اس کی پیروی کریں، تاکہ قومی مفاد کے لیے بنائی گئی حکمت عملی کو کامیاب بنایا جا سکے، جو پوری نہیں ہو رہی۔ عمران خان کا اقتدار ہی خطرے میں ہے، موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم بننے کی پوری تیاری کرچکے ہیں، خطے کے حالات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقبل واضح نہیں، پاکستان کو مستقبل میں مزید دشواری کا سامنا ہوگا۔

پاکستانی حکومت میں کوئی بھی مرد بحران نہیں، ذاتی خواہشات اور ہوس اقتدار کے اسیر ہیں، یہی کمزوری ہے، حکمران بنتے ہی وہی ہیں، جو ان منفی اوصاف سے متصف ہوں، مسلح افواج میں میرٹ کی بنیاد پہ بھرتیوں کی طرح سیاست اور حکومت میں لائے جانے کا کوئی معیاری میکنزم نہیں، جہاں بیرونی طاقتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے، کبھی مقتدر طالع آزماء کو انٹرنیشنل سپورٹ فراہم کر دی جاتی ہے اور کبھی اپنے کٹھ پتلی سیاستدانوں کو مسلط کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی میں تو اکٹھا ہی ایسے لوگوں کو کیا گیا ہے، جن کا حسب نسب ہی یہی ہے، صرف شاہ محمود قریشی ہی نہیں، جو وزارت عظمیٰ کے حریص ہوں، ہر دوسرا سیاست دان بیساکھی تلاش کر رہا ہے کہ کس طرح دوسرں کو دغا دے، اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ جائے، رہی سہی کسر پنجاب کے وزیراعلیٰ بنائے گئے بزدار کی مثال نے پوری کر دی ہے۔ موجودہ سیٹ اپ میں منتخب شدہ اور غیر منتخب شدہ معاشی گدھ اکٹھے کیے گئے ہیں۔

معیشت اور جنگ جس طرح جڑے ہوئے ہیں، اسی طرح سفارت کاری کا عنصر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، اس حقیقت کے پیش نظر عالمی سیاسی باز گر طفیلی ریاستوں میں کٹھ پتلی حکومتیں ہی پسند کرتے ہیں، جہاں مزاحمت کا امکان ہو، وہاں ریاست اور حکومت کو کمزور کرنیکے لیے جنگ اور پابندیوں کا ہر حربہ آزمایا جاتا ہے، پاکستان بدلتے حالات کیساتھ ساتھ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے استحکام کی جانب قدم نہیں بڑھتے، لیکن بنگلہ دیش کے قیام کے بعد یہ احساس مضبوط ہوا ہے کہ ملک کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے چوکنا رہنا ضروری ہے، بھارت کا براہ راست مقابلہ ہماری مجبوری ہے، انڈیا کوئی خیالی دشمن نہیں، لیکن معاشی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام کیوجہ سے پاکستان میں خیالات کی جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے، جس سے عالمی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔

حقیقی عوامی قوتوں کو طاقت کے مراکز سے دور رکھا جاتا ہے، این جی اوز، کٹر مذہبی سیاسی جھتوں، لبرل میڈیا اور اقتدار کے ایوانوں میں موجود کالی بھیڑوں کے ذریعے نہ صرف پاکستانی قوم کو محکوم رکھنے کیلئے مہنگائی، بے روزگاری، شدت پسندی، فرقہ وارانہ تشدد، بھتہ خوری، ریاستی اداروں کے ذریعے ظالمانہ دباؤ، کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا جاتا ہے، بلکہ شعور، آگاہی سے دور کرکے مذہب سے نفرت بھی پیدا کی جاتی ہے۔ دنیا میں سر فہرست مسئلہ دہشت گردی کا ہے، جو امریکہ نے پھیلائی ہے، جنگوں کے ذریعے مسلمان اقوام کا نقصان ہوا، وہ الگ ہے۔ اس سارے دھندے میں امریکہ نے جس ریاست کو استعمال کیا، وہ سعوی عرب ہے، کشمیر ہو یا پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہونیوالے اقدامات سعودی رجیم نے امریکی مقاصد کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کو دولخت کرینکی سازش ہو رہی ہے، یا کشمیر کو ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔

اس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑیگا، کشمیری قیادت کھل کر اس کا اظہار کر رہی ہے کہ عربوں نے کمشیریوں کی حمایت نہیں کی، بلکہ مودی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اندرونی طور پر ناکامیوں کا شکار وزیراعظم، امریکی ڈفلی پہ ناچنے والے وزیر خارجہ کیساتھ کشمیر پر تو کئی روز تک خاموش رہے، لیکن آرامکو پر ہونیوالے حملوں پہ بیانات داغنے لگے، وزارت خارجہ یہ سمجھتی ہے کہ ہماری کامیابی کی کلید یہ ہے کہ امریکہ کو راضی رکھیں۔ یہیں سی موجودہ سیٹ اپ کی بے حسی اور خود غرضی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے جو لوگ لاہور سے تھوڑے فاصلے پر ننھے بچوں کا اغواء، جنسی زیادتیوں اور بے دردی قتل کو روکنے میں ناکام ہیں، وہ عالمی سازشوں میں گھرے پاکستان کو آگے کیسے بڑھا سکتے ہیں، کشمیریوں کی امیدوں پر کیسے پورے اتر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فقط شاہ محمود قریشی ہی امریکی اشاروں پہ ناچ رہے ہیں، یا یہ پورا ٹولہ ہی امریکی گماشتوں پہ مشتمل ہے۔

امریکی اخبارات نے عمران خان کے گلے میں پٹہ ڈال کر اس کی ڈور محمد بن سلمان کے ہاتھ تھما دی، جو اسے صدر ٹرمپ کو پیش کر رہا ہے، پاکستانی میڈیا پہ قدغن لگانے والی پی ٹی آئی سرکار نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، نہ کوئی قانونی چارہ جوئی کی ہے۔ ایک بار پھر دورہ امریکہ سے پہلے یمنی معصوم مسلمانوں کے قاتلوں کے قدموں میں بیٹھ کر پاکستانی وفد کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، کیا واقعی اپوزیشن کا دعویٰ درست ہے کہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی سے مراد یہ ہے کہ بات مظفر آباد اور گلگت بلتستان پر ہوگی، یہ پاکستانی قوم کیلئے ناقابل قبول ہوگا۔ یہ عمران خان کی جگہ کسی دوسرے کو اقتدار کی منزلیں طے کروانے کا حربہ بھی ہوسکتا ہے، تاکہ اسی افراتفری میں قومی حکومت اور نئے وزیراعظم کیلئے گنجائش پیدا کی جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی قومی اس قدر بے حس اور بے بس ہے کہ اپنی شہ رگ کو بھی اندرونی اور بیرونی سازشوں کی تکمیل کیلئے استعمال ہونیکی اجازت دیدگی۔؟ پاکستان کے وقار اور سالمیت کا انحصار امریکہ اور سعودی رجیم کی بجائے ٹھوس اصولوں پہ مبنی سیاسی اور معاشی پالیسی کے آغاز میں ہے، جس کے ذریعے اندرونی طور کوئی کمزوری باقی نہ رہے اور خارجہ سطح پر کوئی ہمیں چیلنج نہ کرے، ورنہ چیلنج کرنیوالوں کو منہ کی کھانی پڑے، پاک افغان سرحد پر شہید ہونیوالے شہداء، کشمیر میں پاکستانی پرچم کی سربلندی کیلئے قربانیاں دینے والوں کا خون یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر پاکستانی سر اٹھا کے جیئے، عرب و غرب کی کاسہ لیسی ترک کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 817411
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے