0
Saturday 21 Sep 2019 15:18

ایران اور سعودیہ کا مسئلہ کیا ہے؟

ایران اور سعودیہ کا مسئلہ کیا ہے؟
تحریر: نادر بلوچ

ایران اور سعودی عرب کے درمیان چار عشروں سے جاری تنازعہ ہے کیا؟، مختلف الخیال لوگ مختلف تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں، کوئی اسے مسلکی جنگ قرار دیتا ہے تو کوئی اسے خطے میں طاقت اور اثر و رسوخ  بڑھانے کی جنگ سے تعبیر کرتا ہے، اگر یہ مسلکی جنگ ہے تو سوال بنتا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے مسلکی جنگ کیوں نہ تھی اور کیوں دونوں ملکوں کے بادشاہ شیر و شکر تھے؟، اس کا جواب یہی ہے کہ اس وقت دونوں کا آقا اور مالک ایک ہی تھا، اس لیے فالٹ لائنز کو نہیں چھیڑا جاتا تھا اور دونوں اپنے آقا یعنی امریکا کی تابعداری میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی مکمل کوشش کرتے تھے، مگر پھر 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوتا ہے اور یوں ایک امریکی پٹھو حکومت کی چھٹی ہو جاتی ہے، نئی انقلابی قیادت نے آتے ہی امریکا کا سفارتخانہ بند کر دیا اور اسرائیلی سفارتخانے کی جگہ فلسطین کا سفارتخانہ کھول دیا اور واشنگٹن کو جواب دے دیا کہ اب یہاں اس کی دال گلنے والی نہیں۔

امریکا نے شروع میں اس کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا تھا، لیکن کچھ ہی ماہ بعد اس کو سمجھ آگئی کہ خطے میں ایک ایسی قیادت آگئی ہے، جو اس کو چیلنج کر رہی ہے، یوں امریکا نے عرب ممالک کے آمروں کو تھپکی دی کہ یہ سلسلہ یہاں روکنے والا نہیں، عوامی جدوجہد اسی طرح کامیاب رہی تو کل تہماری بھی چھٹی ہو جائیگی، اس لیے ضروری ہے کہ اس انقلابی حکومت کے پاوں نہ جمنے دیئے جائیں اور اسے چلتا کیا جائے۔ یوں انقلاب اسلامی کے ایک سال 8 ماہ بعد ہی عراق نے ایران پر چڑھائی کر دی، جو جنگ میں تبدیل ہوگئی، یہ جنگ 20 اگست 1988ء تک جاری رہی، اس جنگ میں واحد شام ایسا عرب ملک تھا، جو ایران کے ساتھ کھڑا تھا، باقی سب عرب ممالک عراق کے ساتھ کھڑے ہوگئے، امریکا نے جنگ جیتنے کیلئے صدام حسین کی فوج کو کیمیائی ہتھیار تک فراہم کیے، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا۔ خود ایران کے اندر سے بھی گروپس کو اٹھایا گیا، جنہوں نے انقلابی قیادت کیخلاف کئی کارروائیاں انجام دیں، پارلیمنٹ کے اراکین کو اڑا دیا گیا اور ملک کا صدر اور وزیراعظم بھی اپنے دفاتر میں شہید کر دیئے گئے۔

امریکا عراق ایران جنگ کے ذریعے چاہتا تھا کہ ایک ہی تیر سے دو شکار کیے جائیں، ایک تو ایران کے اندر انقلابی حکومت کا خاتمہ کیا جائے، دوسرا خلیج فارس سے ایران کو ہٹا کر عراق کا قبضہ کرا دیا جائے، تاکہ آئندہ پانیوں پر ایران کی رسائی ختم ہو اور تیل کی ترسیل اس آبی گزر گاہ سے آسانی سے ہوسکے اور اس کی مرضی سے یہ عمل بغیر کسی تعطل کے جاری و ساری رہے۔ آٹھ سال تک دونوں ملکوں کے درمیان یہ جنگ جاری رہی، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس دوران اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی ایک بھی قرارداد سامنے نہ آسکی، جب امریکا اور اس کے حواریوں نے دیکھ لیا کہ ایران کا پلڑا بھاری ہے تو اقوام متحدہ نے آٹھ سال بعد یعنی 20 جولائی 1987ء کو اجلاس بلا کر قرارداد نمبر 598 منظور کی اور دونوں ملکوں سے سیز فائر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

یوں یہ جنگ بغیر کسی نتیجے کے روکوا دی گئی، البتہ ایران کی دفاعی صلاحتیوں اور انقلابی فورس کے لڑنے کی صلاحتیوں نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ایک ایسا ملک جس میں نیا نظام آیا، جس کی فورس بکھر چکی تھی، اس ملک کی نئی قیادت نے عوامی رضاکاروں کے ساتھ ملکر اس ملک کیخلاف جنگ لڑی جس کو تمام عرب ممالک سمیت عالمی قوتوں کی مکمل سپورٹ اور آشیرباد حاصل تھی، اس جنگ میں دونوں سائیڈوں سے لاکھوں مسلمان لقمہ اجل بنے۔ اس جنگ کے تباہی کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں طرفین کا 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔

ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر اس انقلاب کو مسلکی ثابت کرنے اور فالٹ لائنز پر کام شروع کر دیا تھا۔ یوں پاکستان میں بھی سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسے جھتے بنائے گئے، جنہوں نے پاکستان میں مارا ماری شروع کر دی اور تکفیر کے نعرے لگائے، اس کا اعتراف خود سپاہ صحابہ اور موجودہ کالعدم اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کرچکے ہیں کہ ہم نے انقلاب ایران کو روکنے کیلئے کام کیا تھا اور اس پر ہمیں فخر ہے، جواب میں سپاہ محمد بھی بنی اور یوں سلسلہ طول پکڑنے لگا، خیر سپاہ محمد زیادہ عرصہ تک نہ چل سکی تھی، کیونکہ اسے پاکستان میں شعیہ علماء کی تائید حاصل نہ تھی۔

ایران عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ ہونے کے باوجود آج دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت بدل گئی ہے، جس ملک کے ساتھ امریکا نے عراق کو لڑایا تھا، اب وہ ایران کا بھائی بن گیا ہے، عوامی اور حکومتی سطح پر محبت اور بھائی چارے میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے، داعش کیخلاف بھی دونوں ملکوں نے ملکر جنگ لڑی اور ایران نے عراق کو محفوظ بنایا ہے، اسی طرح ایران کے قطر اور عمان کے ساتھ بھی بہتر تعلقات ہیں، یقنی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ مسلکی سے زیادہ امریکی مفادات اور بادشاہتوں کے تحفظ کا ہے، یعنی ایک قوت امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طاقت امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنانے میں آگے آگے ہے۔

یمن سعودیہ جنگ پانچویں سال میں داخل ہوگئی ہے، لیکن سعودی عرب تاحال کوئی کامیابی نہیں سمیٹ سکا اور ریاض یہ جنگ تقریباً ہار چکا ہے، زمینی پیش قدمی کی بجائے ہمیشہ یمن پر فضائی بمباری کی گئی، جس سے سول آبادی نشانہ بنی اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، اب حوثی مزاحمت کاروں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سعودیہ کے پایہ تخت سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر دو آئل تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے، حوثیوں نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر چاہتے ہو کہ دنیا بھر میں آئل کی قیمتیں نہ بڑھیں اور تیل کی سپلائی جاری رہے تو اس جنگ سے پیچھے ہٹ جائیں، سعودی عرب کا الزام ہے کہ یہ حملے ایران نے کرائے ہیں، لیکن تہران ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

سچ یہ ہے کہ یہ ڈرون حملے خود سعودی دفاعی نظام پر سوالیہ نشان ہیں کہ وہ امریکا سے اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے، کھربوں ڈالرز کا دفاعی نظام لیکر انسٹال کیا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ڈرونز سے حملے ہو جاتے ہیں اور پتہ بھی نہیں چلتا۔ سعودی عرب کے پاس 88 پیٹریاٹ میزائل سسٹم ہیں، بلومبرگ کا کہنا ہے کہ "سعودیہ جس جنگ کے لئے پچاس سال سے تیاری کر رہا تھا، اسے فقط 30 منٹ میں ہار گیا۔" یمن جنگ کے حوالے سے ایران کا بڑا واضح موقف ہے کہ سعودی عرب جنگ جاری رکھنے کی بجائے مذاکرات کی ٹیبل پر آئے اور یمنیوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے دے، کسی ملک کو ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ سعودیہ کو چاہیئے کہ امریکا سے لٹنے کی بجائے اس جنگ سے نکل جائے اور اس پیسے سے مسلمانوں کا خون بہانے کی بجائے ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے، ورنہ اس جنگ کا انجام خود آل سعود کی نابودی پر منتج ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 817493
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے