1
Saturday 21 Sep 2019 21:40

ایران کے خلاف امریکہ کی گیدڑ بھبکیاں

ایران کے خلاف امریکہ کی گیدڑ بھبکیاں
تحریر: ہادی محمدی

بقیق اور خریص میں سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنریز پر انصاراللہ یمن کے ڈرون حملوں نے نہ صرف علاقائی سیاست اور یمن کے خلاف جاری سعودی جارحانہ جنگ پر گہرے اثرات ڈالے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی جاری سیاست کو متاثر کیا ہے۔ انصاراللہ یمن کے ان اسٹریٹجک حملوں کی فوجی نقطہ نظر سے تجزیہ و تحلیل کیلئے علیحدہ کالم کی ضرورت ہے لیکن اس میں مضمر چند ایک اہم پیغامات بھی ہیں۔ سعودی حکام کو اس کاری ضرب کے بعد یمن کے خلاف جارحیت اور ظالمانہ محاصرہ ختم کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دینا چاہئے۔ یہی بات مارٹن گریفتھ کی جانب سے پیش کردہ برطانوی منصوبے پر بھی صادق آتی ہے جس میں انصاراللہ اور یمن آرمی کو غیر مسلح کر کے یمن کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جانے کا خواب دیکھا گیا ہے۔ منصور ہادی کی پیٹھ میں متحدہ عرب امارات نے خنجر گھونپ دیا ہے جس کے نتیجے میں اس نے انصاراللہ یمن سے مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو ایک نیا وفد تہران بھیجنا چاہئے جو نئے سرے سے انصاراللہ سے مذاکرات کا آغاز کرے۔
 
انصاراللہ یمن کے حالیہ ڈرون حملوں کا اصل نشانہ امریکہ تھا۔ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ یمن کے خلاف کوئی بھی نئی جارحیت 1500 کلومیٹر رداس کے دائرے کے اندر اندر موجود ان کی فوجی تنصیبات اور دیگر وسائل کو جوابی کاروائی کے خطرے سے روبرو کر دے گی۔ امریکہ اب تک سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کر چکا ہے لیکن یہ تمام جنگی سازوسامان انصاراللہ یمن کے ڈرون طیاروں اور میزائلوں کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوا ہے۔ لہذا امریکی حکام کو بھی فوجی صلاحیتوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کو فراہم کیا گیا امریکی اسلحہ یمن میں نہتے اور بیگناہ عوام کے قتل عام میں استعمال ہو رہا ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام نے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کر کے خطے میں ایک نیا سکیورٹی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے جس کے باعث انہیں بہت جلد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر امریکی حکام اپنے دعوے پر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود سعودی اور یہودی لابی کی شہہ پر اپنی ضد پر باقی رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ ایران کے خلاف فوجی اقدام کی صورت میں نکلنا چاہئے۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے 24 گھنٹے بعد ہی اپنے ابتدائی موقف سے پسپائی اختیار کر لی تھی۔ لیکن خطے میں بحرانی صورتحال کو جاری رکھنے اور عرب حکمرانوں سے بھتہ وصول کرنے کو یقینی بنانے کیلئے پینٹاگون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس بارے میں تحقیق کا حکم دے دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر جھوٹے الزامات عائد کر کے ایرانی حکام پر دباو بڑھانا چاہتے تھے اور یوں مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی کو اپنے ساتھ ملاقات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے اس بارے میں واضح موقف کے اظہار کے بعد امریکی صدر کی حکمت عملی تبدیل ہو گئی اور اب وہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے مسئلے کو نیا رخ دینا چاہتے ہیں اور اس بہانے سعودی عرب کو مزید اسلحہ بیچ کر ان کی جیب کاٹنے کے درپے ہیں۔ لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ سعودی حکام امریکہ سے مزید اسلحہ خریدنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
 
امریکی حکام کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کی جوابی کاروائی سے متعلق شور شرابے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خطے میں مزید فوجی بھیجے جائیں اور پیٹریاٹ اور ٹاڈ نامی ایئر ڈیفنس سسٹم بھی نصب کیا جائے۔ خیال رہے کہ امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم پہلے سے خطے میں موجود ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی اقدامات پر مبنی ان کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبکیاں ہیں۔ اسرائیل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اتحادی بنجمن نیتن یاہو کو شکست کا سامنا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن بھی کمزور ہو گئی ہے۔ لہذا ایسے حالات میں وہ کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی کا رسک نہیں لے سکتے کیونکہ امریکی عوام پہلے سے ہی بیرونی جنگوں سے شدید تنگ آ چکی ہے۔ گذشتہ صدارتی انتخابات کیلئے جاری مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان اور عراق سے اپنے فوجیوں کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنائیں گے۔ اب امریکہ سمیت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سامنے اس دلدل اور بحران سے باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ باقی بچا ہے جو مظلوم یمنی عوام کے جائز حقوق کا احترام کرتے ہوئے انہیں حق خود ارادیت اور خودمختاری دیتے ہوئے یمن کے خلاف جاری جارحیت کو ختم کر دینا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 817562
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے