1
Saturday 21 Sep 2019 21:19

ہم سعودیہ پر حملہ نہیں کرینگے!

ہم سعودیہ پر حملہ نہیں کرینگے!
تحریر: سید اسد عباس

یمن میں حوثیوں کی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کل بروز جمعہ انصاراللہ کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ہم سعودیہ پر حملہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب سعودی سرزمین پر ڈرون، بلاسٹک میزائل اور کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ جنگ کو جاری رکھنا خطرناک حالات کو جنم دے سکتا ہے۔ مہدی المشاط نے مزید کہا کہ آپ کو بھی یمن کی اس پیشکش پر ایسا ہی مثبت جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں، اگر ہماری اس پیشکش کا مثبت جواب نہ دیا گیا تو ہم ردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ خبروں کے مطابق انہوں نے اپنی تقریر میں عدن میں موجود حکومت سے بھی سیاسی تعلق قائم کرنے کی جانب اشارہ دیا ہے، جس کے لیے ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یمن جنگ کسی بھی فریق کے فائدے میں نہیں ہے۔ انہوں نے سعودی اتحاد سے کہا کہ وہ صنعا کے ہوائی اڈے اور حدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ بھی ختم کر دیں۔ یاد رہے کہ اس قبل حوثیوں کی جانب سے عرب امارات کو بھی متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر اس نے یمن کی جنگ سے اپنے ہاتھ نہ کھینچے تو اگلا ہدف عرب امارات ہوگا۔

مہدی المشاط کا حالیہ بیان ایک اہم موقع پر آیا ہے، فقط ایک ہفتہ قبل یمنی ڈرون طیاروں نے سعودیہ کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے دو اہم مراکز پر حملہ کیا، جس کے سبب ایک اندازے کے مطابق سعودیہ کی تیل کی نصف سپلائی کئی ہفتوں کے لیے تعطل کا شکار ہوگئی۔ اس حملے نے سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور سعودیہ کا کہنا ہے کہ آرامکو پر ہونے والے حملے یمنیوں کی استطاعت سے باہر ہیں، ان کا خیال ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے مہیا کردہ ہتھیاروں کے ذریعے کیے گئے ہیں بلکہ وہ دنیا کو اس نتیجے تک لانا چاہتے ہیں کہ یہ حملے ڈرون نہیں بلکہ بلاسٹک میزائل کے ذریعے کیے گئے اور شمال یعنی ایران کی جانب سے ہوئے۔ اس الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت وہ تاحال دنیا کو نہیں دے پائے۔ آج سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک پریس کانفرنس نے اس موقف کو ایک مرتبہ پھر دہرایا اور ان کا کہنا ہے کہ ہم اس حملے کے مقام کا تعین کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے حملوں کے فوری بعد بیان جاری کیا کہ امریکا تیار ہے، فقط اسے سعودیہ کی جانب سے حملوں کے ذمہ دار کے تعین کا انتظار ہے۔ ایران بھی اس معاملے میں خاموش نہ رہا، ایرانی وزیر خارجہ اور آرمی چیف نے واضح کیا کہ ہمارے ملک پر اگر کسی نے حملہ کیا تو حملہ کرنے والے ملک کو میدان جنگ بنا دیں گے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے جمعے کی شام تاخیر سے جاری ایک بیان میں خلیج میں امریکی عسکری کمک بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگان میں پریس کانفرنس کے دوران ایسپر نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی نوعیت کی حامل امریکی فورسز بھیجے جانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فورسز سعودی عرب میں آرامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دفاعی فضائی اور میزائل سسٹم پر توجہ مرکوز کریں گی۔

یمنی سپریم کونسل کے سربراہ مہدی المشاط کی جانب سے اس صورتحال میں آنے والے اس اہم بیان کو مختلف انداز سے لیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کہا جائے کہ یمنی عالمی دباؤ میں آگئے یا آرامکو پر حملے کے جواب سے خوفزدہ ہوگئے، تاہم میری نظر میں مہدی المشاط کا یہ بیان سفارت کاری اور سیاسی موقف میں پختگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس بیان کے ذریعے یمنی سپریم کونسل نے عرب دنیا کو بالخصوص اور اقوام عالم کو بالعموم کئی ایک پیغامات دیئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں بلکہ ہمارا ہدف فقط اپنی آزادی اور استقلال کا دفاع ہے، اگر سعودیہ اور اس کے اتحادی یمن کے معاملات میں مداخلت چھوڑ دیں اور ہماری سرزمین کا محاصرہ اور اس پر حملے ختم کر دیں تو ہم سعودی سرزمین پر حملہ نہیں کریں گے۔

میری نظر میں یمنی کونسل نے اپنی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے، اس اعلان کے ذریعے انہوں نے خطے کے ممالک کو امن کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اس جنگ کو مسلمان ممالک کے مابین اختلاف اور تفرقہ کی جنگ بنانے کے درپے ہے، لہذا یمنی سپریم کونسل نے سعودی حکمرانوں کو موقع دیا ہے کہ وہ امریکا کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کے بجائے اپنے آپ کو ان معاملات سے جدا کرلیں۔ مہدی المشاط نے یہ بیان جاری کرکے خطے کے دشمنوں کے لیے پیدا ہونے والے جنگ کو ہوا دینے کے موقع کو خاموش کر دیا ہے۔ اب اسرائیل یا کسی دیگر قوت کے پاس یہ موقع نہیں رہ گیا کہ وہ ایسا ہی کوئی اور حملہ انجام دے کر معاملات کو ایسے مقام پر لے جائے، جہاں سے کسی بھی قوم کے لیے پسپائی اختیار کرنا ممکن نہ رہے اور جنگ ہی بدیہی اقدام بچ جائے۔

اس بیان میں مہدی المشاط نے یہ بھی واضح کیا کہ ہماری اس امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اگر ہم کو مثبت جواب نہ ملا تو ہم ردعمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ جہاں تک امریکہ اور اس کی ایما پر سعودیہ کے ایران کے حوالے سے شور شرابے کا تعلق ہے تو یہ فقط نفسیاتی دباؤ ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لائے اور اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے، تاہم ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ سے ان حالات میں مذاکرات کو ایک سازش قرار دے کر معاملات کو نہایت واضح کر دیا ہے۔ اللہ کریم مسلمانوں کو اپنے مفادات کے لیے خود قیام کرنے اور ان کا دفاع کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ غیر ہمارے اختلافات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
خبر کا کوڈ : 817577
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے