8
Sunday 22 Sep 2019 13:10

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی سیاست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی سیاست
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
جیسا کہ معلوم ہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کی وجہ سے امریکا کے دورے پر ہیں۔ ان کا نیویارک کا سفر براستہ ریاض طے ہوا۔ کشمیر کے حوالے سے یہ دورہ ان کے لئے کارگر ثابت ہو نہ ہو، سیاسی مخالفین کے خلاف مفید بنانا ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ ”احتساب“ پاکستان کے وزیراعظم کا پسندیدہ مشغلہ ہے، مگر وہ اس معاملے میں بالکل نئے ہیں۔ لہٰذا اس شعبے میں ان کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر ”استاد“ دور دور تک نظر نہیں آتا۔ دور حکومت گواہ کہ سیاسی مخالفین کی ایسی کی تیسی کرنا دونوں سیاسی قائدین کے مابین قدر مشترک ہے۔ کسی بھی "ناپسندیدہ" شخصیت کو کسی بھی الزام میں فٹ کرنا۔ کسی بھی الزام میں تحقیق و تفتیش کے نام پر تنگ کرنا، بدنام کرنا۔  اے نوں پھڑو، اس نوں چھڈو، او نوں سٹو! اس کو پکڑو، اسکو چھوڑو کی یہ پاکستانی سیاست۔ سوچا بھی نہیں تھا کہ ان معاملات میں مذکورہ پاکستانیوں کا کوئی ثانی بھی ہوگا۔ یہ غلط فہمی ٹرمپ نے دور کر دی۔
 
معلوم تو آپ کو بھی ہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے تواتر سے خبریں دیں۔ ایک غیر ملکی سربراہ مملکت سے وعدہ۔ انٹیلی جنس شعبے سے وابستہ امریکی حکومت کے ملازم کی نظر میں قومی سلامتی کو خطرہ۔ باقاعدہ شکایت درج کروا دی۔ وھسل بلوورز پروٹیکیشن ایکٹ کے تحت اس ”سیٹی بجانے والے“  کو تحفظ حاصل ہے۔ اس وعدے سے متعلق ککھ کچھ معلوم نہیں، لیکن فون بات چیت نے ایک نئی انگڑائی ضرور لی ہے۔ اب خبر یہ ہے کہ جولائی 2019ء میں یوکرین کے صدر سے ٹرمپ کی فون پر بات ہوئی تھی۔ ڈیموکریٹک پارٹی رہنما جوزف بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کو پھڑ لینے کے لئے آٹھ مرتبہ یوکرینی ہم منصب کو تاکید کی۔ باراک اوبامہ کے عہد صدارت میں جوبائیڈن نائب صدر تھے۔ اب ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹک کے ممکنہ صدارتی انتخابی امیدواروں میں ان کا نام سرفہرست ہے۔ ٹرمپ جیسے گھاگھ کاروباری کو معلوم تھا کہ 2020ء صدارتی انتخابی معرکہ میں ان کا حریف کون ہوگا۔ تو صدر ٹرمپ نے پہلے ہی انکا بندوبست کر دیا۔
 
قدرتی گیس کی نجی یوکرینی کمپنی سے ان کے بیٹے ہنٹر کے تعلق اور خود بائیڈن کی سفارتی کوششیں۔ ان کے خلاف درآمدات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر تحقیقات کی تاکید کر دی۔ مشورے کے لئے ذاتی وکیل جیولیانی سے رابطے کا کہہ دیا۔ی یوکرین کے صدر مزاحیہ اداکار تھے۔ معمولی فرق سے مسخرے پن میں بھی دونوں کو ہم منصب کہا جاسکتا ہے۔ اس ساری صورتحال کا موازنہ اپنے عزیز ہم وطنوں سے کیا، شرمندگی ہوئی۔ قطری کا خط، جج ارشد ملک اور نواز شریف کیس اسکینڈل، زرداری و ہمشیرہ، مریم نواز وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب تو ملک کے اندر کے معاملات ہیں۔ کسی دوسرے آزاد و خود مختار ملک کے صدر کو فون پر اس طرح ڈکٹیشن دینا! اور کسی سیاسی حریف کو اس طرح غیر ملکی حکومت کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنانا۔ ٹرمپ کا دور دور تک کوئی ثانی نظر نہیں آیا۔

تو جاری امریکا یاترا کو کارآمد بنانا عمران خان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ سے یہ گر سیکھ کر وطن لوٹیں۔ زرداری و نواز سمیت جس سے بھی تنگ ہوں، کسی دوسرے ملک فون کریں، پھر وہ جانیں اور اگلا ملک۔ کم از کم اس بدنامی سے تو بچ جائیں گے کہ وہ خود سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہے ہیں!! خیر، اس خبر سے پہلے جو خبر آئی، وہ زیادہ اہم تھی۔ ٹرمپ نے غیر ملکی سربراہ سے خطرناک قسم کا وعدہ کیا۔ پانچ غیر ملکی حکمرانوں سے بات چیت۔ روس اور نیدر لینڈ کے صدور، قطری امیر، شمالی کوریا کے رہنما ان میں سے چار۔ پانچواں غیر ملکی سربراہ حکومت جس سے ٹرمپ نے بات کی، وہ عمران خان تھے۔ یعنی پاکستان کے وزیراعظم، اپنے خان صاحب!  یوکرین تو دور دور تک نہیں تھا۔
 
اس سوال کو سازشی مفروضہ سازوں پر چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ شکایت بارہ اگست کو درج کرائی گئی۔ خطرے کی سیٹی بجانے والے کا اعتراض ٹرمپ کے وعدے پر ہے۔ فرض کر لیں کہ بات یوکرین سے متعلق ہے، تب بھی بدلے میں یوکرین کو کیا ملے گا۔  امریکی صدر نے کیا آسرا دیا ہے!؟ خان صاحب کو وہ آسرا بھی معلوم کرنا ہوگا۔ ورنہ اتنا تو انہیں معلوم ہے کہ زرداری اور نواز اقتدار کی میوزیکل چیئر گیم کے پرانے کامیاب کھلاڑی ہیں۔ دونوں پاکستانی سیاست کے نبض شناس بھی ہیں اور انہیں اس دم کا بھی اچھی طرح پتہ ہے، جہاں پاؤں رکھنے سے ریلیف ملنا سو فیصد یقینی ہے۔ ورنہ پاؤں پڑنے میں کتنا وقت لگتا ہے جناب! یہ اقتدار کے ایوانوں کے رموز و اسرار ہیں۔ سمجھ تو عمران خان بھی گئے ہوں گے، کیونکہ کھلاڑی تو بہرحال وہ ہیں اور نہ سمجھے جو، تو اناڑی ہے!!
خبر کا کوڈ : 817685
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے