0
Sunday 22 Sep 2019 14:31

کیا سعودی عرب امن کو موقع دے گا؟

کیا سعودی عرب امن کو موقع دے گا؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ابھی تازہ تازہ یوم امن گذرا ہے، سوچا امن کی بات کی جائے، امن کو لانا اور پھیلانا معاشروں کی تعمیر کرتا ہے اور بدامنی معاشروں کو برباد کر دیتی ہے۔ زیادہ دور نہ جائیں، یہی افغانستان کو دیکھ لیں، کہا جاتا ہے کہ وسائل سے مالا مال خطہ ہے، مگر امن نہ ہونے کی وجہ سے افغانی دنیا بھر میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اچھا یہ نہیں کہ بدامنی اگر مشرق میں ہوگی تو اس کے اثرات برے ہوں گے، اگر یہ مغرب میں ہوگی تو اچھے اثرات کی حامل ہوگی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے مغرب کو برباد کرکے رکھ دیا، جنگوں کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ بھوک اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے مر گئے۔ سعودی عرب پچھلی کئی دہائیوں سے  دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے آگ لگاتا رہا ہے۔ اب یہ باتیں راز نہیں رہی ہیں، افغان مجاہدین کی تربیت اور ان سے روس پر حملے کرانا اور پھر بعد کے سارے واقعات سی آئی اے کے تیار کردہ تھے، جس کو عملی جامہ سعودی نظریاتی اور مالی سپوٹ نے پہنایا۔ لیبیا، مصر، عراق اور شام میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی یا دہرائی جا رہی ہے۔

یمن پر سعودی بمباری پچھلی تقریباً نصف دہائی سے جاری ہے، جس نے وہاں کے عوام کو بے تحاشہ دکھ دیئے ہیں۔ ماوں سے بیٹے اور بیویوں سے شوہر چھینے ہیں، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ کی ہیں۔ دواوں کے نہ ہونے سے ہسپتال مریضوں کا علاج نہیں کر پا رہے، خوراک کی کمی ایسی ہے کہ اقوام متحدہ بھی چلا رہی ہے کہ یمن غذائی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ ہر طرح کے مظالم، ناکہ بندی اور بمباری کے باوجود کیا سعودی عرب نے مقاصد حاصل کر لیے؟ بالکل بھی نہیں بلکہ سعودیہ جنگ شروع کرتے وقت جس پوزیشن پر کھڑا تھا، آج اس سے بھی بہت کمزور پوزیشن پر چلا گیا ہے۔ چند دنوں میں قبضے کی خواہش کے ساتھ کیا گیا حملہ گلے کا طوق بن چکا ہے، جسے اب اتارنے کے لیے حکمت و دانش کی ضرورت ہے۔

اہل یمن کی مزاحمت آرامکو پر کامیاب حملے کے بعد ایک بڑی حقیقت کے طور پر سامنے آچکی ہے کہ انہیں اب میدان میں شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ آج ہی کہیں آرامکو پر حملے کی تصاویر دیکھ رہا تھا، ایسے لگتا ہے کہ پوری فیلڈ کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کی تمام اہم تصنیبات اہل یمن کے ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں ہیں۔ وہ بڑے آرام سے ایک دو ہفتے بعد ایسا ایک حملہ کر دیا کریں گے اور سعودی عرب کو کتنا نقصان ہوگا؟ اس کا اندازہ وہ خود ہی لگا سکتے ہیں۔ یہاں دنیا کے  ممالک کی منافقت بھی سامنے آئی، کسی نے درست لکھا کہ دنیا خون بہنے پر خاموش رہی، تیل بہنے پر بول اٹھی۔ اس سے بڑھ کر انسانیت دشمنی اور منافقت کیا ہوگی کہ اہل یمن کے خون کو سعودی تیل سے کم قیمت سمجھا جاتا ہے۔

اس سب کے باوجود اہل یمن کی طرف سے سعودی حکومت کو ایک بہت ہی اچھی تجویر دی گئی ہے۔ ٹیلی ویژن پر کیے گئے ایک اعلان میں حوثیوں کی سپریم کونسل کی سربراہ مہدی المشاہت نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر تمام حملے ختم کر دیں گے، بشرطیکہ سعودی حکومت اور اس کے اتحادی بھی ایسا کریں۔ ان کا کہنا تھا "اگر ہماری پیش کش پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تو ہمارے پاس واپس جانے اور اس کا جواب دینے کا حق محفوظ ہے۔" یہ بہت اچھی تجویز ہے کہ ہم بھی حملے بند کرتے ہیں، تم بھی حملے بند کرو۔ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ ہم تو فضائی حملے کرکے پھول گراتے رہیں، مگر ہم پر کوئی پھول نہ گرے۔ جناب تقدس کی چادر کے نیچے آپ نے  بہت مزے کر لیے، اب جنگ کرنی ہے تو پھر پوری طرح جنگ کرنی پڑے گی، یہ نہ ہوگا کہ آپ کے احترام میں آپ کو کوئی جواب نہیں دے گا۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ جواب آنا شروع ہوا ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ لوگوں کے بچے اور خواتین قتل کریں اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ میرے خیال میں اہل یمن نے یہ تجویز پیش کرکے سعودی عرب کو بھی موقع دیا ہے اور امت پر بھی احسان کیا ہے کہ چاہے سعودی عرب ہو یا یمن، ہر دو طرف نقصان تو اہل اسلام کا ہی ہوگا، اس لیے انہوں نے یہ پیش کش کرکے سیاسی طور پر بڑے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

کیا سعودی عرب صلح اور امن کے آپشن کو اختیار کرے گا؟ میری خواہش تو یہی ہے کہ یہ فوراً اس پیشکش کو قبول کر لیں، مگر سچ پوچھیں تو سعودی تاریخ کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ اس پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھائیں گی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی خود سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے، وہ امریکیوں سے پوچھیں گے، جو کسی صورت جنگ بندی کا مشورہ نہیں دیں گے۔ وہ جنگ بندی کا مشورہ کیوں دیں؟ ان کا اسلحہ بک رہا ہے، اربوں ڈالر کے معاہدات ہو رہے ہیں، ان کی اسلحہ انڈسٹری بڑے پیمانے پر چل رہی ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑی بات جنگ ہے تو امریکی چودھراہٹ قائم ہے، وہ آل سعود سمیت عربوں کو خوفزدہ کرکے ان کا مال بٹور رہے ہیں اور کوئی بھی طاقت ایسی جنگ کو بند نہیں ہونے دے گی، جس کا اسے صرف جاری رہنے کی صورت میں فائدہ ہو۔

سعودی عرب کو اسلامی جمہوری ایران کی طرف سے پیشکش کی گئی تھی کہ آئیں ہر معاملے پر مذاکرات کرتے اور معاملات کو حل کرتے ہیں؟ اس پر کوئی ڈیڑھ دہائی تک سعودی وزیر خارجہ رہنے والی شخصیت نے فرمایا تھا کہ مذاکرات کس بات کے، آپ عرب علاقوں سے چلے جائیں۔ آپ اس غرور و تکبر کا اندازہ لگائیے، سب سے بڑھ کر یہ بات کہ وہ اس چیز کا احساس ہی نہیں کر پا رہے کہ یہ قومی ریاست کا دور ہے، یہاں عربی و غیر عربی کی کوئی بات نہیں، ہر ملک کے مفاد کی بات ہے۔ جیسے سعودی عرب فلسطین میں کر رہا ہے کہ عربی بولنے والے فلسطینوں کو بیچا جا رہا ہے اور اسرائیل جو ان کا قاتل ہے، ان سے دوستی کی جا رہی ہے۔ جب تک سعودی عرب اس خوف سے نہیں نکلے گا کہ ہماری خاندانی بادشاہت امریکی غلامی سے نکلتے ہی ختم کر دی جائے گی، اس وقت تک امن کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی، تااینکہ یہ مجبور ہو جائیں۔ اب تو سنا ہے امریکی افواج براہ راست آجائیں گی، پھر ارض حرمین پر سعودیوں کی حیثیت کچھ زیادہ نہ ہوگی۔ اللہ امت کو امن دینے والی قیادت عطا کرے۔
خبر کا کوڈ : 817689
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب