0
Sunday 22 Sep 2019 15:52

آرامکو پر حملہ اور امریکی اہداف

آرامکو پر حملہ اور امریکی اہداف
تحریر: طاہر یاسین طاہر

طاقتوروں کے اپنے اہداف اور اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ مسلم امہ کی اصطلاح بڑی مقدس اور دلکش ہے، مگر ہر ملک کے مفادات مسلکی اور ریاستی ہیں۔ کئی ممالک کے مسلکی و گروہی مفادات کو امریکی حمایت حاصل ہے تو کسی ملک کو روسی تھپکی۔ زمینی حقائق سے نظریں چرانے والے تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بنتے ہیں۔ جس طرح کشمیر کا مسئلہ امہ کا مسئلہ نہیں، بالکل اسی طرح یمن کا مسئلہ بھی امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں بلکہ عربوں کا تاریخی پس منظر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ لڑائی غلبے اور طاقت کی ہے، جسے حرمین شریفین کو ڈھال بنا کر لڑا جا رہا ہے۔ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ حوثیوں کو ایرانی حمایت حاصل ہے، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ سعودی عرب کو اپنے دو درجن سے زائد اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن پر یلغار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ابھی تک یمنی حوثیوں کو کیوں فضائی حملوں کی زد پر رکھا ہوا ہے؟ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے تو یمن میں سول آبادی کو بھی نشانہ بنایا اور کلسٹر بموں کا بھی استعمال کیا گیا۔

جب یمن پر سعودی عرب نے حملہ کیا تھا تو سعودی عرب نے پاکستان سے بھی فوجی مدد مانگی تھی۔ نواز حکومت تیار بھی ہوگئی تھی، مگر اس وقت تحریک انصاف نے اس معاملے پر سٹینڈ لیا اور پارلیمان میں اس مسئلے پر بحث کرائی گئی کہ پاکستان کو عربوں کے معاملے میں الجھنا چاہیئے یا نہیں؟ پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ فیصلہ یہی تھا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان ہمیشہ پہلی صف میں نظر آئے گا، لیکن یمن کے خلاف لڑنے کے لیے پاکستان سعودی عرب کی اتحادی فوج میں شامل نہیں ہوگا۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا گیا کہ حوثی خانہ کعبہ پر حملہ کریں گے، جس کی حوثیوں نے یہ کہہ کر تردید کی تھی کہ ہم بھی اسی خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں، جس کی طرف دیگر مسلمان منہ کرکے نماز ادا کرتے ہیں اور ہمیں بھی کعبہ کے تقدس اور اس کی حرمت کا اتنا ہی خیال ہے، جتنا کسی دوسرے مسلمان کو۔

یہ حربہ ناکام ہوا تو کم و بیش تین درجن سے زائد اتحادیوں پر مشتمل ایک فوج بنائی گئی، جس کے مقررہ اہداف، "مسلم امہ" کو درپیش خطرات سے نمٹنا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری کوشش کرنا ہے۔ لیکن کشمیر سے فلسطین تک ہونے والے مظالم پر سعودی عرب کی سربراہی میں بنائی گئی اتحادی فوج، جس کی کمان پاکستان کے سابق آرمی چیف راحیل شریف کے پاس ہے، بالکل خاموش ہے۔ ابھی تک اس فوج نے نہ تو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کوئی ردعمل دیا اور نہ ہی فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر اپنی"گنوں کا زنگ" صاف کیا، بلکہ سعودی عرب نے مودی کے پہلے دورِ حکومت میں گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور مسلم کشی کرنے والے کو اپنے ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا، ابھی تازہ دم یہ ہوا کہ یو اے ای نے مودی کو ایسے وقت میں اپنے سب سے بڑے قومی ایوارڈ سے نوازا، جب مودی کی حکومت مقبوجہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرکے مظالم کا سلسلہ تیز تر کرچکی ہے۔ خطے میں گہرے ہوتے جنگی بادل اللہ کرے کہ نہ برسیں، بہ صورت دگر سب کچھ بھسم ہو جائے گا۔

گذشتہ ہفتے سعودی عرب کا کہنا تھا کہ ان کی تیل کمپنی آرامکو کے انفراسٹرکچر مقامات پر ڈرون سمیت متعدد حملے کیے گئے۔ یہ اعلان یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے دعوے کے بعد سامنے آیا تھا۔ گذشتہ ماہ بھی شیبہ میں آرامکو کے قدرتی گیس کے پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ سعودی عرب عبقیق میں واقع اپنی تیل کی فیکٹری کو دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا پلانٹ قرار دیتی ہے، جہاں اس پلانٹ پر 2006ء میں القاعدہ نے خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن حوثیوں کے اعتراف کے باوجود امریکا نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ" مائیک پومپیو نے الزام لگایا کہ ایران سعودی عرب میں تقریباً 100 حملوں میں ملوث ہے۔"

امریکہ نے اس بات کو بار بار دہرایا، کچھ شواہد بھی پیش کیے اور سفارتی ذرائع سے سعودی حکومت کو اس قدر مجبور کیا کہ سعودی عرب نے بھی اب سرکاری سطح پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ آرامکو آئل ریفائنری پر حملے ایران نے کیے۔ سعودی عرب نے آرامکو تیل کمپنی پر حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون اور میزائل کی باقیات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "ایرانی جارحیت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور ایران کو جواب دیا جائے گا" جبکہ دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی کو بھی جنگ کی اجازت نہیں دے گا اور یہاں تک کہ چھوٹے پیمانے پر حملہ کرنے والے کسی بھی جارح کو تباہ کر دیں گے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بالفرض ایران نے ہی حملے کیے، تو وہ امریکی دفاعی نظام کہاں گیا ہوا تھا؟ جو کئی عشروں سے سعودی عرب کے دفاع کی ذمہ داری لیے ہوئے ہے اور اس مد میں اربوں ڈالر کما رہا ہے؟ کیا امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب کو ناکارہ ریڈار اور دفاعی اسلحہ فروخت کیا؟ جو سعودی عرب کو بہت بڑے نقصان سے نہ بچا سکا؟ ایسا نہیں ہے، بلکہ امریکہ اپنی اندھی طاقت کے مظاہر کرنے کو بے تاب ہے۔ افغان طالبان سے امریکی مذاکرات نے کامیاب ہونا ہی نہیں تھا، نہ اس میں امریکہ سنجیدہ تھا۔ مذاکرات اب افغان طالبان کی ضرورت ہے، امریکہ کی نہیں۔ البتہ امریکہ جو چاہتا تھا، وہ اب کرنے جا رہا ہے۔ امریکا نے تیل تنصیبات پر حملے کے بعد ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی "درخواست پر خلیجی ممالک میں اپنی مزید فوج" بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ملک پر لگائی گئیں سخت ترین پابندیاں ہیں۔

امریکی صدر نے اس موقع پر ان ناقدین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے اور ایک نئی جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے سب سے آسان چیز یہ تھی کہ میں ایران میں 15 مختلف چیزوں کو تباہ کر دیتا، لیکن میرے خیال میں مضبوطی کی علامت یہ ہوتی ہے ہم تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔ آرامکو آئیل ریفائنری پر حملوں کے بعد کی صورتحال خطے میں امریکہ کو مزید فوجی اڈے فراہم کرنے کا جواز ہے، جس سے امریکہ ایران کو دبائو میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا اور اسرائیل کو مضبوط تر کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل پیرا رہے گا۔ عالمی استعماری قوتوں کا جنگی منصوبہ اتنا سادہ نہیں کہ اسے سمجھ کے فتح کے نقارے بجانے شروع کر دیئے جائیں۔ خطے میں جنگ کے بادل مسلسل گہرے ہو رہے ہیں، کشمیر کے حالات کو خطے کی تازہ تبدیلی سے الگ کرکے دیکھنا کم فہمی اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ کب تک حرمین شریفین کو ڈھال بنا کر مسلمان آپس میں گتھم گتھا ہوتے رہیں گے؟ امریکہ نے خطے سے جانے کے بجائے یہاں اپنے قدم مزید مضبوط کر لیے ہیں۔ اب تک کی زمینی حقیقت تو یہی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 817693
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب