1
Sunday 22 Sep 2019 22:29

نئی نسل کی جنگوں کا آغاز

نئی نسل کی جنگوں کا آغاز
تحریر: عباس عبدی

سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کی سلطنت یعنی آرامکو پر یمنیوں کے ڈرون حملوں نے سیاسی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور ابھی تو یہ ہلچل شروع ہوئی ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے آئندہ چند دنوں اور ہفتوں میں یہ ہلچل مزید وسعت اختیار کر جائے گی۔ اسی طرح یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ حملے خطے کی دفاعی ڈاکٹرائن میں بھی بہت بڑی تبدیلی کا باعث بنیں گے اور خاص طور پر اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ ڈرون طیارے اور میزائل نامعلوم مقام کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات کی جانب فائر کئے گئے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ جس مقام سے چلائے گئے اس کا سعودی تیل تنصیبات سے فاصلہ 500 کلومیٹر سے 1200 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ اسی طرح ان کی تعداد کافی زیادہ اور تقریبا 12 تھی۔ ان کے فائر ہونے سے لے کر ٹارگٹ پر ٹکرانے تک کوئی ریڈار سسٹم انہیں نہیں دیکھ سکا اور کسی قسم کی وارننگ یا مقابلے کیلئے اقدام بھی عمل میں نہیں آیا۔ ابھی تک کوئی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں سے فائر کئے گئے تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان ڈرون طیاروں نے پوری دقت سے اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہے۔
 
اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے حتی خطے سے باہر موجود ممالک کی دفاعی سکیورٹی ڈاکٹرائنز ناکارہ ہو چکی ہیں۔ اس مقام پر بنیادی سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب یا دیگر ممالک ان حملوں کا جواب کس صورت میں دیں گے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ مستقبل میں بھی اپنا دفاع کر پائیں گے یا ان کی ایئر ڈیفنس شیلڈ بدستور عبور کے قابل ہے؟ یہ مسئلہ سب سے زیادہ اسرائیل کیلئے پریشان کن ثابت ہو گا کیونکہ وہ خطے کی ایسی واحد رژیم ہے جو تزویراتی گہرائی اور جغرافیائی وسعت سے بے بہرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اپنی ناجائز پیدائش کی ابتدا سے نیل سے فرات تک کے فرضی خواب دیکھ رہی ہے۔ اسرائیل نے اپنے لئے فرضی سرحدیں بنا رکھی ہیں اور انہیں اپنی ریڈ لائنز قرار دے کر عرب حکومتوں سے دست و گریبان رہا ہے۔ لیکن کم غلطی سے ٹھیک نشانے پر وار کرنے والے ڈرون طیاروں اور میزائلوں نے اسرائیل کی ساری دفاعی حکمت عملی کا تہس نہس کر ڈالا ہے۔ اس وقت اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن شام، اردن، مصر، عراق، سعودی عرب وغیرہ جیسے ممالک نہیں ہیں جو باقاعدہ مسلح افواج کے حامل ہیں بلکہ وہ مختلف قسم کے چھوٹے اور بڑے مسلح گروہ ہیں جو اسرائیل کی سرحدوں کے قریب موجود ہیں اور ایسے ہی میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے لیس ہیں۔
 
ان مسلح گروہوں کے پاس اسرائیل کے خلاف لڑنے کیلئے نہ تو توپیں ہیں اور نہ ہی ٹینک، نہ ہی ہیلی کاپٹرز ہیں اور نہ ہی جنگی طیارے لہذا یہ مسلح گروہ روایتی مسلح افواج کیلئے نہ تو فوجی ٹھکانوں اور اڈوں کے محتاج ہیں اور نہ ہی ایئر بیسز اور ہوائی اڈوں کے۔ روایتی مسلح افواج کی ہر سرگرمی سیٹلائٹس کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے لیکن یہ مسلح گروہ انتہائی آسانی سے ہر جگہ ڈرون تیار کر کے انہیں اڑا سکتے ہیں اور مختلف الیکٹرانک آلات اور حتی موبائل فونز کے ذریعے انہیں مطلوبہ ٹارگٹ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ان ڈرون طیاروں پر مختلف قسم کے بم اور حتی کیمیکل ہتھیار بھی نصب کئے جا سکتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی میں روایتی مسلح افواج کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ درحقیقت نئی نسل کی جنگ ہے۔ جس طرح ثقافت، سیاست اور معیشت مخصوص گروہوں تک محدود اور منحصر نہیں رہی اسی طرح یہ نئی نسل کی جنگ بھی روایتی مسلح افواج کے دائرے سے باہر نکل چکی ہے۔ یہ صورتحال بالکل نئی ہے اور اس میں جنگ اپنی روایتی حالت سے باہر نکل چکی ہے۔
 
ماضی میں دیکھا جائے تو روایتی جنگیں ایک خاص وقت پر شروع ہوتی تھیں اور ایک خاص وقت پر ختم ہو جاتی تھیں۔ لیکن اس نئی نسل کی جنگ کا نہ تو کوئی نقطہ آغاز ہے اور نہ ہی نقطہ اختتام۔ ماضی میں جنگ کے فریقین دو حکومتیں ہوتی تھیں جو طے شدہ قوانین کے تحت لڑتی تھیں اور ایکدوسرے کو تسلیم بھی کرتی تھیں۔ لیکن یہ جنگ ایسی نہیں۔ جنگ اور صلح کا فرق بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ اس نسل کی جنگ میں شامل فریقین طے شدہ قوانین کی پیروی نہیں کرتے۔ جنگ میں شامل فریقین جانے پہچانے تشخص سے عاری ہوں گی۔ ہر واقعہ ایک فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے اور تیزی سے اس پر پردہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ اس نئی صورتحال میں اسرائیل روایتی مفہوم میں قومی سلامتی کھو چکا ہے۔ وہ اب پرانے طریقوں سے اپنی سکیورٹی یقینی نہیں بنا سکتا۔ اسرائیل کے اکثر حصوں میں اس کی چوڑائی 50 کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ اسرائیل کی سب سے بڑی سکیورٹی مشکل اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ہے۔ لہذا آج دنیا کے ممالک کی دفاعی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کا وقت آن پہنچا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 817707
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے