0
Monday 23 Sep 2019 08:45

ٹیکس حلال۔۔۔ نمک حرام

ٹیکس حلال۔۔۔ نمک حرام
تحریر: نذر حافی

ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ساری دنیا میں عوام سے ٹیکسز وصول  کرکے انہیں سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمارے سکول جانے والے بچے بھی اگر ایک پنسل خریدتے ہیں تو اس پر بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ایک عام اور سادہ سی کچی پنسل کے کاربن اور لکڑی کی اصلی قیمت ایک روپیہ بھی نہیں بنتی، لیکن ٹیکسز کی بدولت وہی پنسل ہم بیس سے پچیس روپے میں خریدتے ہیں، یہی حال دیگر اسٹیشنری اور اشیاء کا بھی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے وزیراعظم صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ ہمارے ہاں پینے کے پانی، بجلی، گیس  اور ڈسپرین کی گولی سمیت قبروں پر بھی ٹیکس ادا کیا جاتا ہے، عوام کے ٹیکسز  سے تنخواہیں لینے والے افراد اور ادارے عوام کی کیا خدمت کرتے ہیں، اس کا اندازہ  آئے روز ہونے والے حادثات اور سانحات سے لگایا جاسکتا ہے۔ گذشتہ روز سکردو سے راولپنڈی جانے والی بس کا حادثہ ہوا، جس میں چھبیس آدمی موقع پر ہلاک ہوگئے، ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی تیز رفتار ڈرائیور یا بریک فیل ہونے پر ڈال دی جائیگی۔
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا


اسی طرح آئے روز سی این جی گیس سلنڈر پھٹنے سے کتنے ہی لوگ جھلس کر مر جاتے ہیں، لیکن کسی پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ ہسپتالوں میں باولے کتے کے کاٹے کے علاج کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے لوگ دم توڑ دیتے ہیں۔ لاری اڈوں اور انسانی آبادیوں کے ارد گرد گندگی، کچرے اور غلاظت کے ڈھیر ٹیکس خوروں کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ ٹریفک حادثات چاہے تیز رفتاری اور گاڑیوں کی مکینیکل ان فٹنس کی وجہ سے ہوں یا سڑکوں کی غلط ڈیزائنگ اور ناقص میٹیریل کی وجہ سے، ان کی ایف آئی آر متعلقہ محکمے کے اس ذمہ دار افیسر پر کٹنی چاہیئے، جس کی وجہ سے گاڑی کی رفتار اور مکینیکل حالت کا نوٹس نہیں لیا گیا اور سڑکوں کی غلط ڈیزائننگ اور ناقص تعمیر کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی ایف آئی آر ان ایم این ایز، ایم پی ایز، ٹھیکیداروں اور انجینئرز پر کٹنی چاہیئے، جو عوامی خزانے سے کروڑوں روپے ہتھیانے کے باوجود عوام کی جان کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

بے حسی، منافقت اور منافرت کی انتہا تو دیکھئے! بعض افراد کا کہنا ہے کہ آپ صرف اور صرف موجودہ حکومت سے عوام کو بدظن کریں، باقی ٹیکسوں کی لاگت اور سرکاری اداروں کی اصلاح کی بات نہ کریں۔ بس عوام کو یہ سمجھائیں کہ صرف موجودہ حکومت ہی ظالم اور غاصب ہے، بس اس کیلئے کمپین چلائیں۔ ادارے جو کچھ کر رہے ہیں، یہ سب ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا، لہذا اسے چھیڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان بیمار سوچ والوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس تنخواہیں لے کر عوام کی فریاد نہیں سنتی تو لوگ تھانے میں جاتے کیوں ہیں! خود سے جرگے کریں اور مسائل حل کریں۔ اگر لاری اڈوں اور پبلک مقامات پر گندگی ہے تو لوگ ٹیکس نہ دیں اور بالٹیاں و بیلچے اٹھا کر خود سے صفائی کریں اور ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے۔ اگر ہسپتالوں میں جعلی دوائیاں فروخت ہوتی ہیں یا ویکسین نہیں ملتی تو دیسی اور سنتی طب سے علاج کریں، اگر مسنگ پرسننز کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور عوام کو تحفظ نہیں ملتا تو عوام جواب میں ایک کے بجائے پانچ پانچ اور دس دس  اغوا کرنے شروع کر دیں۔ اگر ٹرانسپورٹرز عوام سے اضافی کرایہ لیتے ہیں تو عوام بھی اپنے اپنے علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے من مانی چونگی وصول کریں۔ ایسا کرنے سے موجودہ حکومت بدنام ہوگی اور ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملے گا۔

المختصر یہ کہ ہمارے ہاں ایک طرف طاقتور سیاسی مافیا اور ٹیکس خور طبقہ ہے، جو عوام کے خزانے سے تنخواہ لیتا ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں کہ عوام پر کیا بیت رہی ہے اور دوسری طرف سیاسی مفاد پرست اور بیمار سوچ ہے، جسے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے کُرسی اور اقتدار کی فکر ہے۔ ایسے میں عوام کو مسائل کے حل کیلئے درست راستہ دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اور حکمران جو بھی ہو، جب تک سیاسی مافیا اور  ٹیکس خور طبقہ حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت پر مجبور نہیں ہوتا، تب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ اگر اس ملک کے اداروں میں کہیں ایک فی صد بھی دیانتدار حضرات موجود ہیں تو اس ضمن میں ہماری عرض یہ ہے کہ تمام ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، تھانوں، لاری اڈوں اور گاڑیوں کے شیشوں پر فوری شکایت کے لئے ٹیلی فون نمبرز درج ہونے چاہیئے، تاکہ  ڈاکٹروں کی غفلت، جعلی دوائیوں کی فروخت، گندے ہوٹلوں، اضافی کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز، گاڑیوں کی فنّی خرابی، انسانوں کی سمگلنگ، جبری گمشدگان، منشیات فروشی، یا غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی شکایت لوگ خود سے بروقت کرسکیں۔ اگر ٹیکس خوار برادری ویسے مفت میں مکھی تک نہیں مارتی تو کم از کم شکایت درج ہونے کی صورت میں تو عوام کا نمک حلال کرے۔ اگر عوام سے ٹیکس لے کر عوام کی خدمت کی جائے تو یہ ٹیکس حلال ہے، ورنہ اس ملک میں مسلسل عوام کا نمک کھا کر عوام کے ساتھ نمک حرامی کی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 817848
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب