12
Monday 23 Sep 2019 14:30

ریاست پاکستان کو امریکا اور بھارت کا پیغام

ریاست پاکستان کو امریکا اور بھارت کا پیغام
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
ریاست پاکستان کے لئے امریکا سے پیغام آچکا۔ پیغام پرانا مگر انداز نیا ہے۔ 22 ستمبر 2019ء ریاست ٹیکساس شہر ہیوسٹن میں بھارتی نژاد امریکیوں سے وزیراعظم نریندرا مودی نے خطاب کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں پردھان منتری نے نام لئے بغیر پاکستان پر طنزیہ فقرے کسے۔ وہ کشمیر اور مبینہ دہشت گردی کے تناظر میں جوش خطابت میں غلط بیانی بھی کرگئے۔ مگر دنیا کے سامنے ریاست پاکستان کے لئے ایک پیغام چھوڑ گئے۔ ریاست پاکستان کے لئے کھلا پیغام کیا ہے۔ اس سے پہلے اس پر غور فرمائیں کہ ریاست پاکستان کی خارجہ پالیسی کس حد تک ناکام ہے۔ ریاست پاکستان کے حکام کا ردعمل کتنا افسوسناک ہے۔ وہ زمینی حقائق کو برعکس ظاہر کرنے کی کوششوں کو باوجود ناکامی، ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ ایسے ہی حکام پر ہی غالب کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے ”بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا۔“ یہ الگ بات کہ پاکستانی قوم جانتی ہے کہ عالمی سیاسی منظر نامے میں ہماری ”آبرو کیا ہے!“
 
زمینی حقیقت ہے کہ پورا امریکی بلاک مودی کے بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔ بی جے پی سرکار کی ہر غلط کاری امریکی بلاک کو قبول ہے۔ ٹرمپ کی موجودگی میں مودی نے غلط بیانی کی۔ مگر امریکی و مغربی میڈیا اس پر خاموش ہے۔ مودی نے 9/11 اور 26/11 دونوں کا ذمے پاکستان کو قرار دینے کی کوشش کی۔ واقعیت کو ملحوظ رکھا جائے تو پردھان منتری نے جھوٹ بولا۔ یہ تو امریکی شہریوں اور خود ٹرمپ کو معلوم ہے کہ نائن الیون کے ملزمان القاعدہ کے افراد تھے، وہ سارے عرب اور ان میں سے بیشتر سعودی شہری تھے۔ جو سرزمین استعمال ہوئی، وہ افغانستان تھی۔ امریکا نے نائن الیون حملوں کے ردعمل میں ہدف بھی افغانستان کو ہی بنایا اور خبریں تو یہ بھی ہیں کہ نائن الیون حملوں کے سہولت کاروں میں سعودی شاہی خاندان کے افراد کا نام بھی ہے۔ مودی ہیوسٹن میں کسے بے وقوف بنا رہے تھے؟ !رہ گیا 26/11۔ تو اس پر تاحال کس عدالت میں کس ملزم کو مجرم قرار دے کر سزا دی جاچکی کہ کسی ملک پر طنز کیا جائے!؟  ریاستی اداروں سے اپنا ملک (پاکستان) نہیں سنبھل رہا ہے، مودی کو اس کی چنتا کی بجائے بھارت کی فکر کرنی چاہیئے۔ وہ سڑکوں پر قتل و غارت اور خواتین کے ساتھ زنا، اقلیتوں پر حملے روکیں۔
 
یہ جملے لکھنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ سرحد پار دہشت گردی جائز ہے یا درست عمل ہے۔ جو بھی اصل مجرم ہے، اسے سزا ضرور ملنی چاہیئے۔ مگر، مونا باؤ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو مودی بھول گئے۔ اس دہشت گردی پر کونسے ملک کے کونسے ادارے کے افسران و اہلکار ملوث تھے؟ کرنل پروھت، سوامی اسیم آنند، کمال چوھان، راجندر چودھری اور لوکیس شرما کس ملک کے شہری ہیں؟ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ وکاش ناراین رائے (ہریانہ کے سابق پولیس افسر) سے مودی پوچھ لیں۔ ممبئی انسداد دہشت گردی اسکواڈ کا سربراہ ھیمنت کرکرے جس نے ہندوتوا دہشت گردی کو بے نقاب کیا۔ وہ بھی تو 2008ء ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں مارا گیا۔ تو تحقیقات کا ایک زاویہ یہ کیوں نہ بنا کہ ممبئی حملوں کو اس تناظر میں بھی دیکھا جاتا۔ چلیں اسکو چھوڑیں۔ مکہ مسجد، اجمیر شریف، مالیگاؤں وغیرہ میں جو دہشت گردی کے بڑے سانحات ہوئے، وہ سب ممبئی حملوں سے پہلے کے تھے۔ تو ممبئی حملے (نومبر 2008ء) ان حملوں پر پردہ ڈالنے کی ایک گھناؤنی سازش تھی۔ مقصد ابھیناؤ بھارت یا بی جے پی کے نظریاتی سنگھ پری وار کو بچانا تھا۔ مودی نے ایسا کیوں نہیں سوچا!؟
 
یہ کسی نے نہیں سوچا اور نہ ہی کوئی ایسا سوچنا چاہتا ہے۔ کیونکہ، ایسا سوچنا کسی کے وارے میں نہیں آتا۔ حتیٰ کہ اس نام نہاد ریاست کے بزعم خویش محب وطن، وفادار ثناء خوانوں نے بھی کوئی منطقی و مدلل، ٹھوس ردعمل ظاہر کیا۔ پانچ اگست2019ء کے بعد سے خبروں پر غور فرمائیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے نافذ کردہ کرفیو کو اتنے روز گذر گئے۔ خبر کیا ہونی چاہیئے تھی۔ پانچ اگست سے اب تک کون بھارت کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے؟ یا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے؟  اسی سوال کو دوسرے انداز میں پوچھ لیں، کشمیریوں کے خلاف بھارت کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ پاکستان کے خلاف بھارت کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ ریاست پاکستان کو امریکا سے پردھان منتری نریندرا مودی نے جو پیغام بھیجا ہے۔ یہ اس کا نہ پہلا پیغام ہے اور نہ آخری۔ اس نے سعودی وہابی بادشاہت سے اعلیٰ ترین شاہ عبدالعزیز اعزاز لیا۔ مودی نے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے اعلیٰ ترین اعزاز لیا۔ اتنے دارالحکومتوں سے مودی نے ریاست پاکستان کو صرف ایک ہی پیغام دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، امریکا، سبھی مودی اور بھارت کے ساتھ ہیں، خواہ وہ کچھ بھی کرے۔ ریاست پاکستان کے بقراط ابھی تک پوچھ رہے ہیں۔۔ ملک صاحب۔۔۔۔ فیر میں ”نہ“ ہی سمجھاں۔!
 
چلیں آگے بڑھتے ہیں۔ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، صف بندی تو صاف نظر آرہی ہے۔ مودی کیوں چہک رہے ہیں؟ اس پر ہی غور فرما لیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک۔ ریاست پاکستان نے بھارت کے خلاف کہاں کہاں جا کر دہائی دینی ہے؟ ہاوڈی مودی اجتماع میں گجراتی ہندی سیاستدان نے پاکستان کے خلاف چوکے چھکے مارے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ پاکستانی ”انقلابیوں“ کی لاڈلی انصافین حکومت کے ہٹو بچو وزیراعظم عمران خان امریکا پہنچ چکے ہیں اور وہ بھی براستہ سعودی عرب۔ سیاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا!!۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 817857
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب