0
Monday 23 Sep 2019 14:35

یمن و کشمیر، چند تلخ حقائق

یمن و کشمیر، چند تلخ حقائق
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
اس وقت عالمی منظرنامہ میں جو ایشوز سر فہرست نظر آرہے ہیں، ان میں ایک طرف کشمیر کا مسئلہ ہے، جسے اس وقت عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوچکی ہے، پاکستان اس مسئلہ پر دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کو کشمیر میں مظالم سے روکنا چاہتا ہے اور اہل کشمیر ہندوستان کے مظالم کے سامنے گذشتہ بہتر سال سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی اپنی جدوجہد کا حاصل اس سے آزادی کی صورت میں لینا چاہتے ہیں، ہندوستان نے اپنے زیر قبضہ کشمیر و جموں میں مظالم کے پہاڑ توڑے ہیں، گذشتہ چالیس دن سے زیادہ عرصہ سے اہل کشمیر پر جبر و ستم کی جو داستانیں رقم کی گئی ہیں، ان کو ضمیر عالم جگانے کیلئے اقوام متحدہ میں وزیراعظم کو خطاب کا ایک بہترین موقعہ حاصل ہے، دیکھیں اسے کس طرح استعمال کیاجاتا ہے۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو یمنیوں کی طرف سے آل سعود کے قلب پر کیا جانے والا یادگار وار ہے، جس کی دھوم و گونج ہر سو سنائی دے رہی ہے، یمنیوں نے سعودیہ کی تیل پیدا کرنے والی ریفائنری کو ڈرونز سے نشانہ بنایا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ ہمیشہ کی طرح اس کا الزام امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے ایران پر لگایا گیا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ ایران نے میزائل فائر کیا ہے، کبھی حشد الشعبی عراق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ایران نے یمن سے یہ وار کیا ہے۔ حیرانگی اس بات پہ ہے کہ سیٹلائٹ کے ذریعے زمین پر چلنے والے اور زیر زمین رہنے والے اپنے ٹارگٹس کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے والا امریکی نظام اور دنیا کا سب سے بڑا امریکی اسلحہ کا خریدار سعودیہ کے سارے دفاعی نظام و دفاعی شیلڈز مکمل فیل ہوگئی ہیں اور انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ نشانہ کیسے بنایا گیا ہے، جبکہ اس حملے کو روکنا چاہیئے تھا۔

آرامکو پر حملے سے ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ یمنیوں نے جو کہا تھا، سچ ثابت کر دکھایا ہے، وہ مختلف اوقات میں کہتے آرہے ہیں کہ ہم سعودیہ اور اس کے اتحادیوں کو حیران کر دینگے اور اب تک انہوں نے تمام تر پروپیگنڈا کے باوجود اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے اور بے گناہوں کے خون سے رنگین ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کیلئے دشمنوں کو متعدد بار حیران و ششدر کیا ہے، اس سے قبل بھی کئی ایک مقامات، آئل تنصیبات، ایئر پورٹس اور آئل ٹینکرز نشانہ بنائے گئے ہیں جبکہ انہوں نے ابھی تک کسی سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا، کجا یہ کہ ان پر الزام اور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ حرمین شریفین پر حملہ آور ہیں۔
 
مجھے یاد ہے کہ جب یہ جنگ پانچ سال پہلے شروع ہوئی تھی تو ایسا تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ پسماندہ اور غریب یمن چند دنوں میں سعودیہ کے ہاتھوں میں ہوگا اور سعودی نمائندہ یمن کا اقتدار سنبھال لے گا، مگر پا برپنہ اور خدائی طاقت پر بھروسہ کرنے والے انتہائی پسے ہوئے یمنیوں نے استقامت کی ایسی مثالیں پیش کی ہیں کہ دنیا حیران و ششدر ہے، جن کے سینے دکھوں اور غموں سے چھلنی ہیں، جن کے گھر تباہ و برباد ہیں، جن کے بچے بھوک اور دوائی نہ ہونے سے بلک بلک کے مر گئے ہیں، جن کے اسکول جاتے بچے اور اساتذہ بسوں میں میزائلوں سے نشانہ بنائے گئیے ہیں، جن کی مسجدیں اور عبادت گاہیں ان کے نمازیوں سے رنگین کر دی گئی ہیں، جنہیں آگ، خون، بارود، گولیوں اور بموں کی دھمکاتی آوازوں کا عادی بنا دیا گیا ہے، جن پر کلسٹر بم برسائے جا رہے ہیں، جن پر اسرائیلی پائلٹس بارود کی برسات کرتے ہیں، جن کے خلاف اکتالیس ملکی جنگی اتحاد بنایا گیا ہے اور کئی ایک ممالک کی افواج کو کرائے پر لڑنے کیلئے حاصل کیا گیا ہے۔

جن کے پاس سوائے اللہ کے کوئی بھروسہ کرنے والی ذات نہیں ہے، ان کے چیتھڑے کپڑوں کے ساتھ، ننگے پائوں سخت نوکیلے پہاڑوں پر استقامت اور اپنے دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کی ویڈیوز دیکھ کے یاد آتا ہے کہ ابرہہ کا لشکر باایمان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اب بھی جو آرامکو پر حملہ کیا گیا ہے، ان کے دشمن کو یقین نہیں آرہا کہ یہ یمنی کرسکتے ہیں، حالانکہ یہ توحید، توحید کا درس دیتے ہیں اور اللہ کی مدد کے طالب بنتے ہیں، جبکہ اہل یمن عملی طور پہ اس فکر و نظریہ پہ یقین کامل اور اس پر عمل درآمد کرنے والے ہیں۔ اہل سعود نے تو اکتالیس ملکی اتحاد بھی بنایا، پاکستان کے اعلیٰ جرنیل کو اس کا سربراہ بھی بنایا، امریکہ اور اسرائیل سے مدد بھی لی، اس کے باوجود اللہ کی مدد جن کے شامل حال ہے، ان کے سامنے بے بس دکھائی دیئے اور ایسا ہی ہوتا رہیگا، اس لئے کہ یہ بنیادی فکر کا معاملہ ہے۔

ایک طرف اہل کشمیر، اہل یمن، اہل شام، اہل لبنان، اہل عراق اور دنیا بھر میں بہائے جانے والے بے گناہ مسلم خون کی پکار ہے، دوسری طرف امریکہ اور اس کے ساتھ کاندھا ملائے اسرائیل، ہندوستان اور دشمنان خدا و رسول و آل رسول ۖ کے مظالم کی طویل داستانیں ہیں، جن کی ضخامت اس قدر ہے وسیع ہے کہ اس کیلئے تاریخ کے کئی ادوار چاہیئے فیصلہ صادر کرنے کیلئے۔ بہرحال آل سعود کو شائد اس سے سبق حاصل ہوگیا ہوگا کہ انہوں نے امریکہ سے جو اتنا اسلحہ خریدا اور اس کے بند کارخانے چلوائے، اس کی اسلحہ انڈسٹری کو پھر سے کھڑا کیا، لاکھوں امریکیوں کو صرف سعودی اسلحہ ڈیل کے باعث نوکریاں مل گئیں اور بند کارخانے چل پڑے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح امریکی صدور ان بدوئوں کو لوٹ رہے ہیں، ان سے دودھ دوھ رہے ہیں اور انہیں ایران سے ڈرا کر اپنا بیکار اسلحہ بیچ رہے ہیں تو دوسری طرف خلیج اور مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجیوں اور بحری بیڑوں نیز فوجی مراکز کا خرچ بھی حاصل کر رہا ہے۔

یہ تو اقتصادی ماہرین یا دفاعی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ تحفظ کے نام پر عربوں سے کتنی دولت لوٹی جا رہی ہے اور گیدڑ بھبھکیاں دیکر انہیں کس طرح خوش کیا جا رہا ہے، یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ اسرائیل، امریکہ یا کوئی اور ملک ایران پر حملہ کی جرات نہیں کرسکتے، اس لئے ایران نے تمام تر پابندیوں کے باوجود اپنے دفاع کا پورا انتظام کیا ہے، اس کی قیادت نا تو ان کی طرح عیاش ہے اور نہ ہی ان کی طرح دولت اکٹھی کرنے کی شوقین، ایرانی قیادت نے غیرت و حمیت، استقامت، جرات، شجاعت، حکمت اور دلیری کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ انہیں زیر کرنا دیوانے کا خواب تو ہو سکتا ہے، عملی ہرگز نہیں۔ ایران اس وقت اپنی سفارت، حکمت، پالیسیز، عالمی سطح پر اپنے بے خوف اور بے لاگ موقف کی بدولت کسی کے دام میں آنے والا نہیں۔

اب تو رہبر معظم ایران نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہونگے، امریکہ دھوکہ باز اور فریب کار ہے، جو اپنے وعدوں سے پھرنے والا ہے، اس لئے صدر ٹرمپ کی تمام خواہشات کے باوجود ایران نے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ ہم میں اور ہمارے ہمسائے ایران میں یہی فرق ہے کہ ایران ایک خوددار اور غیرت مند قیادت کا حامل ملک ہے، جس کی پالیسیز پر کوئی بھی دوسرا ملک اثر انداز نہیں ہوسکتا، روس کیساتھ اتنے زبردست تعلقات کے باوجود روس بھی ایران کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ امریکہ سے مذاکرات کرے، جبکہ ہم نے اپنا سارا دارومدار ان پر ڈال رکھا ہے، جو خود محتاج ہیں، جن کی اپنی کوئی رائے نہیں، جو کسی بھی مشکل مرحلے میں ہمارے ساتھ نہیں ہیں، بلکہ وہ مودی سے پیار کی پینگیں بڑھا چکے ہیں۔ ایسے میں ان کے فراہم کردہ سپیشل جہاز میں نیو یارک کا سفر کیسے مبارک ہوسکتا ہے۔ لہذا کسی امید پہ نہیں رہنا چاہیئے، اہل کشمیر کی مظلومیت پر رحم و ترس کھائیں اور پاکستانی سیاستدان اپنی یکجہتی کا عملی اظہار ان کیساتھ کریں تو ان کو حوصلہ ملے گا، ہاں مگر اہل کشمیر آزادی کا دارومدار ہماری ان حکومتوں پر نہ رکھیں، جو خود کسی پر انحصار کرنے والی ہیں تو بہتر ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 817890
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب