0
Tuesday 24 Sep 2019 09:46

عالمی سیاسی میلہ اور ریڈیکل اسلام

عالمی سیاسی میلہ اور ریڈیکل اسلام
اداریہ
امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، دنیا بھر کے سربراہاں مملکت اس اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں یا پہنچنے والے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جن سربراہان مملکت کے خطاب کا شدت سے انتظار ہے، ان میں امریکہ، ایران، پاکستان اور ہندوستان کے سربرہان شامل ہیں۔ پاکستانی اور ہندوستانی وزرائے اعظم امریکہ میں براجمان ہوچکے اور عوامی اجتماع و انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کی وجہ سے پاک ہند سربراہان مملکت عالمی میڈیا میں سرفہرست نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے ہندوستانی نژاد ووٹروں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر بوسٹن میں نریندر مودی کے ہمراہ جو تقریر کی اور اس میں ریڈیکل اسلام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جو زہر اگلا ہے، اس سے جنرل اسمبلی کے خطاب سے پہلے ہی امریکی موقف سامنے آگیا ہے۔

اس خطاب میں صدر ٹرامپ ثالث کی بجائے ہندوستان کے ہندوتوا نظریئے اور آر ایس ایس کے خیالات کے ترجمان نظر آئے۔ اس اسلام دشمن خطاب کے بعد انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں نوبل انعام حاصل کرنے کی جس خواہش کا اظہار کیا، اس پر عمران خان نے کس طرح ہنسی پر قابو پایا ہوگا، اس کا احوال کوئی عینی شاہد ہی بتا سکتا ہے۔ ٹرامپ عمران ملاقات میں کشمیر کے بارے میں جو بات ہوئی، اس کی حقیقت ٹرامپ کے جنرل اسمبلی کے خطاب میں مزید کھل کر سامنے آجائے گی، لیکن ٹرامپ نے مودی اور ہزاروں ہندوستانی نژاد امریکیوں کی موجودگی میں اسلام کے خلاف جو موقف اپنایا ہے، اس کا براہ راست نشانہ کشمیری مسلمان ہی ہوسکتے ہیں، کیونکہ داعش اور القاعدہ کا خالق تو خود امریکہ ہی ہے، البتہ ٹرامپ نریندر مودی کو ایران کے خلاف استعمال کرنے میں بھی پورا زور لگا رہے ہیں۔

کشمیریوں کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان اگر حق خودارادیت کی تحریک چلائیں تو وہ دہشت گرد کہلاتے ہیں، لیکن اگر یہی عمل جنوبی سوڈان یا مشرقی تیمور میں انجام پائے تو انہیں نہ صرف آزادی مل جاتی ہے بلکہ ان کی مدد و حمایت کو انسانی حقوق اور جمہوریت کی حمایت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی وزارت خارجہ کی ٹیم امریکہ میں منعقدہ عالمی سیاسی میلے میں متحرک ضرور ہے، لیکن ان کے موقف کو مطلوبہ پذیرائی نہیں مل رہی، جس کی ایک مثال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کا غیر فعال کردار اور کشمیر کے مسئلے کا کھل کر سامنے نہ آنا ہے۔ بہرحال نیویارک کے عالمی سیاسی میلے میں امریکہ ہوم گرائونڈ کا فائدہ اٹھا کر اسلام کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ دوسری طرف ایران کے علاوہ کوئی اسلامی ملک امریکہ کی سامراجی اور خود سرانہ پالیسیوں پر صدائے احتجاج بلند کرتا نظر نہیں آرہا بلکہ ایک انتہائی جانبدار شخص سے ثالثی کی بھیک مانگی جا رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 817977
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب