0
Monday 23 Sep 2019 16:38

سعودی عرب کا زوال۔۔۔۔۔ عالم اسلام کی تباہی؟

سعودی عرب کا زوال۔۔۔۔۔ عالم اسلام کی تباہی؟
تحریر: نصرت علی شہانی

اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت، ایک الٰہی ضابطہ ہے۔ ریاست مدینہ اس کا کامل نمونہ تھا، جو اللہ کے حکم سے رسول اکرمﷺ نے اپنی اہلبیتؑ و صحابہ کرامؓ کی بے پناہ قربانیوں سے قائم فرمائی۔ لازم تھا کہ دنیا میں اور کہیں یہ الہٰی نظام نہ بھی ہو تو قرآن کی سرزمین پر باقی رہتا۔ خلافت و امامت کا ملوکیت میں تبدیل ہونا ایک مفصل موضوع ہے۔ بدقسمتی سے اس مقدس سرزمین پر اللہ کا نظام ختم ہوگیا، حتیٰ کہ نام بھی رسول اکرم ؐیا کسی صحابی کی بجائے اس پر قبضہ کرنے والے ’’سعود‘‘ سے منسوب کر دیا گیا۔ بجا طور پر سوال اٹھتا ہے کہ وحی کی اس مقدس سرزمین پر کیا رسول اکرمؐ اور ان کے اہلبیت ؑو اصحاب ؓکی قربانیاں آل سعود کی شہنشاہیت کے لئے تھیں؟ انگریزوں کی ملی بھگت سے متشدد نظریات کے حامل محمد بن عبدالوہاب کا شاہ سعود کی بادشاہت سے گٹھ جوڑ ہوا، جس کا اعتراف موجودہ ولیعہد محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ قبل کیا ہے۔

اسی سخت گیر مسلک کے ورغلانے پر 1925ء میں سعودی حکومت نے مدینہ منورہ کا تاریخی قبرستان جنت البقیع منہدم کیا، جس میں امہات المومنینؓ، دختر رسول، اہلبیت رسولؐ اور صحابہ کرام ؓکے مزارات تھے(انہی نظریات کے زیر اثر اس مقدس سرزمین پر یزید بن معاویہ کے نام سے شاہراہ منسوب ہے)۔ دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سعودی سرپرستی کے علاوہ مسلمانان عالم کی تشویش میں بجا طور پر موجودہ سعودی حکمرانوں کی امریکہ، اسرائیل، بھارت نوازی سے اضافہ ہوا۔ مودی کو شاہ سلمان کا ایوارڈ دینا، ٹرمپ کا دورہ، اس کے یہودی داماد کے ساتھ مل کر محمد بن سلمان کا فلسطین کے سودے میں کردار اور کثیر الملکی فوجی اتحاد کے ذریعہ پڑوسی مسلمان ملک یمن کو تباہ کرنے جیسے سانحات سے کوئی بھی مسلمان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اسلام میں تو غیر مسلموں سے بھی جنگ کے ضابطے ہیں۔ یمن میں جس طرح سوِل آبادی کا قتل عام کیا گیا، وہ کافروں کے ساتھ بھی جائز نہیں۔

چند دن قبل یمنی متاثرین نے سعودی تیل تنصیبات پر تباہ کن حملے کئے تو آل سعود، امریکہ و اسرائیل کے ایوانوں اور سعودی وظیفہ خواروں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ لاہور پریس کلب میں اس حملہ کے ’’متاثرین‘‘ کی طرف سے 17 ستمبر کو منعقدہ سیمینار میں جماعت اسلامی کے جناب لیاقت بلوچ نے مذکورہ حملے کو عالَم اسلام پر حملہ قرار دیا۔ حوثیوں کی داعش و طالبان سے مماثلت کا ذکر کیا۔ محمد بن سلمان کی تعریف و دفاع کیا اور سب سے بڑھ کر انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کا زیر ہونا عالَم اسلام کی تباہی ہوگی۔ لاکھوں یمنی مسلمانوں کے خون پر تیل کو ترجیح دینے والے بلوچ صاحب کے اس دعویٰ کی عالم اسلام میں سے کسی ذمہ دار فورم نے تائید نہیں کی کہ یہ تیل تنصیبات پر نہیں بلکہ اُن پر حملہ ہے۔ قرآن میں ہے کہ ’’بسا اوقات ایک قلیل جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ (البقرہ:۲۴۹)۔ حوثیوں کی طالبان سے مماثلت کو بھی ذمہ دار حلقے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ حوثیوں نے بازاروں، عبادت گاہوں، ہسپتالوں پر حملے نہیں کئے۔

محمد بن سلمان جیسے شخص کیلئے بھی لیاقت بلوچ صاحب کی وکالت و محبت کے ہمنوا اسلامی دنیا میں کوئی نہیں۔ رَہا ان کا یہ دعویٰ کہ سعودی عرب کا زیر ہونا عالم اسلام کی تباہی ہوگی، کسی بھی لحاظ سے صائب نہیں۔ مصر کی اخوان المسلمین، فلسطینی حماس سمیت عالم اسلام کی کوئی اسلامی تحریک، ذمہ دار فورم اگر بلوچ صاحب کے دعویٰ کی تائید کرے تو وہ ضرور مطلع کریں۔ البتہ گذشتہ سال ٹرمپ کا پاکستانی اخبارات میں شہ سرخیوں میں شائع ہونے والا بیان بلوچ صاحب کی تشویش کا اصل رُخ متعین کرتا ہے کہ ’’سعودی عرب کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہ تھا۔‘‘ ذمہ دار حلقے اس پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ طاقتور فوجی اتحاد، بے پناہ اسلحہ اور امریکی سرپرستی کے باوجود جو ملک کمزور حوثیوں سے اپنا دفاع نہ کرسکا، وہ خدانخواستہ اسرائیل جیسے مضبوط دشمن کے مقابل حرمین کا دفاع کیسے کرے گا؟ کیونکہ گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں مکہ، مدینہ بھی شامل ہیں، لہٰذا حرمین کی حفاظت و نظم و نسق کیلئے مسلم ممالک پر مشتمل کمیشن بنایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 818109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب