0
Wednesday 25 Sep 2019 19:20

پاک افغان راہداری، پاکستان میں بلیک اکانومی کا بڑا سبب

پاک افغان راہداری، پاکستان میں بلیک اکانومی کا بڑا سبب
رپورٹ: ایس ایم عابدی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے زیرانتظام ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان ٹرانزٹ اور افغان امپورٹ براہ راست پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال رہی ہے اور پاکستان میں موجود بلیک اکانومی کا بنیادی جزو یہی ہے۔ افغانستان اپنے حجم سے کئی گنا زیادہ مال درآمد کرتا ہے اور دانستہ طور پر عالمی اداروں کو اپنی امپورٹ کا مکمل اور درست ڈیٹا فراہم نہیں کر رہا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کو افغانستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات میں امپورٹ کا مالیاتی حجم کئی گنا کم ظاہر کیا جاتا ہے، تاکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کے حوالے سے افغانستان پر عائد کئے جانے والے اعتراضات کو غیر مؤثر بنایا جاسکے۔ رواں برس پاکستان میں سے گزرنے والے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی افغان حکومت نے ڈیکلیئر امپورٹ ویلیو 14.8 ارب ڈالر ظاہر کی ہے جبکہ پاکستانی ویلیو ایشن فریم ورک کے تحت اس امپورٹ کی ویلیو 44.4 ارب ڈالر بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بازاروں میں اسمگل شدہ اشیاء کی روک تھام سے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد زیرو لائن پر انسداد اسمگلنگ کیلئے کسٹم، رینجرز، کوسٹل گارڈز اور افواج پاکستان کے موثر اشتراک کے ساتھ سخت ترین اقدامات کئے جائیں اور بڑے شہروں میں قائم باڑہ مارکیٹس کو فوری طور پر ختم کیا جائے، جہاں اربوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان فروخت ہو رہا ہے، بوگس سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور امپورٹ لائسنس کی روک تھام کیلئے نیا میکنزم بنایا جائے۔ رپورٹ میں گڈز ڈیکلیریشن اور ڈیوٹی اسیسمنٹ کے نظام سمیت انسداد اسمگلنگ کے لئے پاکستانی نظام کے غیر موثر ہونے کی جانب نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل چیئرمین ایف بی آر نے ملک بھر کے کسٹم افسروں کے ساتھ ایک اہم ویڈیو کانفرنس کی تھی، جس کا مقصد اسمگلنگ کی روک تھام کرنا تھا۔

اس کانفرنس کے دوران متعدد سینیئر افسروں نے چیئرمین ایف بی آر کو اپنی رائے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بالخصوص اور افغانستان کی مجموعی امپورٹس بالعموم پاکستان میں اسمگلنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان کی بلیک اکانومی موجود ہے، جب تک اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاتا، تب تک ملکی معیشت درست نہیں ہوسکتی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اپنی مجموعی امپورٹ کا 28 فیصد پاکستان میں طورخم اور چمن کے راستے امپورٹ کرتا ہے جبکہ 37 فیصد امپورٹ ایران کے علاقہ اسلام قلعہ کے ذریعے ہوتی ہے اور 26 فیصد افغانی امپورٹ ازبکستان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ حیران کن طور پر افغان اتھارٹیز پاکستان کسٹمز کو ٹرانزٹ سامان کی جو مالیت باضابطہ طور پر بتاتی ہے، وہ اصل مالیت سے تین گنا کم ہوتی ہے، جیسا کہ 2016ء میں افغانستان نے پاکستان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کی مجموعی امپورٹ مالیت 0.82 ارب ڈالر بتائی جبکہ پاکستان کسٹم ویلیو ایشن ٹیبل کے مطابق اصل مالیت 2.9 ارب ڈالر تھی۔

18۔2017ء میں مالیت 1.1 ارب ڈالر ظاہر کی گئی، جو پاکستانی ویلیو ایشن ٹیبل کے مطابق 3.3 ارب ڈالر تھی۔ اسی طرح 19۔2018ء میں افغانستان نے امپورٹ مالیت 2.34 ارب ڈالر ظاہر کی تھی، لیکن پاکستان ویلیو ایشن ٹیبل کی اصل مالیت 5.33 ارب ڈالر ہے۔ رپورٹ میں اس جانب بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغانستان عالمی اداروں کو اپنی مجموعی امپورٹ کی مالیت کم ظاہر کرکے ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان جو اشیاء امپورٹ کر رہا ہے، وہ افغانستان کے کاروباری اور معاشرتی نظام کی ضروریات کے مطابق نہیں، ان کا بڑا حصہ پاکستان میں اسمگل کیا جا رہا ہے۔ 22 کروڑ آبادی والے پاکستان کی سالانہ امپورٹ گذشتہ پانچ برسوں میں 45 سے 60 ارب ڈالر رہی ہے جبکہ ڈھائی کروڑ آبادی والے افغانستان کی 2012ء سے 2017ء تک امپورٹ 20 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہی اور 2018ء میں یہ 44 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔

ڈی جی ٹرانزٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیٹا کے تجزیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سرحدی مقامات اور کوسٹل ایریاز میں کمزور انتظامی گرفت کی وجہ سے افغان امپورٹ اور پاکستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان اور ایران سے پٹرولیم مصنوعات اسمگل ہو کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق حکومت نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور بلیک اکانومی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کیے ہیں، پہلی مرتبہ انسداد اسمگلنگ کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر ملک گیر مہم شروع کی گئی ہے، جس میں تمام متعلقہ ادارے وزیراعظم کی سربراہی میں کام کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 818124
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب