0
Wednesday 25 Sep 2019 08:30

ٹرمپ نے راز بتا دیا

ٹرمپ نے راز بتا دیا
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے توقع کے عین مطابق جنرل اسمبلی کے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پرانے الزمات کو دہرایا ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والی امریکی حکومت کے بڑ بولے صدر نے بھی ماضی کے امریکی صدور کی جنرل اسمبلی کی تقریر کے طرح ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ جب ایران کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کر رہے تھے تو عالمی سیاست کے آگاہ حلقے یقیناً حیران و ششدر ہوں گے کہ القاعدہ سے لے کر داعش اور بلیک واٹر سے لیکر سی آئی اے اور موساد جیسی بدنام تنظیموں کا خالق و حامی امریکہ ایران جیسے ملک پر دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے، جو نہ صرف خود دہشت گردی کا شکار رہا بلکہ اس نے شام و عراق میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ کر خطے میں دہشت گردی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتا ہے جبکہ امریکی تاریخ دہشت گردانہ اقدامات سے سیاہ ہے۔ ہیرو شیما سے ناگا ساگی اور افغانستان میں بے چارے افغان شہریوں کی شادی کی تقاریب پر وحشیانہ فائرنگ اور عراق و شام میں داعش، النصرہ فرنٹ کو ہتھیار فراہم کرنے سے لے کر ایران کے مسافر طیارے کو میزائل کا نشانہ بنانے تک ایسے چند واقعات ہیں، جو امریکہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پوری ڈھٹائی سے ایران کو امن و صلح کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ اس وقت خطے بالخصوص یمن میں امن و صلح کو نابود کرنے والوں کے پیچھے حقیقی چہرہ امریکہ کا ہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں لگی آگ کو شروع کرنے والا اور اس کو ہوا دینے والا بھی امریکہ ہی ہے۔ دنیا کے ہر بحران میں چاہے وینزویلا کا ہو یا شمالی کوریا، امریکہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ذمہ دار ہے اور دنیا اس کو تسلیم کرتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر الزامات لگانے کا مقصد ایران کو عالمی سیاست میں تنہا کرنا ہے اور ایران کو اسرائیل دشمنی سے روکنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ نے صہیونی لابی کو راضی کرنے اور اپنے آئندہ انتخابات میں اس لابی سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ایرانی قیادت نے ماضی میں اسرائیل کو کینسر قرار دیا تھا اور امریکہ صہیونیت کی مخالفت کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

ڈونالڈ ٹرامپ نے صہیونیت کی مخالفت کو برداشت نہ کرنے کا کہہ کر حقیقت میں ایران امریکہ دشمنی کی اصل وجہ آشکار کر دی ہے۔ سابق امریکی صدور اس کو بیان کرنے میں ہچکچاتے تھے، لیکن ڈونالڈ ٹرامپ کی زبان نے سچ اگل دیا ہے۔ امریکہ نے اپنی دوستی اور دشمنی کا معیار جنرل اسمبلی میں بتا دیا ہے، پس جو صہیونیت کا مخالف ہے، وہ امریکہ کی دشمنی مول لینے کے لیے تیار رہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کئی بار اس موقف کو بیان کرچکے ہیں کہ امریکہ کی ایران سے دشمنی ایٹم بم، انسانی حقوق اور میزائل ٹیکنالوجی وغرہ نہیں، وہ ایران کے اسلامی نظام کا دشمن ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران میں جب تک اسلامی نظام مستحکم رہے گا، اسرائیل کے خلاف ایران کی دشمنی ختم نہیں ہوگی، البتہ ڈونالڈ ٹرامپ کو غلط فہمی ہے کہ ایران ماضی میں اسرائیل کو کینسر کہتا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اب اس مرحلے سے چند قدم آگے آچکا ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای تو اسرائیل کی نابودی کی خوشخبری بھی دے چکے ہیں۔ یقیناً خدا پر ایمان رکھنے والے اور ظالم و ستمکار کی نابودی کے قرآنی وعدے پر ایمان رکھنے والے صہیونی حکومت کی نابودی و بربادی کے دن گن رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 818215
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب