0
Thursday 26 Sep 2019 11:46

ہنسیں کم روئیں زیادہ

ہنسیں کم روئیں زیادہ
تحریر: عظمت علی
 
اسلامی کلینڈر کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے، اس کی آمد کا جہاں محبان اہل بیت کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے، وہیں کچھ ناعاقبت اندیش افراد بھی گھات میں بیٹھے بدعت کا جال بنتے رہتے ہیں تاکہ عزاداری میں روڑے ڈالے جاسکیں، مگر وہ فراموش کرجاتے ہیں کہ چراغ ہدایت بجھنے والا نہیں۔ ظالم کے دفاع اور مظلوم کے حق میں مذہب کی آڑ لگا کر نہ جانے کتنے فتوے  صادر کئے جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کی مثل ناکامی اور نا امیدی ہی ہاتھ آتی ہے، اب جبکہ ترکش میں کوئی تیر نہ بچا تو ناکارہ تیروں سے ہی مدد لی گئی اور بار بار اسی گھسے پیٹے اعتراض کو دہرایا جاتا ہے کہ رونا بدعت ہے اور مجالس برپا کرنا غیر اسلامی ہے۔ مذکورہ سوال کے متعدد بار متقن، مدلل اور مفصل جوابات پیش کئے جا چکے ہیں، مزید اس کی حاجت نہیں رہ جاتی، بس اس وجہ سے بعض اوقات جوابات پیش کئے جاتے ہیں تاکہ نا آشنا طبقہ کہیں ہمارے سلسلہ میں کوئی غلط رائے نہ قائم کر لے۔ عزاداری پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حسین اور ان کے اصحاب تو مرگئے، اب رونے سے کیا فائدہ، زندہ ہو جائیں گے کیا؟

مختلف طریقوں سے اس کے جوابات دیئے جا چکے ہیں، قرآن کریم، حدیث اور عقلی دلائل سے یہ ثابت ہے کہ شہدائے کربلا پر گریہ کرنا مستحسن عمل ہے، ورنہ روتے ہوئے نومولود کو علامت زندگی نہ سمجھا جاتا، اگر یہ نہ روئے تو آپ کو رونا پڑے۔ بہرکیف، ہم اشارتا چند قرآنی آیات سے اس کا حل پیش کر رہے ہیں تاکہ طالب ہدایت کے لئے راہ ہدایت روشن ہو سکے۔ مقام تاسف یہ کہ قاریان قرآن اور حافظين آیات الٰہی سے یہ بات کیوں کر مخفی رہی کہ شہداء کے سلسلے میں اللہ ارشاد فرماتا ہے، "وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ"
اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ہو جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔ (سورہ بقرہ 154) اللہ کہہ رہا ہے کہ انہیں مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں، اور آپ بضد ہیں کہ وہ مرچکے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کو ان کی زندگی کا شعور نہیں۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے، "وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ‌ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ" اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں۔ (سورہ آل عمران 169) اول الذکر آیت میں ارشاد ہوا کہ انہیں مردہ مت کہو اور یہاں حکم خداوندی ہے کہ راہ خدا میں قتل ہو جانے والوں کو مردہ گمان بھی مت کرو۔'

یعنی زبان سے ادائیگی تو درکنار، اس کا خیال بھی دل سے نکال دو، اس آیت میں اللہ نے آپ کے فکر و خیال پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ جب یہ دلیلیں دی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ چلیے مان لیا کہ وہ زندہ مگر کیا زندہ پر رویا جاتا ہے...!؟ قرآن حکیم نے ان کے اس بیان پر بھی پانی پھیر دیا۔ حضرت یعقوب نبی تھے، ان کے بارہ فرزند ہوئے، فرزند کھیلنے کے بہانے میدان گئے اور اپنے بھائی یوسف کو کنویں میں ڈال دیا، آپ جناب یوسف سے از حد محبت کرتے تھے، ان کے بھائی جب واپس آئے تو رونے لگے اور ایک جھوٹی خبر بنا کر کہا کہ بابا! یوسف کو بھیڑیا کھا گیا، حضرت یعقوب، اللہ کے نبی ہیں، عالم غیب ہیں، آپ کو علم تھا کہ انہوں نے کیا گل کھلائے ہیں، یہ محض عارضی جدائی تھی اور آپ اس قدر روئے کہ آنکھ کی بینائی رخصت ہوگئی۔ اب آپ اس کو کیا کہیں گے بدعت یا سنت نبی...؟! اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم جناب یعقوب نبی کی شریعت پر عمل پیرا نہیں تو پھر آنحضرت نے بھی جناب حمزہ سیدالشہداء کی لاش پر گریہ کیا اور لوگوں کو بھی اس عمل کی ترغیب بھی دلائی۔

اگر گریہ کرنا بدعت ہوتا تو اللہ تبارک و تعالٰی اس کی مذمت کرتا، خوبی بیان نہ کرتا۔ کتاب اللہ میں آسمان و زمین کا رونا بیان ہوا ہے۔ "فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ" پھر تو ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین (سورہ دخان 29) یہ آیت دشمن خدا کی مرگ کی مذمت میں نازل ہوئی، مدح میں نہیں، اس کا ظاہری مفہوم یہ ہوا کہ خدا کے برگزیدہ بندے جب اس دار فانی سے کوچ کرتے ہیں تو یہ آسمان و زمین سوگوار ہو جاتے ہیں۔ تاریخی شواہد سہارا دیتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر آسمان نے سیاہ پوشاک پہن لی تھی، اور تاریکی کی بموجب دن میں تارے نظر آنے لگے تھے، زمین نے خون کے آنسو بہائے۔ معتبر روایات شاہد ہیں کہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد بیت المقدس کی سرزمین کے جس حصے سے پتھر اٹھایا جاتا، تازہ خون ابل پڑتا۔ خداوند حکیم کے نزدیک گریہ کرنا فعل مستحسن ہے، مومنین کی صفات میں مذکور ہونا اس کی واضح دلیل ہے۔ اللہ نے اس عمل کو سراہا ہے اگر رونا اللہ تبارک و تعالٰی کی نگاہ باعظمت میں بدعت ہوتا تو وہ ضرور اس کی مذمت کرتا، جبکہ وہ اس کی مدح کررہا ہے۔ اس لئے غم حسین میں گریہ کرو، ورنہ اپنی تقدیر پر رونا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 818523
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب