0
Thursday 26 Sep 2019 22:32

سعودی عرب پر ہونیوالے ڈرون حملوں کے الزامات ایران پر عائد نہیں کرنے چاہئیں، ترکی

ہمیں اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ اسطرح کے حملے یمن کے مختلف حصوں سے ہو رہے ہیں
سعودی عرب پر ہونیوالے ڈرون حملوں کے الزامات ایران پر عائد نہیں کرنے چاہئیں، ترکی
اسلام ٹائمز۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے الزامات ایران پر عائد نہیں کرنے چاہئیں اور اس میں احتیاط برتنی چاہیئے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایران پر الزام لگانا صحیح کام ہوگا۔ یاد رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی بڑی آئل کمپنی آرامکو کی عبقیق اور خریص کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے تھے۔ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ حملے شمال کی طرف سے ہوئے، ان حملوں میں بلا شبہ ایران ملوث ہے۔ حملوں کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے۔ اب اس معاملے پر امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ اسی طرح کے حملے یمن کے مختلف حصوں سے ہو رہے ہیں۔ اگر ہم سارا بوجھ ایران پر ڈال دیتے ہیں تو صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ دستیاب شواہد ضروری طور پر اس حقیقت کی جانب اشارہ نہیں کرتے۔ اردوان نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نے کبھی کوئی چیز حل نہیں کی۔

اس سے قبل اسی امریکی ٹی وی فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ امریکا جہاں جاتا ہے، اس ملک میں دہشت گردی پھیل جاتی ہے۔ جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تعجب ہے، ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی دہشتگردی کے پیچھے ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ میں واضح بتانا چاہتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کو ایران نے نہیں بلکہ امریکا نے فروغ دیا ہے، ہمارے ریجن میں جو دہشت گردی پھیل رہی ہے، اس کے پیچھے واشنگٹن ہے، جس کی مثال شامی حکومت کی اجازت کے بغیر وہاں امریکی موجودگی ہے۔ انٹرویو کے دوران حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعہ عوام کو ضروری ادویات سے محروم کرنا دہشت گردی ہے۔
خبر کا کوڈ : 818590
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب