0
Monday 30 Sep 2019 09:25

فلسطین میں اتحاد کی کوششیں تیز

فلسطین میں اتحاد کی کوششیں تیز
اداریہ
بہت سے دیگر اسلامی ممالک کی طرح فلسطین میں بھی مختلف تنظیموں کے درمیان اختلافات کی خلیج کافی وسیع ہے۔ سامراجی طاقتوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ "لڑائو اور حکومت کرو" کے شیطانی منصوبے پر عمل کریں اور بدقسمتی سے مسلمان ممالک اور مسلمان جماعتوں میں اختلاف کے پیچھے بھی یہی شیطانی محرکات ہوتے ہیں۔ فلسطین گذشتہ اکہتر بہتر سال سے صہیونی سازشون کا شکار ہے اور قربانیوں کے ایک لازوال داستان ہے، جو مظلوم فلسطینیوں نے اپنے خون سے رقم کی ہے، لیکن دوسری طرف یاسر عرفات سے لے کر آج تک تمام فلسطینی کبھی ایک صفحے پر نظر نہیں آئے۔ سلیقے اور طریقہ کار میں اختلاف پھر بھی قابل قبول ہوتا ہے، لیکن جب ایک دوسرے کی مخالفت اس سطح پر آجائے کہ دوسرے کا وجود ہی ناقابل برداشت لگے تو ایسی صورتحال میں اس قوم کی کامرانی ایک ناممکن امر نظر آنے لگتی ہے۔

فلسطین میں مختلف تنظیموں کے درمیان برسوں کی رسہ کشی امریکی اور صہیونی اقدامات کی وجہ سے اگر ختم نہیں ہوتی تو کم از کم، کم ہوتی نظر آرہی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے فلسطین کی مخلتف تنظیموں کے درمیان امن و آشتی کی کوششیں عروج پر نظر آرہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے جب سے سنچری ڈیل جیسے خطرناک منصوبے کا اعلان کیا اور اس سے پہلے بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت بنانے کی سازش پر عمل درآمد کیا تو فلسطینیوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ادھر واپسی مارچ کے تسلسل اور غزہ پٹی کے فلسطینیوں کی مزاحمت نے اہل فلسطین کے لیے اتحاد کے راستے کھول دیئے ہیں۔ خطے میں حزب اللہ کا اسرائیل کو منہ توڑ جواب بھی اس بات کا باعث بنا کہ فلسطینی تنظیموں نے ایک صفحے پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطین سے موصولہ خبروں کے مطابق فلسطین کی مختلف تنظیموں من جملہ اسلامی جہاد، عوامی ڈیموکریٹک محاذ، آزادی فلسطین، خلق پارٹی، صاحقہ تحریک اور حماس وغیرہ سمیت کئی جماعتوں نے قومی وحدت و آشتی کے منصوبے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں الفتح کے سربراہ محمود عباس ابو مازن نے جو تقریر کی ہے، وہ بھی ان تنظیموں کے خیالات و اہداف سے اہم آہنگ نظر آرہی ہے۔ محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین جا کر پہلا کام انتخابات کا اعلان کریں گے۔ فلسطین میں آخری انتخابات 2006ء میں منعقد ہوئے تھے اور اس کے بعد تیرہ سالوں میں فلسطین میں انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکا۔ قومی آشتی و وحدت پر یقین رکھنے والے بھی جلد انتخابات پر راضی ہیں۔ حماس نے محمود عباس کے اس اعلان کا کھلے دل سے استقبال کیا ہے۔ حماس، الفتح اور اسلامی جہاد اگر فلسطین میں کسی ایک موقف پر متفق ہو جائیں تو باقی تنظیمں بھی اس موقف پر اکٹھی ہوسکتی ہیں۔ فلسطین میں مختلف تنظیموں کا اتفاق نیک شگون ہے، امید ہے دنیا کے دوسرے مسلمان ممالک کی اسلامی تنظیمں بھی اپنے معمولی سطح کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے باہمی اختلافات کو دور کرکے "وعتصمو بحبل اللہ" کی عملی تفسیر بننے کی کوشش کریں گی، ان شاء اللہ۔
خبر کا کوڈ : 819126
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب