0
Monday 30 Sep 2019 20:39

اسلام دین شناسوں کی تلاش میں

اسلام دین شناسوں کی تلاش میں
تحریر: جاوید عباس رضوی

دین اسلام ایک متحرک دین ہے، یہ اپنے لامحدود جولانگاہ میں ہمیشہ گھومتا ہے اور کسی ایک جگہ رک کر منجمد نہیں رہتا ہے۔ زمانہ اور وقت کے ساتھ ساتھ اسلام بھی اپنے محور پر گھوم کر آگے کی طرف جادہ پیما ہے اور اپنا مقررہ دائرہ کار زمانے کی توسیع کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ اسلام کے ضابطہ کار کی نشاندہی جس ازلی اور ابدی کتاب سے ہوتی ہے اور جس کی تشریح و تفسیر جس آخری انسانِ کامل سے ملتی ہے، ان کی وسعت کسی وقت یا زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ قیامت تک زمانہ کتنے بھی رنگ بدلے، وقت کتنی بھی کروٹ لے لے، اسلام کا دائرہ کار کبھی نہیں سکڑ سکتا ہے۔ دنیا نے تجربہ کر لیا کہ زمانے میں آنے والے نئے مسائل اور بظاہر مشکل ترین حالات کا سدھار اور حل اسلام آسانی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اسلام کے تحفظ کی ذمہ داری بھی اللہ نے ابتداء سے ہی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص اور چنیدہ بندوں کو اس کی حفاظت کے لئے میدان عمل میں مشغول رکھا اور اسلام انہی منتخب بندوں کی کوششوں و قربانیوں سے آج تک اسلام زندہ و تابندہ ہے۔

ہر زمانے میں اسلام کے خلاف سازشیں ہوئیں، پروپیگنڈا مشینری کو کام میں لایا گیا، اسلام کے خلاف گہری منصوبہ بندی کی گئی، لیکن ہر بار اور بار بار اسلام دشمن عناصر کو منہ کی کھانی پڑی۔ ہر بار دشمن کے مکروہ عزائم خاک میں ملتے گئے اور یہ اعزاز ہمیشہ دین شناس افراد کو ہی نصیب ہوا۔ اس دوران کئی دین کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے، جنہوں نے شریعت محمدی (ص) کو اپنی سوچ کے مطابق چلانے کی ناکام کوشش کی، کئی نام نہاد دیندار آئے، جو اسلامی احکامات کو زمانے کے حالات کے ماتحت بنانے کی سعی لاحاصل میں لگے رہے، لیکن مخلص علماء کرام اور دین شناس افراد نے ہمیشہ اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر اپنا سب کچھ قربان کرکے اسلامی اقدار کی حفاظت کی۔ دین شناس افراد نے بروقت تمام فتنوں کا منہ توڑ جواب دیا، اسلام ناب محمدی (ص) کے خلاف تاتاریوں کی یورش ہو یا کمیونزم کا طوفان ہو، لبرل ازم کی سازش ہو یا سکیولر ازم کا فتنہ ہو، ہر دور میں اسلام کی شبیہ مسخ ہونے کے بجائے اور نکھرتی گئی۔

یہ ان دین شناس علماء کرام اور دانشوروں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، جن کو رب العزت نے اس کام کے لئے پیدا کیا۔ عثمانی دورِ خلافت کے زوال کے بعد اسلام پر اور ایک حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں انگریز ساری دنیا پر حکمران بن گئے۔ عثمانی دورِ خلافت کو توڑنے کے بعد انگریزوں نے چاہا کہ اسلام جو کہ چودہ سو سال سے اپنی شان و شوکت مستقل طور پر محفوظ رکھے ہوئے ہے، کسی بھی طرح مغلوب بنکر اس کی صورت حسب منشا از سر نو تشکیل پائے۔ اس سیلاب میں انہوں نے مسلمانوں کے چند نام نہاد علماء بھی آپ نے ساتھ بہا لئے، مگر کچھ مقدس نفوس برابر میدان مقاومت میں ڈٹے رہے اور اسلام پر کوئی آنچ نہ آںے دی۔ اب آج دین اسلام کے خلاف ایک اور گہری سازش ہو رہی ہے، اس یورش کے پس پردہ کام کرنے والے یہودی جدیدیت پسند اور ان کے وظیفہ خوار اور ذہنی طور نام نہاد جدیدیت کے غلام مسلمانوں کے علاوہ ہندو انتہا پسند اور اسلام سے تعصب رکھنے والے حضرات کام کرتے نظر آرہے ہیں۔

خواتین کی شہادت کا مسئلہ ہو یا تعداد ازدواج کا مسئلہ، حق طلاق کا مسئلہ ہو یا سہ طلاق کا مسئلہ، تمام ایسے مسائل کھڑا کرنے کا صرف ایک ہی مقصد نظر میں ہوتا ہے، وہ یہ کہ کیسے مسلمانوں کے لئے مقرر کردہ شرعی قوانین میں جدیدیت اور مغربی تہذیب یا ہندو تہذیب کے موافق ترمین کی جائے۔ اس سازش کو عملانے میں وہ نام نہاد علماء بھی مسلم دشمن عناصر کے معاون ثابت ہوتے آئے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ذاتی مفادات کو ملی و دینی مفادات پر ترجیح دی ہے۔ دین اسلام کو بھی ایسے عناصر سے ہی زیادہ نقصان پہنچا ہے، جو اسلام کا لبادھا اوڑھے ہوئے الہیٰ دین کے خلاف ہو رہی سازشوں میں دشمن کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ اسلام آج بھی اپنے مخلص و متقی محافظوں کی تلاش میں ہے، جو اسلام کے خلاف دور حاظر کی یورش کو سمجھتے ہوئے اور موجودہ علمی ماحول او ضروریات کو ملحوظ رکھ کر اسلام ناب کے بنیادی اصولوں اور شریعت کے مضبوط دلائل والے ظابطوں کی حفاظت کے لئے کھل کر میدان عمل کا رخ کریں اور زمانے کی تیز و تند آندھیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا فریضہ انجام دیں۔ تمام تر سازشوں اور منصوبوں کے ہوتے ہوئے آج اسلام ایک بار پھر دین شناس افراد کی تلاش میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 819177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب