1
Wednesday 2 Oct 2019 08:17

آزادی کشمیر کا پنہاں دریچہ

آزادی کشمیر کا پنہاں دریچہ
تحریر: رسول میر

وزیر اعظم کی تقریر بجا طور پر ایک تاریخی تقریر تھی۔ کشمیر کی بھرپور نمائندگی اور اسلام کی دفاع کی رو سے حکمرانوں کی تاریخ میں یقیناً ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس موقع پر شاید سبھی کو میرے تجزیئے سے اختلاف ہو، لیکن کامیاب اقوم کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جو اقوام حقیقت کا کڑوا گھونٹ پینے کے بجائے خواب، خواہش اور زبانی جمع خرچ پہ بھروسہ کرتی ہیں، انہیں ہمیشہ زہر کا گھونٹ بھرنا پڑتا ہے، آزادی کشمیر کا راز بے باک تقریروں اور اقوام متحدہ کے قراردادوں میں نھیں بلکہ قومی یکجہتی، خود انحصاریت، آزاد خارجہ پالیسی، اقتصادی مضبوطی، مقاومت اور مسلح جدوجہد میں چھپا ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر پہ پاکستان کی پوزیشن بہت کمزور ہے کشمیر کی آزادی کے لئے اقوام متحدہ نامی صامت و ساکت بھوت سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں جو کسی صورت اس کیس کی سماعت کے لئے تیار نھیں ہے۔

گزشتہ نصف صدی اس بات کی گواہ ہے دوسری طرف ایران، ترکی اور چین کے علاوہ کوئی بھی ہمسایہ یا مسلم ممالک کھل کر اس مسئلے پر پاکستان کے ساتھ دینے کے لئے تیار نھیں ہے۔ موجودہ ہیومن رائٹس کے اجلاس اس بات کی دلیل ہے شنید یہ ہے کہ اس فورم پر ایجنڈا رکھنے کے لئے کل سینتالیس میں سے سولہ ممالک کے ووٹ درکار تھے وہ بھی پورا نہ کر سکے۔ قرار داد کی منظوری دور کی بات ہے عرب دنیا کو مسلمانوں کی حالت زار سے کوئی واسطہ نھیں وہ خود اپنے وجود کی بقا کے لئے امریکہ و اسرائیل کے چوکھٹ پہ سر رکھ کر سلامتی کی بھیک مانگ رہے ہیں جبکہ امریکہ و اسرائیل کو ہر محاز پہ ایران کی ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا ہے۔ لہٰذا اس گرتی ہوئی دیوار کے ساتھ مذید لٹک کے رہنا عقلمندی نہیں ہے۔

یہ تو تھی باہر کی کہانی اندر کی حقائق یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی صورت میں ایک اور بنگلہ دیش کے لئے راستے ہموار ہوجائینگے، کشمیری کنٹرول لائن کے دونوں طرف اس موقف کا بار بار اعادہ کر رہے ہیں کہ ہماری جدوجہد آزادی سے مراد نہ انڈیا نہ پاکستان کی بنیاد پہ ہے۔ جس کا سرچشمہ خود ریاست پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے بھت ساری کمزوریوں کا حامل بیانیہ ہےم جسے ہم حق خودارادیت کے نام سے جانتے ہیں حق خود ارادیت کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے اب کشمیر میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ ڈویلیپ ہو چکا ہے، جو نہ ہندوستان کو تسلیم کرتا ہے نہ پاکستان کو۔ جسے شکست دینا پاکستان کی مفاد میں ہے نہ بس میں۔ البتہ اس کی مثبت استعمال کا قوی امکان اب بھی موجود ہے لہٰذا پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر بھارت کی ڈھٹائی اور عالمی برادری کی بے حسی کے پیش نظر جدوجہد آزادی کو ایک نیا رخ دیں۔

حکومت پاکستان اور ملک پاسباں اداروں کو چاھئے کہ اب صرف اپنی عوام اور قوت بازو پہ بھروسہ کریں گرتی ہوئی عالمی طاقتوں پہ انحصار کرنے کے بجائے آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دیں۔ دوسروں کی جنگیں لڑ لڑ کے ہم اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ اب ہم کسی بھی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں لہٰذا اب شام، یمن، اور افغانستان میں سعودی و امریکی مفادات کی تحفظ کے لئے شیعہ کمیونٹی کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کردیں یہ وہی قوم ہے جن کے آباءو اجداد کے اثاثے سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ بانی پاکستان کے اولادوں پہ عرصہ حیات تنگ نہ کریں ان پہ اعتماد کریں وزیر اعظم عمران خان کے بقول ان کو آپ وہاں تک نہ دھکیلے جہاں سے یہ قیام کرنے پر مجبور ہوجائے ان کو اپنائیت کا احساس دلائیں ستر ہزار جنازے اٹھا کر بھی ریاست سے محبت کا دم بھرنے والی یہ قوم پاکستان کے نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔

 ملک میں قومی یکجہتی کو فروغ دیں ناراض بلوچوں کو سینے سے لگائے ان کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں کا ازالہ کریں پشتون قوم ہماری مضبوط بازو تھی جس پر بابائے قوم کو بڑا مان تھا آپ تسلیم کریں ہم نے گرم پانیوں تک پہنچنے کی روسی خواب سے ڈر کر امریکہ کی ہتھیار و سعودی عرب کی شدت پسندانہ ایمانی حرارت سے اس ہاتھ کو زخمی کردیا۔ آئے اپنے پشتون بھائیوں کے زخم پہ مرہم رکھے یقین جانئے یہ باغیرت قوم پھر آپ کے دفاع کے لئے کھڑی ہوجائے گی آج اگر ایم کیو ایم اس نہج پہ پہنچی، تحریک لبیک فوجی قیادت کو کافر قرار دیتے ہیں، پیپپلز پارٹی نے سندھو دیش کا نعرہ بلند کیا، ن لیگ فوج کے مقابل آگئے تو اس میں قصور کس کا ہے۔ امریکہ کی خوشنودی کے خاطر اس ملک میں اغیار پرست اور انگریزوں کے پروردہ باقیات کو سیاست میں کھلی چھٹی دیکر ملک کے باوفا بیٹوں کو ان کے رحم و کرم پہ کس نے چھوڑ دیا ہے آئے اس بھٹکی ہوئی عوام کے ہاتھوں میں اغیار پرستی کے بجائے اسلام، قومیات اور حب الوطنی کا نصاب تھمائے- کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل ختم کرکے ان کو منطقی انجام تک پہنچائے تمام ناراض سیاسی جماعتوں کو قومی یکجہتی کے لڑی میں پرودیں۔

گلگت بلتستان کے عوام آج اگر مایوس ہیں، نوجوانوں کی آنکھوں میں ناامیدی کے آثار نظر آتے ہیں، زبان پر گلے شکوے اگر ہے تو ان کو غدار اور غیروں کی آلہ کار سمجھنے کے بجائے ستر سالوں سے رائج نا انصافیوں کا سلسلہ بند کرکے گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ قرار دیں، جی بی کے عوام پاکستان کو دل و جان سے چاھتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ ہم کل بھی پاکستان سے الحاق کے خواہاں تھے اور ہم آج بھی یہی خواہش رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے والے نااہل حکمران بالآخر پاکستان کے اپنے ہی زیر انتظام گلگت بلتستان کو اپنا حصہ قرار دینے سے کیوں کترا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو محض ووٹ بنک کے لالچ میں مسئلہ کشمیر سے نتھی کرنا ریاست پاکستان کی ایک تاریخی غلطی تھی۔ زندہ قوموں کی تاریخ میں غلط فیصلے ہوتے تو ان کا فوری زالہ بھی کیا جاتا ہے اب وقت آچکا ہے کہ پاکستان اپنی بقا کے خاطر ان غلطیوں کا ازالہ کرے۔

کشمیر اور یہاں کی فضا میں زمین و آسمان کا فرق ہے دونوں طرف عوامی رائے کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی کوشش کریں لہٰذا گلگت بلتستان مکمل آئینی حثیت دیکر ایک صوبے کی حثیت سے پاکستان میں ضم کیا جائے اور آزاد کشمیر کی موجودہ برائے نام سیٹ اپ کو ایک مکمل اور حقیقی خودمختار حلیف ریاست میں تبدیل کرکے اپنی جغرافیائی حدود کی حفاظت اور اس میں وسعت پیدا کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو نئی رنگ اور امنگ دیکر ہندوستان کے لئے سخت سرپرائز دے سکتے ہیں یوں اب کے بار اس حتمی الوقوع نئی بنگلہ دیش کا پانسہ آپ کے ہاتھ میں ہو گا اور ہندوستان کا بٹوارہ شروع ہوجائے گا۔ آج اگر لبنان، شام، عراق اور یمن میں دنیا کی ساری سپر طاقتیں ایران کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہے تو وہ ایران کی جدوجہد کے اسی ماڈل کی وجہ سے ہیں جس میں جدوجہد کرنے والی عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنی جنگ، اپنی سر زمین پر اپنی بقا کے لئے لڑ رہے ہیں آپ مخلصانہ طور پر ان کو اپنے پاوں پہ کھڑا کرنے کی کوشش کریں تو  آپ کے مشترکہ دشمن کا پاوں وہ خود توڑ دینگے جب  آپ کے دشمن کی پاوں ٹوٹیںگے تو آپ خود بخود اپنے پاوں پہ کھڑے ہوجائیں گے۔

اسلام زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
خبر کا کوڈ : 819209
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب