0
Monday 30 Sep 2019 22:51

جبری گمشدگان۔۔۔ یہاں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا

جبری گمشدگان۔۔۔ یہاں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

زندہ رہنے کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، مچھلی خشکی پر نہیں جی سکتی، مچھلی کو جینے کیلئے پانی کی ضرورت ہے، انسان پانی میں زندہ نہیں رہ سکتا، انسان کو زندہ رہنے کیلئے خشکی چاہیئے، اب آپ سمجھ ہی چکے ہونگے کہ ہمارے ہاں غریب کے بچے ہی جبری طور پر لاپتہ کیوں ہو جاتے ہیں!؟ بات بہت آسان اور واضح ہے، فرعونوں، امیروں، رئیسوں اور نوابوں کے معاشرے میں ایک غریب آدمی زندگی نہیں گزار سکتا، ایک سفید پوش آدمی چاہے جتنی مرضی ہے محنت کر لے، پہلے تو اس  معاشرتی سسٹم میں اس کے بچے اسی کی طرح محنت کش اور فاقہ کش ہی  رہیں گے اور اگر کہیں استاد، صحافی، ڈاکٹر، وکیل یا مولوی وغیرہ بن بھی گئے تو انہیں نامعلوم ٹارگٹ کلر مار دیں گے اور یا پھر غداری کے جرم میں انہیں اٹھا لیا جائے گا۔

گذشتہ روز بھی لاہور اور راولپنڈی میں مسنگ پرسنز کیلئے احتجاج کیا گیا، آپ ان مسنگ پرسنز کے خاندانوں کا سروے کر لیں، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ان کا اصلی جرم یہ ہے کہ یہ سفید پوش خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، یہ سیلف میڈ لوگ ہیں، یہ محنت اور زحمت کے ساتھ امراء کے معاشرے میں جینے والے ہیں۔ ان میں سے کئی تو ایسے بھی ہیں، جو اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں اور کچھ تو دو دو اور تین تین خاندانوں کے سرپرست ہیں۔ ان کا قصور یہ ہے کہ ان کے خاندانی پسِ منظر میں نامی گرامی سمگلر، بلیک میلر اور ارب پتی افراد نہیں ہیں۔ ورنہ جائیے اور دیکھئے ہمارے ہاں ارب پتی بلوچ، لکھ پتی پٹھان، کروڑ پتی پنجابی، دولت مند سندھی یا مالدار شیعہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اگر بلوچ ہے اور غریب ہے، پٹھان ہے اور نادار ہے، پنجابی ہے اور مفلس ہے، سندھی ہے اور تہی دست ہے، شیعہ ہے اور مسکین ہے تو پھر وہ غدار بھی ہے اور ملک و قوم کیلئے خطرہ بھی۔

لمحہ فکریہ ہے کہ جس سے اپنا پیٹ نہیں پلتا، وہ اس ایٹمی ملک کیلئے خطرہ ہے اور جو دوسروں کا پیٹ کاٹ کر کھاتا ہے، اس سے کسی کو خطرہ نہیں۔ جو بلوچ ہے اور ارب پتی ٹرانسپورٹر ہے، وہ چاہے تو مسافر گاڑیوں کو مال بردار گاڑیوں کے طور پر استعمال کرے، لوگوں سے بڑھا چڑھا کر کرایہ وصول کرے، غیر قانونی لوگوں کو ملکی سرحد عبور کروائے، اس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں، اس کے بارے میں کوئی ادارہ حساس نہیں اور ریاست کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن اگر کسی غریب بلوچ کے بچے نے اونچی آواز میں بات کر دی یا کوئی نعرہ لگا دیا تو پھر اس کی خیر نہیں۔

پٹھان اس وقت تک محفوظ ہے، جب تک اس کے پاس دھونس اور پیسہ ہے، وہ چاہے سرحدی گاندھی کہلائے یا پاکستان کو گالیاں ہی دے، لیکن اگر وہ غریب ہے تو پھر ملک کیلئے خطرہ ہے اور پھر وہ غدار بھی ہے۔ پنجابی کی پشت پر بھی اگر پیسہ اور تھپکی ہے تو وہ جو چاہے کرے، اس سے کسی کو کیا خطرہ ہے، لیکن اگر اس کی پشت خالی ہے تو پھر اس کی ملک دشمنی کی بدبو دور دور تک سونگھی جائے گی۔ یہی حال سندھی کا بھی ہے، اگر وہ  پیسے، زمینوں اور جائیداد کے اعتبار سے واقعی بھٹو ہے تو پھر مر کر بھی زندہ رہے گا اور اگر پیسے، زمینیں اور جائیداد نہیں ہے تو پھر وہ ملک و قوم کیلئے شدید خطرہ ہے۔

اسی طرح وہ شیعہ جو سرِ عام دوسروں کے مقدسات کی توہین کرتا ہے، گالیاں دیتا ہے اور ہر وقت مرنے و مارنے پر تُلا رہتا ہے، اس سے ہمارے ہاں ملک و قوم کو کوئی خطرہ نہیں، چونکہ اس کی جیب میں ڈالر ہیں، لیکن ایسا شیعہ جس کی جیب ڈالروں سے خالی ہے، اس کا خطرہ فوراً محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غربت فرعونوں کیلئے خطرہ ہے، اس خطرے سے نمٹنے کا آسان نسخہ یہی ہے کہ غریبوں کا خاتمہ کر دیا جائے، غریبوں کے خاتمے کیلئے ہمارے ہاں جہاں جگہ جگہ جعلی ادویات، جعلی ڈاکٹرز، بجلی کے شارٹ کھمبے، خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، خودکش حملہ آوروں اور ٹارگٹ کلرز کی سہولت موجود ہے، وہیں جبری اغوا کرنے والے لوگوں کی خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اب عوام کو اچھی طرح سے یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ جس طرح مچھلی خشکی پر نہیں جی سکتی، اسی طرح طاقتوروں، دولت مندوں، بلیک میلروں، سمگلروں اور امراء کے اس معاشرے میں کمزور اور غریب لوگ نہیں جی سکتے۔ کمزور اور غریب لوگ واقعتاً خطرہ ہیں اس فرعونی معاشرے کیلئے، لہذا ہمارے معاشرتی فرعونوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ یہاں ہر قیمت پر غریب اور کمزور کو دبا کر رکھا جائے گا۔

اگر ہم غریب اور کمزور ہیں اور ہمیں یہ گھمنڈ ہے کہ ہم اس ملک کے شریف شہری ہیں تو پھر ہمیں کسی تھانے میں، کسی ظالم وڈیرے، کسی سمگلر ٹرانسپورٹر، کسی کرپٹ ایم این اے یا کسی ستمگر جنرل کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا تجربہ کرکے دیکھنا چاہیئے، جہاں  کمزور اور غریب کو تھانے، کچہری، عدالتوں، اسمبلیوں اور قانون سے انصاف نہیں ملتا، جہاں غریبوں کے پینے کیلئے صاف پانی اور سانس لینے کیلئے صاف ہوا تک میسر نہیں، وہاں کسی غریب کے بچوں کو جینے کا کیا حق ہے!؟ اور جنہیں جینے کا کوئی حق نہ ہو، انہیں جعلی دوائیاں کھلا کر مار دیا جائے یا جبری طور پر لاپتہ کر دیا جائے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 819313
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب