0
Thursday 3 Oct 2019 01:41

ڈونالڈ ٹرامپ اور اسکی سیاست(2)

ڈونالڈ ٹرامپ اور اسکی سیاست(2)
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
برطانیہ کی شاہی سفارتی سروس کے سربراہ سائمن میک ڈونالڈ نے کہا ہے کہ میری چودہ سالہ ملازمت میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک سربراہ مملکت نے برطانوی سفیر کے ساتھ تعاون و کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ کم ڈیریک نے اپنی ای میلیز اور رپورٹوں میں برطانوی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اس لیے ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے سے باہر نکلے ہیں، کیونکہ یہ ایٹمی معاہدہ باراک اوبامہ کے دور میں انجام پایا تھا۔ برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور اس کے قریبی مشاورین منجملہ مائیک پمپیو سے اس کے مختلف مسائل پر واضح اختلافات موجود ہیں اور ڈونالڈ کے قریبی لوگ وزیر خارجہ مائیک پمپیو، نائب صدر مائیک پنس اور سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن تک باریک بینی سے یہ نہیں بنا سکتے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے جے سی پی او سے کیوں باہر آیا ہے۔ برطانوی سفیر کم ڈیریک کا اپنی ایک اور ای میل میں رقمطراز ہیں کہ ٹرامپ کے پاس اگلے دن کی کوئی اسٹریٹیجی نہیں ہوتی اور امریکی وزارت خارجہ کا ٹرامپ سے رابطہ اور دیگر ممالک کے سفیروں بالخصوص اپنے اتحادیوں سے رابطے اتنے کمزور ہیں کہ ان ممالک سے صلاح مشورہ بھی ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے مختلف اقدامات میڈیا کی شہ سرخیوں کا باعث بنتے رہتے ہیں، لیکن گذشتہ ہفتے امریکی صدر اور ان کی اہلیہ ملانیا کی ایک تصویر نے سب کو حیران و پریشان کر دیا۔ یہ تصویر ٹرامپ اور ان کی اہلیہ کی ایک ایسے خاندان کے ساتھ لی گئی تھی، جو چند دن پہلے ہونے والی فائرنگ کے ایک واقعہ میں بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ٹرامپ اور ان کی اہلیہ نے اس بچے کے ساتھ جس کے والدین اس فائرنگ میں مارے گئے تھے، کے ساتھ اس انداز میں تصویر لی ہے، جس پر کڑی تنقید ہو رہی ہے۔ یہ تصویر اس دورے کے دوران لی گئی، جب ٹرامپ اور ان کی اہلیہ اپل پاسو ہسپتال کا سرکاری دورہ کر رہے تھے۔ فائرنگ کے حادثے میں ہلاک اور زخ٘می ہونے والوں کو اس ہسپتال میں لایا گیا تھا۔ اس تصویر میں ہسپتال کے ڈاکٹر زخمیوں کے علاج کے حوالے سے ٹرامپ کو بریفنگ دے  رہے ہیں اس تصویر میں مسز ٹرامپ اس دو ماہ کے بچے کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہیں، جس کے والدین وال پارٹ شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔ اس تصویر میں ملانیا ہنس رہی ہے اور ٹرامپ اپنی شہادت کی انگلی سے فتح و کامیابی کا نشان بنا رہے ہیں۔ اس تصویر میں بچے کے چچا اور پھوپھی انتہائی افسردہ کھڑے نظر آرہے ہیں، اس بچے کو بچانے کے لیے والدین نے اپنے آپ کو قربان کر دیا تھا۔

اس تصویر کر امریکی میڈیا نے خوب اچھالا اور سب کو بتایا کہ ٹرامپ اور مسز ٹرامپ اس غمناک اور افسردہ ماحول میں بھی مسکرا مسکرا کر اور انگلی سے فتح کا نشان بنا کر گویا اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سی این این نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرامپ اور مسز ٹرامپ کا رویہ سوگ اور افسوس کی بجائے کوئی اور تاثر دے رہا ہے۔ سی این این نے ٹرامپ کے اس غیر مناسب رویئے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غم اور افسوس کے موقع پر خوشی و مسرت کا اظہار کوئی نارمل ذہن والا فرد ہرگز نہیں کرسکتا۔ انڈپینڈینٹ نے بھی ہسپتال کے ڈاکٹروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ صدر امریکہ کا رویہ ماحول اور افسوسناک واقعہ سے میل نہیں کھاتا تھا، جس نے بچے کے لواحقین سمیت ہسپتال کے عملے کو بھی مایوس کیا ہے۔

معروف تجزیہ نگار بیرن تھاتیل اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک ایسے بچے کے ساتھ جس کے والدین کچھ دیر پہلے مارے گئے ہوں، امریکی صدر کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ ایسے بچے کو دیکھ کر انسان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں،  جبکہ مسٹر او مسز ٹرامپ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ تصاویر بنا رہے ہیں۔ معروف نیوروسرجن بریان ویلیم جانز کہتے ہیں کہ میں یہ تصویر دیکھ کر حیران و پریشان رہ گیا ہوں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ میں کسی اور موقع کی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ یتیم بچے کے ساتھ مسکراتے ہوئے اور فتح کا نشان بناتے ہوئے ٹرامپ کی تصویر میرے لئے ناقابل فہم ہے۔ کیا یہ تصویر ایسے بچے کے ساتھ بنانا مناسب ہے، جس کے والدین کچھ دیر پہلے اس دنیا سے جا چکے ہوں۔ معروف قانون دان جیمی اوگرو کہتے ہیں کہ میں اس تصویر کو دیکھ کر برہم اور سخت غصے کی حالت میں ہوں۔

ڈونالڈ ٹرامپ کی شخصیت کی ایک اور خصوصیت اس کی خود پسندی اور نرگسیت ہے، یہی وجہ ہے کہ ذہین اور باشعور افراد ان کے ساتھ زیادہ دیر کام نہیں کرسکتے۔ گذشتہ اڑھائی سالوں میں چالیس سے زیادہ افراد ان کی کابینہ اور ان کے ذاتی اسٹاف کو چھوڑ کر جا چکے ہیں یا ٹرامپ نے انہیں نکال دیا ہے۔ ان چھوڑ کے جانے والے افراد میں ایک وائٹ ہائوس کے پبلک ریلیشنگ افسر اوماروسا مائیگو نیومن کا نام لیا جا سکتا ہے، جنہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں ری پبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ 2020ء کے صدارتی انتخابات میں کسی اور کو صدارتی امیدوار بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرامپ دوسروں سے وفا اور ایثار کی توقع کرتے ہیں، لیکن خود اس کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی مثال ون وے روڈ کی طرح ہے، وہ دو طرفہ تعاون، وفا یا ایثار پر ہرگز یقین نہیں رکھتے۔ وہ دوسروں سے جس بات کی توقع کرتے ہیں، خود اس رویئے کو اپنانے کے قائل نہیں ہیں۔

وائٹ ہائوس کا ایک اور افسر جس کو ٹرامپ نے وائٹ ہائوس میں داخلے کے گیارہ دن بعد اپنے عہدے سے ہٹا دیا تھا، اس کا نام آنٹونی اسکاراموچی ہے۔ ٹرامپ اور آنٹونی دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ اسکارا موجی اینٹونی کا کہنا ہے ٹرامپ اپنے راستے سے گمراہ ہوچکا ہے، جبکہ ٹرامپ نے اس اسکارا موجی کو موقع پرست قرار دیا ہے۔ اسکارا موجی اپنے ٹوئٹ میں لکھتا ہے کہ میں نے ٹرامپ کے ساتھ بہترین انداز میں ملازمت کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے امور اور معاملات کو پوری توجہ اور یکسوئی سے انجام دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ٹرامپ کا رویہ اور بیانات ہمیشہ طنز آمیز اور تخریبی ہوتے تھے۔ اس کے رویئے اور معاشرے کے بارے بالخصوص سوسائٹی کے اقتصادی مسائل کے بارے ٹرامپ کے خیالات کو تحمل کرنا انتہائی دشوار کام ہے۔ وائٹ ہائوس کے اس سابق افسر نے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ ٹرامپ کے نسل پرستانہ اور تفرقہ انگیز ٹیویٹس نیز اس کے عام محافل میں دیئے گئے بیانات ملک کے فائدے میں نہیں ہیں۔

ڈونالڈ ٹرامپ کی شخصیت کی ایک اور علامت اس کی مسلسل دورغگوئی اور غلط بیانیاں ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنے 928 روزہ دورصدارت میں 12009جھوٹ یا غلط بیانیاں یا جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ ٹرامپ اکثر اوقات غلط اعداد و شمار بتاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صدر امریکہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ دن میں اوسطاً تیرہ جھوٹ، غلط بیانیاں یا جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ ان جھوٹوں مین بیس فیصد مہاجرین اور تارکین وطن کے بارے میں ہیں، ان غلط بیانیون اور دعووں میں اکثریت تجارت، اقتصاد اور امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت سے متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر ٹرامپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقتصاد تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک تجزیئے میں ثابت کیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ کے 18 فیصد جھوٹ اور بے بنیاد دعوے ٹیوٹر کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے علاوہ سی این این نے بھی اس موضوع پر رپوٹیں تیار کی ہے۔ سی این این کا کہنا ہے کہ ٹرامپ کے دعوئوں اور جھوٹے بیانات کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ سی این این کی تحقیقات کے مطابق ٹرامپ نے ایک ہفتے میں 36 جھوٹ بولے ہیں اور ان جھوٹوں میں سب سے نمایاں جھوٹ انہوں نے سیاہ فاموں اور رنگین فاموں کے بارے میں بولے ہیں۔ ٹرامپ نے اس کے باوجود کہ سیاہ فاموں کے شہر بائی مور کے نمائندے کی توصیف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھ پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گندے اور چوہوں سے بھرے شہر کی صفائی کرو۔ اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ میں نے سیاہ فاموں کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے انجام نہین دیئے ہیں۔ سی این این نے امریکی صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے سیاہ فاموں میں انجام پانے والے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے سیاہ فاموں کی اکثریت ڈونالڈ ٹرامپ کو پسند نہیں کرتی۔

سی این این کی اس رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ ٹرامپ نے گذشتہ ہفتے جو واضح جھوٹ بولا ہے، وہ یکم اگست کی پہلی انتخابی ریلی ہے، جسے انہوں نے ایران کے خلاف قرار دیا ہے۔ ٹرامپ نے اپنے حامیوں کے اجتماع میں کہا تھا کہ وہ امریکہ کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے سے باہر نکلے ہیں۔ ٹرامپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو 150 ارب ڈالر دیئے ہیں اور امریکہ نے حال ہی میں 109 ارب ڈالر نقد ایران کو دیئے ہیں۔ سی این این نے امریکی صدر کے اس جھوٹ کو پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرامپ نے 150 ارب ڈالر کی رقم کے بارے مین مبالغہ سے کام لیا ہے۔ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ اور ان کی ٹیم نے ایران کو واپس کی گئی رقم کے جو اعداد و شمار جاری کیے تھے، وہ اس سے بہت کم تھے، جن کا ڈونالڈ ٹرامپ اعلان کرتے پھرتے نظر آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 819322
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب