0
Monday 30 Sep 2019 20:08

انصار اللہ یمن کے حملے اور عالمی سیاست(1)

انصار اللہ یمن کے حملے اور عالمی سیاست(1)
 تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

یمن کے مجاہدین نے سترہ اگست کو سعودی عرب کی آئل کمپنی آرامکو پر ڈرونز کے ذریعے جو حملہ کیا، اس نے علاقائی اور عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ امریکی ایوان ہوں یا آل سعود کے شاہی دربار، اقوام متحده کا ہیڈ کواٹر ہو یا جنرل اسمبلی کا اجلاس، ہر طرف آرامکو پر حملہ اور اس کے نتائج پر گفت و شنید جاری ہے۔ انصار الله یمن کے اس حملے نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس حملے کے سیاسی اور اقتصادی، سلامتی، سفارتی حلقوں سمیت کئی موضوعات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ گذشتہ دو ماه میں یمنی فورسز نے سعودی عرب میں تین اہم حملے کئے ہیں۔ پہلا حملہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے دمام میں یکم اگست کو کیا گیا، یہ پہلی بار تھی کہ یمنی فورسز نے ایسا میزائل داغا، جس نے 1300 کلو میٹر اندر گھس کر سعودی تنصیبات کو نشانہ بنایا، یہ علاقہ صنا سے 1300 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ روسیا الیوم نے اس حملے پر تبصره کرتے ہوئے اسے غیر معمولی اور بے مثال حملہ قرار دیا۔ اس حملے میں جو میزائل استعمال کیا گیا، وه ابھی تک سعودی عرب پر داغے جانے والے میزائل حملوں سے اس لیے مختلف تھا کہ اس کی رینج بہت زیاده تھی، کیونکہ اس سے پہلے یمنیوں نے زیاده سے زیاده رینج کا جو میزائل داغا تھا، وه مشکل سے ریاض تک پہنچا تھا۔

دوسرا بڑا حملہ ستره اگست کو کیا گیا، یہ سعودی عرب میں انجام پانے والا اس وقت تک کا سب سے بڑا اور دور ترین علاقہ کو نشانہ بنانے والا ڈرون طیاره تھا۔ یہ ڈرون طیاره سعودی علاقے میں 1200 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے الشیبہ آئل ریفائنری تک پہنچا، یہ پہلی بار تھی کہ یمنیوں کا ڈرون طیاره 1200 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے  ہدف تک پہنچا تھا۔ اس حملے میں دس ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا۔ تیسرا بڑا حملہ بقیق اور خریص پر کیا گیا۔ یہ ستره اگست کو انجام پانے والے حملے سے بڑا تھا، کیونکہ اس سے سعودی تنصیبات کو جو نقصان پہنچا، وه الشیبہ سے کہیں زیاده تھا۔ الشیبہ آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے سے سعودی عرب کے ایک میلیون بیرل تیل کی سپلائی رک گئی، جبکہ بقین اور خریص پر ہونے والے ڈرون حملے سے سعودی عرب کی نصف تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس کا تخمینہ 5 ملین سات لاکھ بیرل یومیہ لگایا گیا۔

روٹیر کی رپورٹ کے مطابق بقیق آئل کمپلکس آرامکو کمپنی کا سب سے بڑا تیل کا ذخیره ہے۔ یہ دمام سے صرف 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دمام سعودی عرب کے اہم شہروں میں شامل ہے جبکہ خریص آئل ریفائنری کروڈ آئل کا سعودی عرب کا سب سے بڑا ذخیره ہے، جہاں پر تیل لا کر گیس کو اس سے علیحده کیا جاتا ہے۔ یہاں گیس کو بعد میں مائع میں تبدیل کرکے مطلوبہ مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ بقیق آئل ریفائنری کو بین الاقوامی حیثیت بھی حاصل ہے، کیونکہ سعودی عرب کی یہ ریفائنری پائپ لائن کے ذریعے بحرین سے متصل ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے 35000 بیرل تیل یومیہ بحرین کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس پائپ لائن کی لمبائی 110 کلو میٹر ہے۔ 42 کلومیٹر سعودی عرب میں 42 کلو میٹر پانی کے اندر اور 25 کلو میٹر بحرین کی سرزمیں پر۔ بقیق آئل تنصیبات آرامکو کمپنی کی بنیادی تنصیبات ہیں، کیونکہ مشرق سے مغرب علاقے تک جانے والا تمام تیل اس کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ مشرقی علاقے کی تیل کی تمام تر سپلائی بقیق سے منسلک ہے۔ خریص کو بھی دنیا کی تیل کی بڑی تنصیبات اور آئل ریفائنریوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ خریص میں روزانہ 120 ملین بیرل یومیہ لایٹ آئل تیار کیا جاتا ہے۔ تیل کی اتنی بڑی تنصیبات پر یمنی حملے اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یمنی مجاہدین اتنی بڑی کارروائی بھی انجام دے سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم کے بقول بقیق، سعودی تیل کی صنعت کا دل ہے، پس انصارالله اور یمنی مجاہدین نے سعودی عرب کی تیل کی صنعت کے دل کو اپنے حملے کا نشانا بنایا۔ بقیق آئل ریفائنری پر حملے کے بارے میں معروف میگزین بلوم برگ لکھتا ہے کہ اس حملے سے سعودی عرب پر دل کا دوره پڑگیا ہے۔ اس حملے سے یمنیوں نے سعودی اقتصاد کو اپنے نشانے پر لیا۔ یمنیوں نے یہ حملہ یمن پر ہونے والے مسلسل حملوں کا منہ توڑ جواب تھا۔ یمنیوں نے اس حملے سے آل سعود کی اقتصادی صورت حال کو بری طرح متاثر کیا اور ان کے جنگی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ یکم اگست کا الدمام کا حملہ بھی اپنی اہمیت کے لحاظ سے کم نہ تھا، کیونکہ دمام سعودی عرب کا اہم اقتصادی شہر ہے اور اس شہر کو مختلف کمپنیوں کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ آرامکو تیل کمپنی کی تیل کی خرید و فروخت کے اکثر امور اسی شہر میں انجام پاتے ہیں۔ الشیبہ آئل ریفائنری سے بھی روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ لیکن 14 ستمبر والا حملہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ اس حملے میں بقیق آئل ریفائنری کے تیره مختلف حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دلچسب بات یہ ہے کہ  بیمہ کمپنیوں نے اس حملے اور اس سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ انشورنس کمپنیوں نے اسے ایک جنگی حملے سے تعبیر کیا ہے۔

رای الیوم نے اپنی اشاعت میں پچاس سال تک مختلف آئل کمپنیوں کے مشاور رہنے والے ماہر عبدالحق زلو کا تجزیہ شائع کیا ہے۔ خریص اور بقیق پر ہونے والے حملوں کے نقصان کا تخمینہ 350 ملین ڈالر روزانہ ہے کیونکہ اس میں 5 ملین سات لاکھ بیرل یومیہ تیل کی سپلائی رک گئی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی گیس کی نصف سپلائی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جس سے سعودی عرب کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا خساره ہوگا، جو ماہانہ 15 ارب ڈالر بنے گا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اس حملے سے بن سلمان کے 2030ء والے اقتصادی ویژن کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے بن سلمان کے کئی خواب ویران ہوگئے۔ بن سلمان نے 2030ء ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر توانائی الفالح کو وزارت سے ہٹایا تھا، کیونکہ اس نے آرامکو کے پانچ فیصد شییر کو بیچنے کے فیصلے پر اختلاف کیا تھا، جو پانچ فیصد شیئر کی ملکیت 500 ارب ڈالر بنتی ہے۔ بن سلمان نے الفالح کی جگہ عبدالعزیز بن سلمان کو وزارت دی، تاکہ وه آرامکو کے شیئر بیچنے میں رکاوٹ نہ بنے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ آرامکو پر یمینوں کے حالیہ حملے سے آرامکو کے شیئرز کی فروخت کا معاملہ کھدائی میں پڑ جائے، کیونکہ بیرونی سرمایہ گزاری کے لیے سب سے اہم چیز داخلی سکیورٹی ہوتی ہے، جو اس حملے کی وجہ سے غیر محفوظ ہوکر ره گئی ہے۔

14 ستمبر کے حملے نے سعودی عرب اور اس کے حواریوں کے سکیورٹی سسٹم کو طشت از بام کر دیا اور اب بڑی بڑی سرمایہ گزار کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ گزاری کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں گی۔ یمن کے دارالحکومت صنعا سے 1200 کلو میٹر دور واقع سعودی عرب کی تنصیبات انصارالله کے نشانے پر ہیں اور یہ وه حقیقت ہے، جس سے کوئی آنکھیں چرا نہیں سکتا۔ انصار الله کی اس صلاحیت نے سعودی عرب اور اسکے حواریوں کی نیندوں کو حرام کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ یمنیوں نے جو ڈرون طیارے استعمال کیے ہیں، ان کی قیمت پندره ہزار ڈالر ہے، یعنی انصار الله نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے سعودی عرب کے 500 ارب ڈالر کے سودے کو خطرِ سے دوچار کر دیا ہے۔ اس حملے کے بعد سعودی عرب کی شیئر مارکیٹ سقوط کر گئی اور خلیج فارس کے بعض ممالک میں حصص کی مارکیٹ آخری حدود کو چھونے لگی اور بعض کمپنیوں بالخصوص سعودی عرب کی سابک کمپنی کے شیئر بری طرح زوال کا شکار ہوگئے۔ اس حملے نے سعودی عرب سمیت خطے کی اقتصادی صورت حال کو  نئے چیلنجوں سے دوچار کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 819364
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب